اکتوبر 28, 2016

13 سالہ بچے کی موت: پشاور کے سرکاری ہسپتال کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوٹس جاری کردیا

 

چترال (نامہ نگار) سینئر صحافی گل حماد فاروقی کا تیرہ سالہ بیٹا محمد فرحان پشاور کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے مبینہ غفلت کی وجہ سے جاں بحق ہوا تھا جس پر سپریم کورٹ کے پریس ایسوسی ایشن نے بھی نہایت افسردگی اور برہمی کا اظہار کیا تھا اور سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن کے ہنگامی اجلاس میں ان ڈاکٹروں کی مذمت کی گئی تھی جنہوں نے تیرہ سال محمد فرحان کو نظر انداز کیا تھا۔  


صحافی گل حماد فاروقی کی جانب سے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کو تحریری اپیل کی گئی تھی کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لے۔ جس پر سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے ذمہ دار ادارے کو جمعرات کے دن نوٹس جاری ہوا۔ امید ہے سپریم کورٹ آف پاکستان ان ڈاکٹروں کے اس ظالمانہ روئے کے حلاف اس خود نوٹس لیکر ان کو قانون کے کٹھرے میں کھڑا کرکے ان کو سزا دلوایں گے۔

ملک بھر کے تمام صحافی برادری نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس اقدام کو نہایت سراہا اور امید ظاہر کی کہ سینیر صحافی گل حماد فاروقی کے جواں سال بیٹا محمد فرحان کے موت میں جن ڈاکٹروں نے غفلت کا مظاہرہ کیا تھا ان کو سخت ترین سزا دی جائے گی تاکہ آئندہ یہ اور دیگر ڈاکٹر کسی اور مریض کے ساتھ اس قسم کا ظالمانہ اور غفلت کا رویہ نہ اپنائے۔ 

واضح رہے کہ سینئر صحافی گل حماد فاروقی کے بیٹے کو اپینڈکس کی بیماری لاحق ہوئی تھی جسے 29جولائی 2016 کو فوری طور پر گورنمنٹ نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال پشاور ہسپتال لے گئے جہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے اس کا الٹرا ساؤنڈ کرکے مریض کو گھر بھیج دیا۔ اگلے روز تیس جولائی کو اسے لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے گئے مگر اسے پھر گھر واپس بھیج دیا گیا اسی دن رات گیارہ بجے مریض کو طبیعت بہت حراب ہوئی تو اسے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے مین کیجولٹی کے گئے اور رات ایک بجے اسے پھر گھر بھیج دیا گیا۔ 

دو اگست کو فرحان کو حیات آباد میڈیکل کمپلکس پشاور لے گئے جہاں پتہ چلا کہ فرحان کا اپینڈکس پہلے سے پھٹ چکا ہے ۔ اس کے والد نے اسی وارڈ کے ڈاکٹر صدیق احمد کو فون کرکے درخواست کی کہ وہ مریض کا فوری اپریشن کرے مگرانہوں نے ایسا نہیں کیا اور شام کے بعد فرحان کا اپریشن چند جونئیر ڈاکٹروں نے کیا جو ناکام ہوا۔ اسے ICU ریفر کیا گیا مگر وہاں بیڈ حالی نہیں تھی اسے اگلے روز خیبر ٹیچنگ ہسپتال لے گئے جہاں وہ جاں بحق ہوئے۔جس پر تمام متعلقہ تھانوں کو ان ڈاکٹروں کے حلاف FIR درج کرانے کیلئے تحریری درخواستیں بھیجے گئے مگر اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔ وزیر اعلےٰ خیبر پحتون خواہ اور آئی ۔ جی ۔ پی کے علاوہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈنٹل کونسل کو بھی درخواست بھیجی گئی اور جمعرات کے روز چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیمبر میں درخواست جمع ہونے پر متعلقہ ذمہ دار اتھارٹی کو نوٹس جاری کیا گیا۔ جو کہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget