13 اگست، 2016

یوم آذادی ہم کس منہ سے منائیں: تحریر طاہر شادان

 

 ایک دن عصر کی نماز کے بعد ایک دوست کے ساتھ مارکیٹ جانا ہوا گرمی کی شدت مارکیٹ کے بجائے روم جانے پر مجبور کر رہی تھی لیکن دوست کو اکیلے چھوڑنا مناسب نہیں سمجھا پیدل ہی چلتے ہوئے پندرہ بیس منٹ میں مارکیٹ پہنچے  فاصلہ تو اتنا نہیں تھا لیکن گرمی کی وجہ سے تھکاوٹ سی ہوگئی تھی ایک منٹ بھی بلا ضرورت مارکیٹ میں گزارنے کو دل نہیں کر رہا تھا لیکن میرے دوست تھے کہ واپسی کا نام ہی نہیں لے رہے تھے محدود مارکیٹ کے شروع سے آخر اور پھر آخر سے شروع تک تین بار جب ہم چکر لگا چکے تو اعصاب جواب دے گئے میں نے کہا بھیا کیا خیال ہے واپسی کا کوئی ارادہ نہیں ہے؟؟ 

کہنے لگے یار آئے ہیں تو کم از کم وہ چیزیں تو لیکر جائیں گے جس کے لئے آئے ہیں.


میں نے سمجھا شاید کسی نایاب چیز کی  تلاش ہے جو کہ اس مارکیٹ میں ملنا مشکل ہے 

میں نے پوچھا کہ مارکیٹ میں تو کوئی دکان آپ نے نہیں چھوڑی اب وہ چیز کہاں سےملے گی ؟ اور بتاؤ تو سہی وہ ہے کیا چیز؟؟؟

جرابیں ،،،،،،، میرے دوست نے کہا

مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن کچھ کہے بغیر دوست کا ہاتھ پکڑا اور ایک دکان کی طرف چلنے لگا 
یار اس دکان میں تو تین بار گیا ہوں میرے دوست نے ہاتھ پیچھے کھینچتے ہوئے کہا

میرے ساتھ آؤ تو میں دکھاتا ہوں میں نے کہا
وہ ساتھ چل پڑے میں اس کو سیدھا دکان کے اس کونے میں لے گیا جہاں جرابیں ہی جرابیں تھی میں نے کہا لو بھئی جتنا مرضی

میرے دوست نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہ یار ایسے تو مارکیٹ میں جرابوں کی کوئی کمی نہیں ہے ہر دکان میں ملتی ہیں 
میں نے کہا پھر تمھیں کیا چاہیے؟

مجھے پاکستانی جرابیں چاہیے پاکستانی

یار پاکستانی جرابیں لینا ضروری ہے کیا  پاکستانی جرابیں اتنی معیاری بھی تو نہیں ہوتی کوئی سا بھی لے لو چلتے ہیں 

اچھا اس کا مطلب ہے  کہ تم مجھے انڈین جرابیں لینے پر مجبور کر رہے ہو

یار دو جوڑی جرابوں کے لئے ہم کب تک مارے مارے پھرتے رہیں گے جو بھی دستیاب ہے لیتے چلو میں نے کہا

سنو یار میں نے صرف جرابیں نہیں لینی بلکہ جرابوں کے لئے پانج ریال جو میں دے رہا ہوں وہ بھی انڈیا کے بجائے پاکستان پہنچنا چاہئیے تاکہ میری ضرورت بھی پوری ہو اور میرا پیسہ بھی میرے ملک میں ہی رہے اب اگر میں انڈیا والی جرابیں خرید لوں گا تو میرا پیسہ انڈیا چلا جائے گا اور یوں انڈیا میرے ہی پیسوں سے ہتھیار بنا کر میرے کشمیری بھائیوں بہنوں اور ماؤں کا قتل عام کرتا رہے گا یا پھر میرے ہی پیسوں سے میرے ملک کی جڑیں کاٹنے کے لئے ایجنٹ بھرتی کریگا اس سے بہتر ہے کہ میں اپنا پیسہ اپنے ملک میں ہی بھیج دوں اگر چیز غیر معیاری بھی ہو تو کوئی بات نہیں  دوبارہ لے لوں گا اور مجھے معلوم ہے کہ ہر بار میرا پیسہ میرے ملک میں ہی پہنچ جائے گا جو کہ کسی بھی طرح خسارے کا سودا نہیں ہے 

میں حیران و پریشان شرمندگی کے عالم میں سر جھکائےاس کے سامنے ایسے کھڑا تھا جیسے کسی پر ملک کے ساتھ غداری ثابت ہوگئ ہو میرے دوست کا ایک ایک لفظ میرے دل میں پیوست ہورہا تھا اور ہر ہر جملہ مجھے یہ احساس دلا رہا تھا کہ میں واقعی مجرم ہوں اور مجھے اپنے ملک سے کوئی ہمدردی نہیں ہے حب وطن کے جو دعوے زبان میں  تھے آج وہ زبان سے بھی ادا نہیں ہورہے تھے لیکن میرے دوست کی تقریر ابھی ختم نہیں ہوئی تھی 

میرے گھر میں بھی تمام چیزیں پاکستان کی ہیں البتہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو پاکستان میں نہیں بنتی وہ مجبورا لینا پڑتا ہے۔

حب وطن کا ایسا جذبہ نہ اسے پہلے کبھی دیکھا تھا اور نہ اس کے بعد کہیں دیکھنے کو ملا ایسے ہی لوگوں کو زیب دیتا ہے کہ وہ آج یوم آذادی منائے اور دل کھول کر منائیں میرے جیسے لوگ صرف زبان سے حب وطن کا دعوی کرتے ہیں پورا سال اپنے کمائی میں سے وافر مقدار انڈین فلمیں دیکھنے کی  مد میں اور انڈین مصنوعات خریدنے کے مد میں انڈیا بھیجتے ہیں اور سال میں ایک دن سبز ہلالی پرچم لہرا کر چہروں اور جسموں کو ہرے رنگ سے رنگ کر زبان کے بالکل آخری سرے سے یوم آذادی مبارک کا نعرۂ مستانہ لگاتے ہیں اب وہ لوگ کیا کرے جو سارا سال پاکستان کی فلاح و بہبودی کے لئے سوچتے ہیں ایک ایک پیسہ خرچ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتے ہیں کہ کہیں میرے اس پیسے سے میرے ملک کو نقصان تو نہیں پہنچ رہا 
اللہ پاک ہم سب وطن عزیز سے سچی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے خون پسینے کی کمائی کا کوئی ایک پیسہ ایسا نہ ہو جو ہمارے ملک کے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرنے میں معاون ہو 

آپ سب کو یوم آذادی مبارک ہو

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget