جولائی 29, 2016

ممتاز حسین گوہر کے لئے : تحریرڈاکٹرعنایت اللہ فیضیؔ

 



ایک فلمی گیت کا خوبصورت اور یاد گار مصرعہ ہے ’’کچھ لو گ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے ‘‘پھسو ٹائمز کے حوالے سے شندور اور ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی کے زیر عنوان ممتاز حسین گوہر صاحب کی فکر انگیز اور پُر مغز تحریر پڑھنے کو ملی۔

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اُس نے کہا
میں نے جانا گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
ہماری دور مندی مشترک ہے ہمار ا دکھ مشترک ہے ہماری سوچ اور فکر ایک ہی ہے صرف سال وماہ کا سوال ہے 2010 ؁ء کا سال وہ سال تھا جب ہمارے پیارے دوست ، نامور شاعر اور دانشور محمد امین ضیاء کی ہو نہار بیٹی محترمہ سعدیہ دانش کے ذریعے پہلی بار یہ سوال اُٹھایا گیا کہ شندور پولو فیسٹول کی میزبانی گلگت بلتستان کو دی جائے حالات ساز گار تھے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کو صدر پاکستان آصف علی زار دری کا دست راست خیال کیا جا تا تھا اور بعید نہیں تھا کہ برسوں پرانی تاریخی اور ثقافتی روایات کو سیاست کی بھیٹ چڑھا کر ملیا میٹ کیا جاتا خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایوان صدر کی زنجیر عدل ہلائی گئی فر یادی نے 1975 ؁ء میں قائد عوام ذولفقار علی بھٹو شہید کے دور حکومت کا لینڈ کمیشن ریکارڈ پیش کیا جس میں شندور کے دو پولو گراؤنڈ پیمائش کرکے سابق این ڈبلیو ایف پی اور موجودہ خیبر پختونخوا کی ملکیت قرار دئیے گئے ہیں بھٹو شہید کے گزٹ نو ٹیفیکیشن کو دیکھ کر سید مہدی شاہ نے بھی ہاتھ کھینچ لیا گلگت بلتستان اور ضلع غذر کے سنجیدہ اور تعلیم یافتہ حلقوں نے بھی اس پر غور کیا کہ کوئی ٹھوس وجہ ضرور تھی جس کی بناء پر 1914 ؁ء میں راجہ مراد خان نے میزبانی کا دعو یٰ نہیں کیا ان کے بعد راجہ حسین علی شاہ ، راجہ جان عالم ، راجہ محمد انوار خان ، راجہ غلام دستگیر اور راجہ محبو ب علی خان نے میز بانی کا دعویٰ نہیں کیا منتخب جمہوری لیڈروں کا دور آیا تو چیئرمین لطیف حسن ، چیف ایگزیکٹیو پیر کرم علی شاہ چےئر مین فدا محمد ناشاد ، اور چیف ایگز یکٹیو راجہ غضنفر علی فے شندور پولیو فیسٹول کی میزبانی کا دعویٰ نہیں کیا اور برسوں پرانی روایات کی پاسداری کی یہ بھائی چارہ ہے حب الوطنی ہے اور مٹی کے ساتھ محبت ہے پشتو کے فلاسفر اور صوفی شاعر امیر حمزہ خان شنواری کا خوبصورت شعر ہے

وڑم،مستقبل تہ دماضی روایات
حمزہ خپل حال دولولو سرہ زم

ترجمہ : میں ماضی کی روایات کو مستقبل تک لے جانا چاہتاہوں میرے زمانہ حال کے ولولے میرا ساتھ دیتے ہیں ۔غذر اور چترال کے لوگ اسلامی بھائی چارہ اور مشترکہ تہذیب و ثقافت کے ساتھ ساتھ قریبی خونی رشتوں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔میں لاسپور میں رہتا ہوں تو میرا بھائی اکبر شاہ پھنڈر میں اور دوسرا بھائی میر حسین چھاشی میں رہتا ہے ، تیسرا بھائی زرولی شاہ سونی کوٹ میں اور چھوتھا بھائی عمرولی جوٹیال میں رہتا ہے ۔یہ علاقہ ایک وحدت ہے تاہم وقت کے ظالم لہروں نے 1843 میں معاہد ہ امر تسرکے ذریعے دونوں کے درمیاں لیکیر کھینچ دی جون 1980 ؁ء میں جنرل ضیا ء الحق شہید شندور پولیو فیسٹول میں مہماں خصوصی بن کر آئے ۔اور چےئر مین خورشید علی کے پر جوش سپا سنا مے کے جواب میں ولولہ انگیز تقریر کر کے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی تو بھارتی دفتر خارجہ نے 1843 ؁ء کے معاہد ہ امر تسر کا حوالہ دے کر شندور کو کشمیر کا حصہ قرار دیا ۔اور پاکستان سے احتجاج کیا ۔ سرفراز شاہ اور اُن کے ساتھیوں کو اس کے بعد میدان میں اتارا گیا ۔2010 ؁ء تک شندور پولیو فیسٹول جس طرح منعقد ہوتا تھا وہ برسوں پرانی روایات کا حصہ تھا ۔ ان روایات کو توڑ نے کی ضد اورتکرار کر نے والے عناصر بھلاممتاز حسین گوہر ، عبدالخالق تاج، ظفر وقار تاج ، محمد امین ضیا ، جمشید خان دکھی ، عبدالکریم کریمی ، جاوید حیات کا کاخیل ، حشمت علی الہامی ، شیر باز علی برچہ ، فدا محمد ناشاد اور احسان دانش جیسے صاحب فکر دانشوروں کی نظر میں کس کی خدمت کر نے والے تصورکئے جائینگے ؟ اس سوال کا جواب میں نہیں دونگا ’’ ہم اگر عرض کر نیگے تو شکایت ہوگی ‘‘ 20 اپریل 2015 ؁ء کو پر ل کا نٹیننٹل ہوٹل پشاور میں معاہد ہ امرتسر کے طرز کی خفیہ دستاویز تیارہوئی ۔ جس کو ایم او یو کا نام دیا گیا ۔ ریڈیو پاکستان سے پہلے اس کی خبرآکا شوانی ، ریڈیو سری نگر اور آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہوئی یہ کس بات کا اشارہ دیتا ہے ؟ اس سوال کا جواب بھی میں نہیں دونگا

خیال خاطر احباب چاہتے ہردم
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

ایک استاذ اور لکھاری کی حیثیت سے اپنے گھر ، اپنے مکان اپنی عبادت گاہ اور اپنے کھیل کے میدان کا دفاع میرا بھی اتنا ہی حق ہے ، جتنا کسی بھی لکھاری کا ہوسکتا ہے ۔ایک قلمکار ہوا میں معلق نہیں ہوتا وہ اپنے بچپن کو نہیں بھول سکتا ۔ باپ دادا کی روایات کو عالمگیر یت پر قربان نہیں کر سکتا جس گھر میں اُس کے لڑکپن کے مہ وسال گذرے ہیں ۔وہ گھر جیتے جی دشمن کی جھولی میں نہیں ڈال سکتا میں نے محمد شہباب الدین ایڈوکیٹ اور کرنل (ر) اکرام اللہ خان کے ہمراہ 1959 ؁ء سے 1974 ؁ء تک شعوری زندگی کے ابتدائی سال مٹران شل کے جن گھروں میں گذاری ہے ۔ان کو ہم کہاں بھول سکتے ہیں؟

یاد ماضی عذات ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

ممتاز حسین گوہر صاحب نے جس درد مندی کے ساتھ اپنے دل کا دُکھ بیا ں کیا ہے ۔وہ قابل تحسین ہے ۔اس جذبے کے ساتھ آگے بڑھ کر ہمیں یہی بات جناب عنایت شمالی اور مولوی نعمت اللہ بگروٹی سے بھی پوچھ لینی چاہیے کہ وہ 1914 ؁ء سے 2015 ؁ ء تک چلنے والی روایات کو یکا یک توڑنا کیوں چاہتے ہیں ؟ ان تاریخی روایات سے ان کی دشمنی کی بنیاد کیا ہے ۔پھنڈر کے عبدالجہاں اور گلا غمولی کے خسر و حیات کا کا خیل ہمارے ایسے بھائی ہیں جس کے ننھیا لی گھر مٹران شل شندور میں800 سالوں سے اباد ہیں ۔ میری نظر میں کچھ بھی نہیں بگڑا ، ہماری تاریخ موجود ہے ، ہمارے تاریخی کردار زندہ ہیں ۔ 2010 ؁ء سے پہلے جو کچھ تھا ، جیسا تھا اُس کے ساتھ اتفاق کریں تو ایک بار پھر 2010 ؁ء سے پہلے والی محبت کی فضا لوٹ کر آجائیگی

آج بھی ہو براہیم کا ایما ں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستان پیدا

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget