جولائی 4, 2016

مسلمان نہیں مگر روزے رکھتے ہیں

 

کرٹیسی بی بی سی اردو

گنگا جمنا تہذیب شمالی بھارت کی ایک منفرد پہچان ہے۔ اس تہذیب کی خاصیت یہ ہے کہ لوگ مختلف مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے تہواروں میں شامل ہوتے ہیں۔

آج کل رمضان کا مبارک مہینہ چل رہا ہے اور اس ماہ میں عام طور پر روزے کا ذکر آنے پر کسی مسلم شخص کی تصویر ہی ذہن میں ابھرتی ہے۔

لیکن روزہ رکھنے والوں میں غیر مسلم لوگ بھی ہیں۔ آپ سے ایسے ہی کچھ لوگوں سے ملاقات کرواتے ہیں جن میں سے ایک شخص خود کے ملحد ہونے کا دعوی بھی کرتے ہیں۔


پٹنہ میں رہنے والے امریندر باغی گذشتہ بیس برسوں سے رمضان کے مہینے میں روزہ رکھتے آ رہے ہیں

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں رہنے والے امریندر باغی گذشتہ بیس برسوں سے رمضان کے مہینے میں روزہ رکھتے آ رہے ہیں۔ پیشے سے وکیل اور بی جے پی کے لیڈر امریندر پہلے ملحد تھے۔ لیکن حالات کچھ ایسے ہوئے کہ اپنے چھوٹے بیمار بھائی سمریندر کمار کے علاج کے سلسلے میں انہیں نوے کے عشرے میں ایک صوفی بزرگ کے پاس جانا پڑا۔

ضلع دربھنگہ کے ان صوفی بزرگ کے دربار میں جانے کے بعد وہ تمام مذاہب کے تہواروں میں شامل ہونے لگے۔ روزہ رکھنا بھی اسی کڑی کا ایک حصہ ہے۔ چھوٹے بھائی سمریندر بھی اپنے بھائی ہی کی طرح روزہ رکھتے ہیں۔


امریندر باغی کہتے ہیں کہ معاشرے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے مقصد سے وہ روزہ رکھتے ہیں

امریندر باغی کہتے ہیں: ’معاشرے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے مقصد سے میں روزہ رکھتا ہوں۔ ہندو مسلم سکھ عیسائی اگر مل کر ایک دوسرے کے تہوار منانے لگیں تو آپس میں کسی طرح کا بھی اختلاف نہیں ہو سکتا۔‘

پیشے سے ریئل سٹیٹ کا کاروبار کرنے والے پربھات جوزف ٹھاکر کا تعلق عیسائی مذہب سے ہے اور وہ ضلع بیتیا کے رہنے والے ہیں۔ لیکن آج کل ٹھاکر مغربی بنگال کے آسنسول میں رہتے ہیں۔

پربھات کہتے ہیں: ’میرے مسلم دوستوں نے بتایا کہ روزہ رکھنے سے امن و سکون حاصل ہوتا ہے، ذہن میں اچھے خیالات آتے ہیں اور جسم بھی تندرست رہتا ہے۔ دوستوں سے متاثر ہونے پر میں نے بھی روزہ رکھنا شروع کیا۔‘


پربھات کا روزہ رکھنے کا اپنا طریقہ ہے۔ وہ سحری اور افطار کے وقت بائبل پڑھتے ہیں۔

سماجی کارکن اور دستاویزی فلم ساز میگناتھ خود کو ملحد بتاتے ہیں لیکن پھر بھی وہ روزہ رکھتے ہیں۔ انہیں ایک ڈکیومنٹری فلم کے لیے قومی ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

1989 کے رمضان کے مہینے میں وہ دلی کی جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں ایک فلم کی ایڈنٹنگ کر رہے تھے۔ اس وقت وہاں شام کے وقت ان کے آس پاس بہت سے لوگ افطار کرنے کے لیے بیٹھتے تھے۔

رانچی کے رہنے والے میگھناتھ بتاتے ہیں: ’والد بچپن میں سکھاتے تھے کہ حج پر جانے سے پہلے سارا قرض ادا کرنا ضروری ہوتا ہے، دل سے دشمنی صاف کرنی پڑتی تھی۔ اس طرح اسلام کے بارے میں جو تھوڑا بہت میں نے سیکھا تھا اسے جامعہ ملیہ میں اور وسعت ملی۔ اور پھر اسلام کو سمجھنے کی کوشش میں میں روزہ رکھنے لگا۔‘

پٹنہ یونیورسٹی کے 83 سالہ سبکدوش پروفیسر سچدآنند سنگھ ساتھی سنہ 1985 سے روزہ رکھتے آئے ہیں۔ وہ صرف ایک دن رمضان کے آخری جمعے کو روزہ رکھتے ہیں۔

پروفیسر سچدآنند روزہ رکھنے کے آغاز کے بارے میں بتاتے ہیں: ’مجھے ایک دوست نے 1984 میں قرآن بطور تحفہ پیش کیا۔ اس کے بعد ایک دوست حج کرنے کے بعد واپس لوٹے تو وہاں سے میرے لیے ٹوپی لےکر آئے۔ اسی کے بعد میرے ذہن میں روزہ رکھنے کے تاثرات جاگنے شروع ہوئے۔ میں روزہ رکھتا ہوں اور لوگ بھی مجھے اس کے لیے میری حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔‘

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget