اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

24 اگست، 2016

چترالی خاتون اغواء کاروں کے چنگل سے بھاگ نکلی، گینگ کے بارے میں اہم ترین انکشافات

پشاور(ٹی او سی: مانیٹرنگ ڈیسک 24 اگست 16) پنجاب، کراچی اور راولپنڈی میں بچوں کے اغواء کی خبریں توآتی ہی رہتی ہیں لیکن خواتین کو اغواء کرنے والے بڑے گینگ کا انکشاف ہوگیا ہے۔ مختلف حیلے بہانوں اور بہکاووں سے خواتین کر اغواء کرتے ہیں۔ 6 ماہ قبل گینگ نے ایک چترالی لڑکی کو اغواء کیا تھا جو 6 ماہ بعد اغواء کاروں کے چنگل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئی۔ چترالی دوشیزہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئی اوراہم ترین انکشاف کیا کہ پنجاب کے علاقے گوجرانوالہ ، خیبرپختونخوا میں پشاور اور چترال میں گروہ سرگرم ہیں جو لڑکیوں کی خریدوفروخت کا کام کرتے ہیں۔ 

نجی ٹی وی چینل کے مطابق اغواء کاروں کے چنگل سے بھاگ کر آنیوالی چترالی دوشیزہ نے بتایا کہ پہلے اسے شادی کا جھانسہ دیا گیا تھا لیکن انکار کرنے پر اسے اغواء کرلیا گیا اور پھر بے ہوشی کی حالت میں ہی پنجاب لے جاکر 6 لاکھ روپے میں فروخت کردیاگیا۔ خاتون نے بتایا کہ خواتین کے اغواء اور خریدوفروخت میں ملوث گینگ میں چترال، پشاور اور پنجاب کے لوگ بھی شامل ہیں، چھ ماہ تک تاریک کمرے میں قید رکھاگیاجبکہ بات نہ ماننے پر درندگی کی حدتک جنسی تشدد تک کا نشانہ بنایاجاتارہا، بہت مشکل سے جان بچاکر نکلنے میں کامیاب ہوئی ہوں۔ رپورٹ کے مطابق چترال کی اس دوشیزہ نے وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اور عدلیہ سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ بہت ظلم ہواہے جو الفاظ میں بیان کرناممکن نہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں