اگست 17, 2016

چترالی کی ایک بیٹی کی دہائی، ایجنٹوں کے ہاتھوں بک چکی ہوں انصاف فراہم کیا جائے: خورشیدہ بی بی

چترالی کی ایک  بیٹی کی دہائی،  ایجنٹوں کے ہاتھوں بک چکی ہوں انصاف فراہم کیا جائے: خورشیدہ بی بی

چترال: میں ایجنٹوں کے ہاتھوں بِک چکی ہوں، مجھے انصاف فراہم کیا جائے، خورشیدہ بی بیتور کہو کے علاقہ کھوت سے تعلق رکھنے والی خورشیدہ بی بی دختر شیر دولم خان اپنے اخباری میں کہا کہ 2 مارچ2016 کو پشاور صدر سے حمید خان ساکنہ ایون، سید گل ساکنہ اوچوشٹ ، قاری نعمت اور قاری صبور نامی ایجنٹوں نے شادی کا جھانسہ دے کر اغوا کرکے مجھے آزاد کشمیر میں چوہدری انور نامی شخص کے ہاتھوں مبلغ 6 لاکھ روپے میں بیچ دیئے ۔ اس کے بعد میں بغیر نکاح کے 4 مہینے چوہدری انور کی قید میں رہی۔ شب و روز قلعے میں بند کرکے مجھ پر ظلم و زیادتی ہو تی رہی، بڑی کوششوں کے بعد انجمن دعوت عزیمت چترال کے ساتھ رابطہ ممکن ہوا۔انجمن کی کوششوں سے مجھے چترال پہنچایا گیا ان کا مزید کہنا ہے کہ عدالت میں میں نے بتاریخ یکم اگست 2016 ء کو ان اغوا کاروں سمیت چوہدری انور کے خلاف کیس دائر کیا لیکن ابھی تک چوہدری انور سمیت چار وں اغوا کارعدالتی سمن کے باوجود عدالت میں حاضر نہیں ہو رہے ہیں اور دنداناتے پھیر رہے ہیں ساتھ ساتھ مجھے انکی طرف سے دھمکیاں بھی موصول ہو رہی ہیں۔انہوں نے اشکبارانکھوں سے اپیل کیا کہ مجھے انصاف فراہم کیا جا ئے اور ان ایجنڈوں کو قانون کی گرفت میں لا کے کڑی سے کڑی سزا دی جا ئے تا کہ مجھ جیسے مظلوم بیٹیاں ایسے سفاک اور ظالم لوگوں کی گرفت سے محفوظ رہ سکیں۔انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں، ڈپٹی کمشنر چترال، ڈسٹرکٹ پولیس افیسر چترال، اور ناظم اعلیٰ چترال سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کیس میں خصوصی دلچسپی لیکر میرے اوپر ہونے والی ظلم و زیادتی کا ازالہ کریں۔اور اس واردات میں ملوث عناصر کو قانون کی گرفت میں لا کے قرار واقع سزا دی جا ئے۔اور مجھے تحفظ فراہم کیا جا ئے۔یہ اپنی نو عیت کا پہلا واقعہ نہیں ہر سال پاکستان کے کئی شہروں سے لوگ شادی کی غرض سے چترال آکر چترالی بیٹوں کو بیاہ کرکے لے جا تے ہیں اور ان کے ساتھ ظلم اور زیادتیاں ہو تی رہتی ہیں ۔جسکی وجہ سے چترال کی کئی بیٹیاں زندگی کی بازی بھی ہار جا تی ہیں ایسے واقعات چترال میں بار بار رونما ہو تے رہتے ہیں لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے ان ایجنٹوں کو کھلی چھٹی ملنے کی وجہ سے ایسے گھناؤنے واقعات ہمارے معاشرے میں عام ہو تے جا رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئیں اور دعوت عزیمت چترال کے ساتھ ملکر معاشر ے کو ان ایجنڈوں سے پاک کیا جا ئے۔ تا کہ ہوا کی بیٹیوں کی عظمت دری کا سلسلہ یہی رک جا ئے۔

کل اور آج  مختلف ذرائع ابلاغ میں مندرجہ بالا کہانی کو دیکھ  اور پڑھ کر دل آتش گرفتہ ہوگیا ہے۔  یہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ کچھ ایسے ہی  واقعات ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں۔ چترال سے باہر چترال کی بیٹیوں کو بیاہنا کوئی بری بات نہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ  پہلے جس جگہ اور جن لوگوں کو اپنی بیٹی دے رہے ہو ان کے بارے میں مکمل تحقیقات کرلیں۔ ان  کے تمام کوائف حاصل کریں اور ایک لیگل پروسیس کے تھرو اپنی بچیوں کی شادی کرادیں۔ محض چند پیسوں کی خاطر آنکھیں بند کرکے اپنی بیٹی کو درندوں اور بردہ فروشوں کے سپرد نہ کریں، وگرنہ چترال سے باہر شادی کرانے کی ضرورت ہی کیا۔  ہمارے علم میں ایسی ایسی باتیں آئیں ہیں جن کو سن کر اور جان کر ان والدین  پر صد افسوس ہوتا ہے ۔  افسوس کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں کیونکہ آج کے دور میں کسی کے معاملات میں بات کرنا  بھی کیچر میں پتھر مارنے کے مترادف ہے۔  الٹے چور کوتواں کو ڈانٹے کے  مصداق آپ کی کہی بات اور نصیحت کی ہوئی باتیں آپ کے اپنے گلے پڑتی ہیں۔ 

یہاں مذکورہ کہانی میں خورشید ہ بی بی نے جن افراد کا نام لیا ہے انہیں قانون کے کٹھرے میں لایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی کسی کی عزت کا سودا کرنے کی جرات نہ کرسکے۔ لیکن عدالتوں میں  انصاف کہاں۔۔ جس کی مثال لاسپور میں سکول کی بچی کے ساتھ پیش آنے والا حالیہ واقعہ ہے۔

 ارباب اختیار، انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ججز،   انصاف کی جنگ لڑنے والے وکلاء ، قانون فافذ کرنے والے ادارے ، ضلعی انتظامیہ اور چترال کی سیاسی قیادت  ’’خورشیدہ بی بی‘‘ کو انصاف دلائیں اور آئندہ اس  سنگین مسئلے   کو حل کرنے کے لئے جامع قانون بنائیں اور شہریوں کو اس کا پابند کریں۔  از ابوالحسنین ٹائمز آف چترال



1 تبصرہ:
Write comments
  1. یہ انسانیت کا توھین ہے۔ اس مافیا کے خلاف ایک تنظیم بنانا چاہیے۔اور ان دلالوں کو کڑی سےکڑی سزا دی جائ۔ ڈپٹی کمشنر چترال ہم اپکا احسان مند رہیں گے انکو فلفورگرفتار کیا جاے۔

    جواب دیںحذف کریں

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget