اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

8 اکتوبر، 2016

ہاشو فائنڈیشن کی جانب سے چترال کے 100 لڑکیوں کیلئے ہوٹل ویٹر اور ریسپشنسٹ کی تین مہینے کی تربیتی ورکشاپ

 

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے بالائی اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والی سو لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے تین ماہ تربیت کا آغاز کردیا گیا۔ تین مہینے پر مشتمل اس تربیت میں ان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ہوٹل منیجمنٹ ، ویٹر اور استقبالیہ یعنی ریسپشنسٹ کی تربیت دی جائے گی۔ تربیتی ورکشاپ کے افتتاحی تقریب میں چترال کے ضلع ناظم مغفرت شاہ مہمان حصوصی تھے جبکہ چترال کے دیگر فن کاروں، ماہرین اور اس شعبے میں تجربہ رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔ 

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ضلع ناظم نے ہاشو فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کیا جو چترال کے بے روزگار نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ہوٹل میں محتلف شعبوں میں اور بالحصوص بڑے ہوٹلوں میں کام کرنے کی تربیت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال کے یہ نوجوان اگر اس صنعت میں باقاعدہ تربیت حاصل کرسکے تو یہ اپنے اپنے گاؤں کی سطح پر بھی ایسے گیسٹ ہاؤس کھول سکتے ہیں جہاں ملکی اور غیر ملکی سیاح ان کو ادائیگی کرکے ان گیسٹ ہاؤس میں قیام و طعام کرسکتے ہیں جس سے ان کو گھر بھیٹے بہترین روزگار مل سکتا ہے۔

پروگرام سے شمس الدین ، آفتاب احمد، فضل رحمان، انصار الہی اور دیگر افراد نے بھی اپنے حیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہاشو فاؤنڈیشن نے چترال کے نوجوانوں کو اپنا ثقافت زندہ رکھنے کیلئے ان کو باقاعدہ تربیت دی تاکہ کھوار یعنی چترالی ثقافت کو دیگر ثقافتوں کی یلغار سے بچایا جاسکے اور ساتھ ہی ان نوجوانوں کو تربیت بھی فراہم کرتے ہیں جو تعلیم حاصل کرنے کے بعد بے روزگار پھرتے ہیں۔ 

شمس الدین نے کہا کہ اس تربیتی پروگرام میں سو طلباء و طالبات حصہ لے رہے ہیں جن کی باقاعدہ امتحان ہوگا اور امتحان میں پاس ہونے کے بعد ان کو ادارے کی جانب سے سند دی جائے گی جو آگے جاکر اپنے لئے باعزت روزگار پیدا کرسکتے ہیں۔

چند شریک خواتین نے کہا کہ ان کا علاقہ بہت پسماندہ ہیں جہاں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں مگر اس تربیت کے بعد وہ اس قابل ہوسکیں گی کہ کسی بڑے ہوٹل میں استقبالیہ یعنی ریسپشنسٹ کی آسامی پر کا م کرکے اپنے اہل حانہ کیلئے رزق حلال کماسکے گی۔

اس تقریب میں کثیر تعداد میں خواتین، وحضرات نے شرکت کی۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں