4 اکتوبر، 2016

نیشنل بنک آف پاکستان مین برانچ چترال میں ابھی تک اے ٹی اے سروس نہیں ہے۔ پنشن یافتہ اور تنخواہ داروں کو مشکلات کا سامنا۔

چترال( گل حماد فاروقی) نیشنل بنک مین برانچ چترال میں تاحال ATM سسٹم نہیں ہے جس کی وجہ سے تنخواہ دار، بنک کے صارفین اور پنشن یافتہ طبقے کو نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہر مہینے کے پہلی سے لیکر تین چار تاریح تک بنک کے سامنے لمبی قطار کھڑی ہوتی ہے جو یا تو تنخواہ لیتی ہے یا پنشن۔


بنک کے سامنے قطار میں کھڑے ہوئے ایک ضعیف العمر شحص نے کہا کہ وہ کوشت سے آتا ہے جس کا آنے جانے پر ایک ہزار روپے کرایہ لگتا ہے مگر بعض اوقات یہاں آکر پتہ چلتا ہے کہ بنک کا سسٹم (نیٹ ورکنگ) حراب ہے یا پھر اسے لمبے قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔

ایک اور بوڑھے شحص نے کہا کہ بنک میں اے ٹی ایم کا نظام بھی نہیں ہے اس کیلئے بوتھ تو لگایا گیا ہے مگر ا س میں اے ٹی ایم مشین نہیں رکھا گیا ہے۔

چند دیگر افراد جو پنشن لینے کی عرض سے قطار میں کھڑے تھے نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ یہاں پہلے کوئی اور صاحب کام کرتے تھے جس کی وجہ سے ہمیں کافی سہولت تھی اور ہمار ا وقت ضائع کئے بغیر ہمیں آسانی سے پنشن ملتا مگر آج کل بہت انتظار کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ چند افراد نے یہ بھی شکایت کی کہ نیشنل بنک چند نجی بنکوں کو بروقت کیش فراہم نہیں کرتا اور ان کے ایک کروڑ روپے ان کے ذمے واجب الادا ہے مگر بنک کے پاس کیش ہی نہیں ہے۔

اس سلسلے میں جب بنک منیجر ظاہر اللہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام صارفین اور پنشن یافتہ لوگوں کو اطلاع دی ہے کہ وہ اپنا کاؤنٹ کھولے اور ان کا پنشن ان کے اکاؤنٹ میں جمع ہوا کرے گی مگر یہ لوگ ابھی تک اکاؤنٹ نہیں کھولے۔ جبکہ اے ٹی ایم مشین کیلئے بوتھ لگا ہوا ہے مگر اس میں ابھی تک مشین نہیں لگا ہے امید ہے بہت جلد اے ٹی ایم مشین بھی لگے گا۔

اس سلسلے میں آزاد ذرائع سے معلوم ہوا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان بھی اس میں دلچسپی نہیں لیتا اور ابھی تک نیشنل بنک میں اے ٹی ایم مشین نہیں ہے جبکہ اس کو پورا رقم بھی بروقت نہیں بھجواتا تاکہ یہ دوسرے بنکوں کو کیش فراہم کرسکے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget