اکتوبر 21, 2016

مائنس ون کی تیاریاں عروج پر | نصرت جاوید

 

بشکریہ نوائے وقت | 21 اکتوبر 2016

’’مائنس ون‘‘ ہو جانے کے بعد وہی کچھ ہوا کرتا ہے جو آج کل کراچی میں مصطفیٰ کمال اور عشرت العباد کے درمیان ہوتا نظر آرہا ہے۔ ان دونوں حضرات کو پوری طرح علم تھا کہ کئی برسوں سے لندن میں مقیم ’’بانی‘‘ نے کس نوعیت کی ’’تنظیم‘‘ بنائی ہے۔ سب کچھ جانتے ہوئے بھی وہ اس کے ساتھ چپکے رہے۔ عشرت العباد نے آنکھیں اور کان بند کر کے غلامی نہ کی ہوتی تو اس کا نام آج سے 14سال پہلے گورنر سندھ کے لئے نامزد نہ کیا جاتا۔ موصوف کا یہ دعویٰ بالکل درست ہے کہ ان دنوں جنرل پرویز مشرف پاکستان کے طاقت ور ترین حکمران تھے۔ ان کے زیر نگین ’’ایجنسیوں‘‘ نے بقول عشرت العباد ان کو ’’اُلٹا، پٹخا‘‘ ۔سب کچھ نکال کر اس کو اچھی طرح جانچا اور پھر Security Clearanceدے دی گئی۔ 

یاد رہے کہ یہ ’’کلیئرنس‘‘ اس حقیقت کے باوجود ملی کہ جون 1991ء میں ایم کیو ایم کو جنرل مشرف ہی کے ایک پیش رو-آصف نواز جنجوعہ مرحوم-نے ’’سکیورٹی رسک‘‘ قرار دیا تھا۔ میں بھی اسلام آباد سے گئے صحافیوں کے اس وفد میں شامل تھا جنہیں کراچی کے کور کمانڈر کے ہاں کھانا کھلانے سے قبل ایک بریفنگ دی گئی تھی۔ اس میں کسی ’’جناح پور‘‘ کا ذکر ہوا تھا۔ نقشے وغیرہ دکھائے گئے تھے۔

شاید ان ہی نقشوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے دوران ریٹائرڈ جنرل نصیر اللہ بابر کی زیرنگرانی کراچی میں ایک آپریشن ہوا۔اس آپریشن کی ’’کامیابی‘‘ کی کہانیاں بھی بہت مشہور ہوئی تھیں۔ ان کہانیوں کے باوجود پیپلز پارٹی ہی کے بنائے صدر لغاری نے نومبر 1996ء کی رات جب محترمہ کی دوسری حکومت کو برطرف کیا تو ’’ماورائے عدالت قتل‘‘ الزامات کی فہرست میں سب سے پہلے بیان ہوئے تھے۔

اس الزام نے ایم کیو ایم کو بحال ہونے میں مدد دی۔ اس کے نامزد افراد سینٹ اور قومی اسمبلی میں پہنچے تو ان میں سے چند کو وزارتیں وغیرہ دے کر دوسری نواز حکومت کی کابینہ میں شامل بھی کیا گیا۔ چند مہینوں بعد مگر حکیم سعید قتل کر دئیے گئے۔ الزام اس قتل کا ایم کیو ایم کے سر لگا۔ دوسری نواز حکومت بھی کراچی کو ’’سیاست کے نام پر جرائم میں ملوث افراد‘‘ کو ٹھکانے لگانے پر مجبور ہوئی۔ جنرل مشرف اس دوران مگر کارگل کی پہاڑیوں پر چڑھ دوڑے تھے۔

کارگل کی وجہ سے وزیراعظم اور جنرل مشرف کے درمیان جو اختلافات پیدا ہوئے ان کا اختتام 12 اکتوبر 1999ء کی رات برآمد ہوا۔ اس کے بعد نواز شریف کو سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ نواز ’’آئوٹ‘‘ ہوئے تو ایم کیو ایم دوبارہ ’’ان‘‘ ہو گئی۔ عشرت العباد سندھ کے گورنر بنا دیئے گئے۔ 2002ء کے بعد سے 2007ء تک ایم کیو ایم نے کراچی پر بلاشرکتِ غیرے حکومت کی۔ اس کی ’’بادشاہی‘‘ مشرف کے چلے جانے کے بعد بھی برقرار رہی۔ آصف علی زرداری Reconciliation کے نام پر اس جماعت سے حکومت اور اسمبلیوں کی آئینی مدت مکمل کرنے کے لئے مستقل منت سماجت کرنے میں مبتلا رہے۔

2013ء میں جب نواز شریف تیسری بار اقتدار میں آئے تو احساس ہوا کہ بہت ہوگئی۔ کراچی کو ایک بار پھر ’’سیاست کے نام پر جرائم میں ملوث افراد‘‘ سے پاک کرنا ہوگا۔ اس حکومت کے پاس مگر کوئی نصیر اللہ بابر نہیں تھا۔ صفائی ستھرائی کا کام پاک رینجرز کو Out Source کر دیا گیا۔ رینجرز کا جھاڑو پھرا تو واہ واہ ہوگئی۔ بہتر یہی تھا کہ اس کے بعد ایم کیو ایم میں موجود ’’صرف سیاسی‘‘ لوگوں ہی سے کام چلایا جاتا۔

لندن سے مگر چند خبریں آئیں۔ ان خبروں کو ’’ذرائع‘‘ نے اپنی پسند کے اینکر خواتین وحضرات کے ذریعے یہ تاثر پھیلانے کے لئے استعمال کیا کہ برطانیہ کا ’’صاف شفاف عدالتی نظام‘‘ ان کے دارالحکومت میں کئی برسوں سے مقیم ’’بانی‘‘ کو مختلف جرائم میں سزائیں دلواکر ’’مائنس‘‘ کرنے والا ہے۔ مجھ ایسے بے وقوف التجائیں کرتے رہے کہ برطانیہ کے بھی کچھ ’’قومی سلامتی‘‘ والے مفادات ہوتے ہیں۔ سفارتی مجبوریاں۔ عالمی سیاست کے حوالے سے لگائی Game۔ ’’بانی‘‘ ان گیمزکے حوالے سے ایک اہم ’’اثاثہ ‘‘ہے۔ اسے Minusکرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔

مصطفیٰ کمال کو مگر یقین تھا کہ ’’مائنس‘‘ ہوجائے گا۔ نائن زیرو میں ’’آبے لونڈے جابے لونڈے‘‘پر کئی سالوں سے مامور اس کمال کو کراچی کا میئر بنایا گیا تھا۔میئر بننے کے بعد موصوف کے سرپر اپنے شہبازشریف کی طرح انڈرپاسز اور فلائی اوورز تعمیر کرنے کا جنون طاری ہو گیا۔ ایسے Mega Projects ’’آبے لونڈے جابے لونڈے‘‘ جیسا ماضی رکھنے والوں کو Upward Mobility کی رونقوں سے روشناس کروا دیتے ہیں۔ مصطفیٰ کمال بھی Corporateہو گیا۔

Corporate Visionکی بدولت ان صاحب نے ’’مائنس ون‘‘ کے امکانات دیکھتے ہوئے کراچی کی ڈیفنس ہائوسنگ سوسائٹی میں ایک ہٹی کھول لی۔ اس ہٹی پر ’’پاک سرزمین‘‘ کا بورڈ لگا دیا گیا۔ ایم کیو ایم کی صفوں میں سے جو شخص بھی یہاں آتا دُھلا ہوا محب وطن بن جاتا۔راء کا دشمن۔ پاکستان کا جاں نثار شہری۔ غریبوں کا ہمدرد۔ کراچی کے نوجوانوں کو بندوق پھینک کر کتابوں کی جانب راغب کرنے کو بے چین ایک شفیق اور تجربہ کار سیاست کار۔ ’’کمال کی ہٹی‘‘ مگر چل نہ پائی۔ لالو کھیت اور گولیمار کے تنگ مکانوں میں جوان ہوتے بچوں کو ڈیفنس میں کھلی اس ’’ہٹی‘‘ سے اُمید کی کوئی کرن نہ ملی۔ تاریک راہوں میں اپنے ’’بھائیوں‘‘ اور ’’قائد‘‘ کے لئے مرنے مارنے کو ہر وقت تیار یہ نوجوان اس ہٹی کی جانب راغب نہ ہوئے۔ Mega Projectsکے ذریعے Corporate Visionدریافت کرنے والا کمال چند مہینوں میں ویسا ہی نظر آنے لگا جیسا 1990ء کی دہائی میں ’’حقیقی‘‘ بنا کر آفاق احمد ہوا تھا۔

’’کمال‘‘ اور ’’آفاق‘‘۔ ان دو لفظوں میں کافی خاصیتیں مشترک ہیں۔ دونوں کا انجام لہٰذا ایک جیسا ہونا ضروری تھا۔ لندن میں ویسے بھی سزا نہیں ہو پائی ہے۔ فاروق ستار لندن میں لگے الزام اور ان کے انجام کے درمیان ’’فرق‘‘ سے واقف تھا۔ اپنے علم کو مگر اس نے چھپائے رکھا۔ آج اس کا ’’ستار‘‘ ہونا کام آرہا ہے۔ ’’کمال‘‘ اب ’’آفاق‘‘ ہوا ہذیاتی کیفیات میں مبتلا ہو چکا ہے۔ عشرت العباد اس کا نشانہ ہے۔

عشرت العباد مگر 2002ء میں گورنر بن چکا تھا۔ اس کی Upward Mobilityبتدریج مگر ٹھوس انداز میں ہوئی ہے۔ ’’سکیورٹی کلیئرڈ‘‘ بھی ہے۔ ’’کِلاّ‘‘ اس کا کافی مضبوط ہو چکا ہے۔ ’’مائنس ون‘‘ ہوجانے کے بعد مگر دوررس حوالوں سے وہ بھی ریاست پاکستان کے لئے اب مزید ’’کارآمد‘‘ نہیں رہے گا۔ نئی گیم لگانا ہوگی۔ اس گیم کا ’’عشرت العباد‘‘ بھی نیا ہوگا اور ’’کمال‘‘ بھی۔ وہ کون لوگ ہوسکتے ہیں۔ اس کے بارے میں ہمارے پاس سوچنے کا وقت نہیں کہ اسلام آباد میں بھی ’’مائنس ون‘‘ کی تیاریاں ان دنوں عروج پر ہیں۔ دیکھئے اس ’’مائنس‘‘ کا ’’عشرت العباد‘‘ کون ہو گا۔ 2نومبر کے بعد چیزیں کھل کر سامنے آنا شروع ہو جائیں گی۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget