27 جولائی، 2016

چترال پشاور روڈ ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند، بجلی کی آنکھ مچولی، شیشی بجلی گھر کی مرمت نہ کرنے پر ہزاروں مشتعل عوام سڑکوں پر نکل آئے۔

 

چترال (گل حماد فاروقی) چترال سے 45 کلومیٹر دور تاریحی قصبے دروش میں بجلی کی طویل ترین لاؤڈ شیدنگ ، کم وولٹیج اور شیشی بجلی گھر کی حرابی کے حلاف ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ ڈھنڈا بردار مظاہرین نے پشاور چترال روڈ کو ہر قسم ٹریفک کیلئے بند کیا جس کی وجہ سے پشاور سے چترال آنے والے اور چترال سے پشاور جانے والے سینکڑوں گاڑیوں کی لمبی قطار روڈ پر دکھائی دئے۔ جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ 


مسافروں میں نو بیاہتا جوڑا جو راولپنڈی سے ہنی مون منانے کیلئے چترال آرہے تھے وہ بھی ایک مسافر کوسٹر میں بیٹھے تھے۔ بلال نامی لڑکا جن کا تعلق راولپنڈی سے ہے جس نے چترال سے شادی کی تھی ان کا کہنا ہے کہ دو دن پہلے ہماری شادی ہوئی تھی اور ہم ہنی مون منانے کیلئے چترال آرہے تھے مگر یہاں آکر سڑک بند ہے۔ ان کی نئی نویلی دلہن نے بھی ہمارے نمائندے کو بتایا کہ وہ چترال جانی چاہتی ہے اور یہاں سڑک پر کھڑے ہوئے کافی دیر گزر گئی۔

دروش کے مقام پر مین چوک میں ایک احتجاجی جلسہ بھی منعقد ہوا۔ جن کی صدارت تاجر یونین صدر حاجی شاد محمد کررہے ہیں ۔ دروش میں مکمل طور پر شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی ہے اور اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ یونین نے بھی اظہار یکجہتی کے طور پر پہیہ جام ہڑتال کیا ہے۔

جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ شیشی بجلی گھر کی مشنری کو مرمت کے بہانے رمضان سے پہلے نکال کر نیچے لے گئے مگر تاحال اس بجلی گھر کو مرمت نہیں کیا گیا۔ مقررین نے الزام لگایا کہ اس بجلی گھر میں جرمنی کے مشنری اور پرزے تھے جن کو نکال کر فروخت کئے گئے اور اس میں مقامی پرزے لگائے گئے ہیں جس کی وجہ سے یہ بجلی گھر آئے روز حراب رہتا ہے۔

مقررین نے کہا کہ اس بجلی گھر کی مرمت کے بہانے کروڑوں روپے کاغذوں میں خرچ ہوئے مگر اس کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ جب سے عوام دروش نے ہڑتال کی کال دی تو بجلی گھر سے چند گھرانوں کو بجلی فراہم کی گئی اگر بجلی گھر حراب تھا تو ان چند گھرانوں کو کہاں سے اور کیسے بجلی فراہم کی گئی۔

مظاہرین نے کہا کہ ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے جن میں شیشی بجلی گھر کی فوری مرمت اور اسے چلانا ہے ، شیشی بجلی گھر کی ریذیڈنٹ انجنیر ابرار کی باہر تبادلہ اور نیشنل گریڈ اسٹیشن دیر سے 220 وولٹ کا پورا بجلی چوبیس گھنٹے فراہم کرنا شامل ہے۔ اس رپورٹ کی تحریر تک دروش چوک میں احتجاجی جلسہ اور سڑک کی بندش جاری تھی۔


فائل فوٹو

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget