21 اکتوبر، 2016

جنگلات کی تحفظ اور انتظام و انصرام کے موضوع پر ایک روزہ ورکشاپ کا اہتمام۔

چترال( گل حماد فاروقی) چترال سے 110 کلومیٹر تحصیل مستوج میں محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے ویلیج کنزرویشن کمیٹی کے اراکین، سماجی کارکنان اور علاقے کے عمائدین اور خواتین کیلئے جنگلی حیات کی تحفظ کے موضوع پر ایک روزہ ورکشاپ کا اہتمام ہوا۔ یہ ورکشاپ جنگلی حیات کی وسائل کی تحفظ اسے مضبوط بنانے کے پراجیکٹ کے زیر اہتمام ہوا جو دیر، سوات اور چترال میں کام کررہی ہے۔ اس موقع پر محکمہ جنگلی حیات چترال ڈویژن کے ڈویژنل فارسٹ آفیسر امتیاز حسین لال مہمان حصوصی تھے۔

ورکشاپ سے اظہار حیال کرتے ہوئے حمید میر، امتیاز حسین اور دیگر ماہرین نے کہا کہ دنیا بھر میں درجہ حرارت آٹھ ڈگری کے تناسب سے بڑھ رہی ہے جو چترال اور شمالی علاقہ جات میں 1.5 ڈگری بڑھ رہی ہے جس کی بنیادی وجہ جنگلات کی کٹائی، ماحول کو آلودہ کرنا اور قدرتی وسائل کی تحفظ نہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے درختوں میں کمی آرہی ہے اور کارخانوں سے نکلنے والی زہریلی گیسیں ہمیں آسانی سے متاثر کرسکتی ہیں جبکہ درختوں کی بہتات کی وجہ سے وہ ان گیسوں کو جذب کرتی ہیں۔ اور یہ نہایت حطرناک عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو اسلئے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے کہ یہ دوسرے مخلوق کو فائدہ پہنچاتا ہے اور اگر یہ اپنا فرض منصبی چھوڑے تو پھر جانوروں سے بھی بد تر ہوتا ہے۔

ماہرین نے کہا کہ
 70 فی صد تازہ پانی چترال اور شمالی علاقہ جات سے ملک بھر کو جاتی ہے۔اگر ماحولیات کو حراب کرنے کا یہ عمل جاری رہا تو 2035 تک تمام گلیشرز یعنی برفانی تودے پھگل جائیں گے جو پانی کی شدید قلعت کی باعث بنے گی۔جن میں سے 542 گلیشیرز چترال میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنے منصوبے میں بالائی چترال کے چار نالوں کو منتحب کیا ہے جہاں جنگلی حیات کو فروغ دینے کیلئے حطیر رقم خرچ ہوگی جن میں مزید عملہ بھرتی کرنا، ہٹ کی تعمیر اور ٹریکٹروں کی خریداری بھی شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ سیاحوں کیلئے تفریحی مقامات بھی تعمیر کئے جائیں گے جہاں وہ قیام کرسکے۔ماہرین نے کہا کہ جنگلی حیات کو ترقی دینا اور ان کی حفاظت ہماری معیشت پر نہایت مثبت اثرات ڈال سکتے ہیں کیونکہ افریقہ کے بیشتر ممالک کی 99 فی صد ان جنگلی حیات کے ذریعے وصول ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ چترال میں نہایت نایاب نسل کے خاکی ریچھ، برفانی چیتا،آئی بیکس، مارخور، چوکور وغیرہ پائے جاتے ہیں جو یقنی طور پر دنیا بھر کے سیاحوں کو یہاں کھینچ کر لانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

ورکشاپ کے دوران شرکاء سے گروپ ورکنگ بھی کرایا گیا جس میں محتلف وادیوں سے آئے ہوئے لوگوں نے جنگلی حیات کی تحفظ اور اسے فروغ دینے پر تجاویز بھی پیش کئے۔ وقاص احمد ایڈوکیٹ نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر محکمے کے واچرز غیر قانونی شکار کی بیخ کنی میں ایمانداری سے کام لے تو جنگلی حیات کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوسکتا ہے۔

ورکشاپ میں شریک خواتین اور واحد خاتون رینجر افیسر کا کہنا ہے کہ اگر خواتین کو بھی جنگلی حیات کی تحفظ اور ترقی دینے کا موقع دیا جائے تو وہ بھی کسی سے کم نہیں۔

بروغل اور دیگر وادیوں سے آئے ہوئے لوگوں نے اس پروگرام کو نہایت سراہا اور بروغل میں نیشنل پارک پر تیزی کام کی آغاز کا مطالبہ کیا کہ اس سے اس پسماندہ اور دور آفتادہ علاقے کے لوگوں کی قسمت بدل جائے گی اور وہ بھی ترقی کے راہ پر گامزن ہوگا۔

آحر میں سوال و جواب کا بھی سیشن ہوا ۔ اس ورکشاپ میں محتلف VCC ویلیج کنزرویشن کمیٹی کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget