اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

24 اگست، 2016

لواری ٹنل جون ***** میں میں مکمل ہوگا، نیشنل اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتا دیا گیا

دیر/چترال (ابوالحسنین: ٹائمز آف چترال 24 اگست 2016) قومی اسمبلی کی  قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کو جمعرات کے روز بریفنگ میں بتایا گیا کہ لواری ٹنل کا 60 فیصد کام مکمل ہوگیا ہے اور منصوبہ جون 2017 میں مکمل ہوجائے گا۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام نے ٹنل کے بیس کیمپ میں قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اپر دیر محمد عثمان محسود، ضلعی پولیس آفیسر اطہر وحید، ضلعی ناظم صاحبزادہ فصیح اللہ، تحصیل ناظم دیر میرمخزن الدین سمیت نیشنل ہائی وے حکام موجود تھے۔ 

نیشنل ہائی وے کے جنرل منیجر مکیش کمار نے بتایا کہ ٹنل کے ساتھ مختلف مقامات پر 4 پل بنائے جارہے ہیں جن میں سے ایک اپر دیر کی جانب مکمل کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ 2015 میں مکمل ہونا تھا لیکن ریل ٹنل سے روڈ ٹنل میں تبدیل کرنے کے لئے اس کی تکمیل کی تاریخ میں توسیع کردی گئی تھی۔ این ایچ اے حکام نے بتایا کہ ٹنل کی دونوں جانب 14 کلومیٹر سڑک بنائی جائے گی، جس میں 7 کلومیٹر دیر سائیڈ اور 7 کلومیٹر چترال کی جانب ہوگی۔

ممبر نیشنل اسمبلی صاحبزادہ طارق اللہ نے نیشنل ہائی وے کو ہدایت کی کہ لواری ٹنل میں سولر لائیٹ نصب کئے جائیں۔ طارق اللہ نے این ایچ اے حکام کو تاکید کی کہ منصوبے کی تعمیر میں مزید تاخیر نہ کی جائے، کسی قسم کی مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ 

این ایچ حکام نے بتایا کہ ٹنل کی دونوں جانب 24 سیکیوریٹی پوائنٹس قائم کئے جائیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں