13 جولائی، 2016

"ابھی تمھارے سامنے ایک جنتی آدمی نمودار ہو گا۔" کس عمل اور کس صحابی کے بارے میں آقا ﷺ نے فرمایا

حضرتِ انس بن مالک رضی اللہ عنہُ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ رسولِ اللہ ﷺ کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا۔

"ابھی تمھارے سامنے ایک جنتی آدمی نمودار ہو گا۔"

چنانچہ انصار کے ایک آدمی نمودار ہوئےجن کی داڑھی سے وضو کا پانی ٹپک رہا تھا۔ انہوں نے آپنے جوتے بائیں ہاتھ میں اُٹھا رکھے تھے۔

جب دوسرا دن آیا تو نبی کریم ﷺ نے وہی بات فرمائی، ’’ابھی تمھارے سامنے ایک جنتی آدمی نمودار ہو گا۔‘‘

چنانچہ اس دن بھی وہی انصاری نمودار ہوئے جو گزشتہ دن نمودار ہوئے تھے اور آج بھی وہ پہلے کی طرح ہی تھے۔

جب تیسرا دن آیا تو نبی اکرمﷺ نے پھر وہی بات فرمائی،یعنی 

’’ابھی تمھارے سامنے ایک جنتی آدمی نمودار ہوگا‘‘ 

چنانچہ تیسرے دن بھی وہی انصاری نمودار ہوئے اور اسی حالت میں جیسے پہلے دن تھے، یعنی ان کی داڑھی سے وضو کا پانی ٹپک رہا تھا اور اپنے جوتے بائیں ہاتھ میں اُٹھا رکھے تھے۔

جب رسولِ اکرم ﷺ اُٹھ کر چل گئے تو حضرتِ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اس انصاری کے پیچھے پیچھے گئے اور ان سے عرض کیا: 

میں نے اپنے والد سے جھگڑا کیا ہے اور قسم کھائی ہے کہ میں تین دنوں تک ان کے پاس نہیں جاؤں گا، اگر آپ چاہیں تو مجھے اپنے پاس تین دن قیام کرنے کی اجازت مرحمت فرمائیں۔ 

انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔

حضرتِ انس بن مالک رضی اللہ عنہُ کا بیان ہے: کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہُ بیان کرتے تھے کہ میں نے یہ تین راتیں اس جنتی انصاری کے ساتھ گزاریں، 

۔۔۔ مگر میں نے دیکھا کہ وہ رات کو عبادت کے لیے تھوڑے سے وقت کے لیے بھی بیدار نہیں ہوتے تھے، ہاں میں نے یہ دیکھا کہ جب نیند ٹوٹتی اور اپنے بستر پر کروٹیں بدلتے تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے اور تکبیر کہتے حتیٰ کہ فجر کی نماز کے لیے بیدار ہوتے۔ میں نے ایک بات یہ دیکھی کہ وہ اپنی زبان سے کوئی بھلی بات ہی نکالتے تھے۔

جب میں نے تین راتیں ان کے ساتھ گزارلیں اور قریب تھا کہ میں اُن کے عمل کو حقیر جانتا۔ 

تو میں نے کہا: اے اللہ کے بندے! میرے اور میرے والد کے درمیان کسی قسم کی ناراضگی یا لڑائی نہیں تھی، البتہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تین مرتبہ یہ آپ کے بارے میں فرماتےہوئے سنا۔

’’ابھی تمھارے سامنے ایک جنتی شخص نمودار ہو گا۔‘‘

چنانچہ تینوں دفعہ آپ ہی نمودار ہوئے ۔ لہذا میری خواہش ہوئی کہ آپ کے پاس رہ کر دیکھوں کہ آپ آخر وہ کون سا عمل بجا لاتے ہوجیسے میں بھی اپنا سکوں۔

لیکن میں نے دیکھا کہ آپ کوئی زیادہ عمل نہیں کرتے، پھر وہ کیا بات ہے جس کی بنا پررسولِ اکرمﷺ نے آپ کےمتعلق یہ بات فرمائی ہے ۔ 

انصاری نے فرمایا: عمل تو صرف اتنا ہی ہے جو آپ نے دیکھا ۔

حضرتِ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہُ کہتے ہیں کہ جب میں ان کے پاس سے واپسی کے لیے مڑا تو انہوں نے مجھے آواز دے کر بلایا اور فرمایا۔
’’عمل تو وہی ہے جو آپ نے دیکھا البتہ اسکے علاوہ ایک بات یہ ہے کہ میرے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کوئی رنجش نہیں اور نہ میں کسی آدمی سےاُس بھلائی پر حسد کرتا ہوں جو اُسے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے۔ ‘‘


حضرتِ عبدللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہُ نے یہ سن کر عرض کیا۔

’’یہی وہ واصف ہے جو آپ کو اس درجہ تک لائی ہے اور یہی وہ خصلت ہے جس کو اپنانے کی ہم میں طاقت نہیں۔‘‘

(شئر کرکے ثواب کمائیں، اللہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ امین)


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget