6 اکتوبر، 2016

تیرہ سالہ محمد فرحان کے موت کی جوڈیشل انکوائری اور غفلت برتنے والے ڈاکٹروں کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ

 

تیرہ سالہ محمد فرحان کے موت کی جوڈیشل انکوائری اور غفلت برتنے والے ڈاکٹروں کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ ۔ فرحان کے موت کی جوڈیشل انکوائری کی جائے والدین کی دہائی

چترال (نامہ نگار) تیرہ سالہ محمد فرحان ایک ہنستا مسکراتا بچہ تھا جو چھٹی جماعت میں زیر تعلیم تھا اس کی بھی دوسرے بچوں کی طرح یہ حواہش تھی کہ وہ بڑا ہوکر ڈاکٹر بنے گا تاکہ دکھی انسانیت کی خدمت کرسکوں مگر اسے کیا پتہ تھا کہ وہ ان ڈاکٹروں کی غفلت کی بھینٹ چڑھے گا۔ 

سینئر صحافی گل حماد فاروقی کے جواں سال بیٹے فرحان کو پیٹ میں درد محسوس ہونے لگا تو پہلی بار اسے کوہاٹ روڈ پشاور پر واقع گورنمنٹ نصیر اللہ خان بابر میموریل ہسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹر نے الٹراساؤنڈ کروانے کے بعد اسے یہ کہہ کر گھر واپس بھیج دیا کہ اس کے معدے میں معمولی زحم ہے اور اس دوائی سے ٹھیک ہوگا۔

اگلے روزاسے کوئی افاقہ نہیں ہوا تو ایک بار پھر پشاور کے بڑے ہسپتال لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے گئے جہاں او پی ڈی میں ڈکٹر نے اسے ایک با ر پھر ٹرحایا اور اسے دوائی لکھ کر گھر بھیج دیا حالانکہ اسے اپینڈکس تھا مگر انہوں نے نہ تو اس کی تشحیص میں دلچسپی لی نہ اس کا اپریشن کیا۔

اسی دن رات گیارہ بجے ایک بار اس کو شدید درد ہوا الٹیاں لگی اور چھوٹا پیشاب بھی بند ہوا جسے فوری طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے مین کیجولٹی لے گئے جہاں ڈاکٹر نے اس کی پچکاری کرنے کے بعد اسے رات ایک بجے پھر گھر بھیج دیا اور اس کا اپریشن نہیں کی۔ اسے پانچ دن کیلئے دوائی لکھ کر گھر پر آرام کرنے کا کہا گیا ۔ 

دو دن گھر پر تڑپنے کے بعد اسے پھر پیٹ میں شدید درد ہونے لگا جسے فوری طور پر حیات آباد میڈیکل کمپلکس لے گئے جہاں پتہ چلا کہ اسکا اپینڈکس پہلے سے ہی پھٹ چکا ہے اسے سرجیکل اے وارڈ میں داحل کیا گیا۔ اس کے والد نے اسی وارڈ کے سرجن ڈاکٹر صدیق احمد جو چترال میں اس کا پڑوسی بھی ہے کو فون کرکے فرحان کی اپریشن کیلئے درخواست کی اورا س کی زندگی کا بھیک مانگا مگر ڈاکٹرموصوف نے مریض کی اپریشن تو درکنار اس کے پاس تک نہیں گیا۔

حیات آباد میڈیکل کمپلکس کے سرجیکل اے وارڈ میں موت و زندگی کی کشمکش میں دس بارہ گھنٹے تک مبتلا ہونے کے بعد شام کے بعد جونئیر ڈاکٹروں نے اس کا اپریشن کیا جو ناکام ہوا۔ اگلے دن صبح تین بجے فرحان Seriousہوا اور اسے انتہائی نگہداشت یونٹ آئی سی یو کو ریفر کیا گیا مگر بدقسمتی سے آئی سی یو میں بیڈ حالی نہ ہونے کا بہانہ کرکے اسے وارڈ ہی میں تڑپاتے رہے اور صبح 7.30 بجے اسے خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے سرجیکل ICU لے گئے جہاں ایک گھنٹے کے بعد اس کا انتقال ہوا۔

فرحان کے موت پر اس کے بھائی احتشام الحق اور انیس الرحمان بھی نہایت غمگین ہیں ان کے دوست اور ہم جماعت بھی اس کی کمی کو محسوس کرتے ہیں۔ 

اس کے والدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزیر علےٰ خیبر پحتون خواہ، انسپکٹر جنرل آف پولیس،پاکستان میڈیکل اینڈ ڈنٹل کونسل اور دیگر ذمہ دار افسرا ن کو کئی درخواستیں بھیجی مگر تاحال ان ڈاکٹروں کے حلاف کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی جو فرحان کے موت میں مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوئے۔ 

غمزدہ خاندان اور محمد فرحان مرحوم کے والدین چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان ، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ظلم اور سنگین جرم کی از خود نوٹس لیکر ان ڈاکٹروں کو عدالت سے سزا دلوادے اور ان کو قانونی کے مطابق جرمانہ بھی کرے۔ ساتھ ہی وہ وزیر اعلےٰ اور وزیر صحت خیبر پحتون خواہ سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ غفلت کے مرتکب ڈاکٹروں کے حلاف محکمانہ ، قانونی اور تادیبی کاروائی کرکے ان کے لائسنس منسوح کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر محتلف تھانوں میں FIR درج کرے مقدمات بھی درج کرے تاکہ ان کو عدالت سے سزا دلوایا جاسکے تاکہ یہ لوگ آئندہ کسی اور مریض کو اسی طرح نظر انداز کرکے اسے موت کے منہ میں نہ دھکیلے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget