25 اکتوبر، 2016

اگر دھرنا کامیاب ہو گیا: کالم جاوید چوہدری

25 اکتوبر2016  بشکریہ ایکسپریس

ہم فرض کر لیتے ہیں عمران خان دو نومبر کو اسلام آبادآتے ہیں‘شہر مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے‘ سڑکوں پر ہوکا عالم ہوتا ہے‘ اسکول‘ کالج ‘ یونیورسٹیاں ‘ مارکیٹیں‘ بازار‘ شاپنگ سینٹر اور دکانیں لاک ڈاؤن ہو جاتی ہیں‘ ٹرانسپورٹ بند ہو جاتی ہے اور سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں کام رک جاتا ہے‘ یہ بندش دس پندرہ بیس دن جاری رہتی ہے یہاں تک کہ سپریم کورٹ بھی دھرنے سے متاثر ہو جاتی ہے اور یہ میاں نواز شریف کو فیصلوں تک وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیتی ہے تو کیا ہو گا؟ پاکستان مسلم لیگ ن نیا وزیراعظم چن لے گی‘ میاں نواز شریف مری شفٹ ہو جائیں گے۔

یہ وکلاء کا پینل بنائیں گے اور یہ عدالت میں ثابت کر دیں گے ان کا نام پانامہ لیکس میں شامل نہیں‘ عدالت ان سے لندن کی پراپرٹی کے بارے میں پوچھے گی‘ یہ جائیداد کے مالکان کو عدالت میں پیش کر دیں گے‘ حسن نواز‘ حسین نواز اور مریم نواز جائیداد کو ’’اون‘‘ کر لیں گے‘ عدالت ان سے ’’منی ٹریل‘‘ پر سوال کرے گی‘ یہ عدالت کو 1973‘ 1978ء‘ 1999ء اور 2005ء کا ریکارڈ دے دیں گے‘ یہ متحدہ عرب امارات‘ سعودی عرب‘ پاکستان اور برطانیہ کے بینک ریکارڈز اور ٹیکس قوانین بھی پیش کر دیں گے‘ عدالت یہ ماننے پر مجبور ہو جائے گی کہ میاں نواز شریف کا نام واقعی پانامہ لیکس میں شامل نہیں‘ لندن کی جائیداد ان کے بچے اون کر رہے ہیں۔

پانامہ‘ برطانیہ‘ سعودی عرب اور یو اے ای کے قوانین کے تحت یہ جائیداد یں ناجائز نہیں ہیں جب کہ پاکستان کے ٹیکس قوانین میں 1973ء سے 2013ء تک 13ٹیکس امیونٹیز آ چکی ہیں اور ان اسکیموں کی وجہ سے 40 سال کا کالا دھن سفید ہو چکا ہے چنانچہ عدالت شریف خاندان کو باعزت بری کرنے پر مجبور ہو جائے گی‘ یہ 2018ء کا الیکشن لڑیں گے اور خوفناک ہیوی مینڈیٹ کے ساتھ چوتھی بار وزیراعظم بن جائیں گے لہٰذا پھر عمران خان کے دو نومبر‘ دھرنے‘ شہر کی بندش اور کامیابی کا کیا فائدہ ہوا‘ اس ساری ایکسرسائز کا کیا نتیجہ نکلا؟ کیا عمران خان یہ چاہتے ہیں؟ عمران خان کا جواب یقینا ناں ہو گا۔

ہم اب دوسرے امکان کی طرف آتے ہیں‘ ہم فرض کر لیتے ہیں عدالت میاں نواز شریف کو ’’ڈس کوالی فائی‘‘ کر دیتی ہے‘ یہ وزیراعظم نہیں رہتے تو کیا ہو گا؟ یہ لوگ احسن اقبال کو عارضی وزیراعظم بنائیں گے‘ میاں شہباز شریف پنجاب خواجہ حسان کے حوالے کریں گے‘ ایم این اے ’’الیکٹ‘‘ ہوں گے اور وزیراعظم بن جائیں گے‘ میاں نواز شریف پارٹی سنبھال لیں گے‘ یہ لوگ 2018ء کا الیکشن لڑیں گے‘ حکومت بنائیں گے‘ سینیٹ میں نشستیں پوری کریں گے‘ پارلیمنٹ میں بل پیش کر کے میاں صاحب کا جرم معاف کرائیں گے اور نواز شریف ایک بار پھر وزیراعظم بن جائیں گے اور اگر یہ ہو گیا تو وہ میاں نواز شریف صرف میاں نواز شریف نہیں ہوگا وہ زخمی شیر ہو گا اور وہ زخمی شیر کس کس کا کیا کیا حال کرے گا ہم اس کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں۔

لہٰذا پھر عمران خان کے دو نومبر‘ دھرنے‘ شہر کی بندش اور کامیابی کا کیا فائدہ ہوا؟ اس ساری ایکسرسائز کا کیا نتیجہ نکلا؟ اور کیا عمران خان بوڑھے‘ کمزور اور بیمار شیر کو زخمی اور خوفناک دیکھنا چاہتے ہیں‘ عمران خان کا جواب یقینا اس بار بھی ناں ہو گا‘ ہم اب تیسرے امکان کی طرف آتے ہیں‘ ہم فرض کر لیتے ہیں دھرنے طویل ہو جاتے ہیں‘ عمران خان پیچھے ہٹتے ہیں اور نہ ہی میاں نواز شریف‘ سپریم کورٹ سیاست بازی میں نہیں الجھتی‘ کار سرکار بند ہو جاتا ہے‘ سرکاری میٹنگز‘ سرکاری دورے اور سرکاری فیصلے ملتوی ہو جاتے ہیں‘ کاروبار ٹھپ ہو جاتے ہیں‘ اسٹاک ایکسچینج کریش کر جاتی ہے اور میڈیا ’’اوئے اوئے‘‘ کرنے لگتا ہے۔

یہ دیکھ کر فوج کی قوت برداشت جواب دے جاتی ہے اور یہ مارشل لاء لگادیتی ہے لیکن اس کے بعد کیا ہو گا؟ کیا فوج عمران خان کو سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا دے گی؟ کیا یہ پوری پاکستان مسلم لیگ ن پر پابندی لگا دے گی اور کیا یہ الیکشن کرائے گی اور آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کا احتساب اگلی حکومت پر چھوڑ دے گی؟ جی نہیں‘ یہ پہلے ایل ایف اوز کے تحت احتساب کے قوانین بنائے گی‘ یہ خصوصی عدالتیں تشکیل دے گی اور پھر مجرموں کے خلاف مقدمے چلائے گی‘ ملک میں اس دوران مارشل لاء رہے گا‘ کیوں؟ کیونکہ فوج اگر احتساب سے پہلے مارشل لاء اٹھا لیتی ہے تو آئین بحال ہو جائے گا اور آئین بحال ہو گیا تو پاکستان مسلم لیگ ن اور شریف خاندان دونوں باہر آ جائیں گے۔

ہم ایک لمحے کے لیے یہ بھی فرض کر لیتے ہیں فوج الیکشن سے پہلے احتساب میں کامیاب ہو جاتی ہے لیکن سوال یہ ہے کیا یہ احتساب صرف آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کا ہوگا؟ کیا عمران خان‘ ان کے ساتھی‘ فوج کے سابق جرنیل اور جنرل پرویز مشرف احتساب کے بیلنے میں نہیں آئیں گے؟ اور اگر یہ لوگ بھی احتساب کا شکار ہو جاتے ہیں تو پھر دو نومبر‘ دھرنے اور شہر کی بندش کا کیا فائدہ ہوا؟ اور ہم اگر یہ بھی مان لیں آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف جیلوں میں ٹھونس دیے جاتے ہیں اور عمران خان اور ان کی پارٹی احتساب میں کلیئر ہو جاتی ہے تو کیا گارنٹی ہے فوج آسانی سے بیرکس میں چلی جائے گی؟ ہماری تاریخ گواہ ہے فوج جب بھی اقتدار میں آئی یہ دس سال سے پہلے واپس نہیں گئی اور اس نے دوران اقتدار اپنی پارٹی بھی ضرور بنائی‘ یہ اگر اس بار بھی دس سال اقتدار میں رہتی ہے اور یہ کوئی نئی مسلم لیگ بنا لیتی ہے تو عمران خان کو کیا فائدہ ہو گا؟ کیا یہ سب کچھ اس لیے کر رہے ہیں؟ مجھے یقین ہے عمران خان کا جواب اس بار بھی ناں ہوگا۔

ہم اب چوتھے اور آخری امکان کی طرف آتے ہیں‘ ہم فرض کر لیتے ہیں‘ واقعات عمران خان کی اسکیم کے مطابق چلتے ہیں‘ شہر بند ہو جاتا ہے‘ سپریم کورٹ پورے شریف خاندان کو ڈس کوالی فائی کر دیتی ہے‘ میاں نواز شریف کے تخت سے اترتے ہی پارٹی تتر بتر ہو جاتی ہے‘ پاکستان مسلم لیگ ن کے 90 فیصد سینیٹرز‘ ایم این ایز اور ایم پی ایز عمران خان کی پارٹی میں شامل ہو جاتے ہیں‘ سپریم کورٹ ٹیکنو کریٹس کی حکومت بنا دیتی ہے‘ یہ حکومت نیا الیکشن کمیشن بنا کر الیکشن کرا دیتی ہے‘ پاکستان مسلم لیگ ن کے لوٹے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کامیاب ہو جاتے ہیں اور یہ عمران خان کو وزیراعظم بنوا دیتے ہیں لیکن اس کے بعد کیا ہو گا؟

کیا عمران خان ایک آزاد اور خود مختار نیب بنا سکیں گے؟ کیا یہ صاف اور شفاف احتساب کے لیے نئے قوانین تیار کر سکیں گے؟ جی نہیں‘ کیوں؟ کیونکہ اگر نئے قوانین بن گئے‘اگر ملک میں آزاد اور خود مختار نیب بن گیا تو وہ تمام پارلیمنٹیرینز بھی زد میں آ جائیں گے جو احتساب سے بچنے کے لیے ن لیگ کے اصطبل سے پی ٹی آئی کے رِنگ میں آئے تھے چنانچہ یہ کبھی عمران خان کو نئی قانون سازی نہیں کرنے دیں گے اور یوں عمران خان بھی میاں نواز شریف بن جائیں گے‘ یہ بھی حکومت بچانے میں لگ جائیں گے چنانچہ پھر عمران خان کو اس ساری ایکسرسائز کا کیا فائدہ ہوا؟ کیا یہ دو نومبر کے ذریعے ملک بھر کے لوٹوں کو اپنے گرد جمع کرنا چاہتے ہیں‘ کیا یہ ایک نئی ق لیگ بنانا چاہتے ہیں‘ مجھے یقین ہے عمران خان کا جواب اس بار بھی ناں ہوگا۔

ہم اگر ان چاروں امکانات کو سامنے رکھیں تو ہمیں ماننا ہوگا‘ ان میں سب کچھ ممکن ہے اگر ممکن نہیں تو وہ احتساب ہے! دونومبر کا کوئی بھی نتیجہ نکلے لیکن اس نتیجے سے پانامہ لیکس کا حل نہیں نکلے گا‘ کیوں؟ کیونکہ اس کے لیے قانون ضروری ہے اور ہمارے ملک میں آف شور کمپنیوں ‘ بیرون ملک جائیدادوں اور ماضی کی پراپرٹی کے خلاف کوئی ٹھوس قانون موجود نہیں لہٰذا آپ کچھ بھی کر لیں‘ آپ خواہ اسلام آباد کو دس سال کے لیے بند کر دیں لیکن سڑکوں اور تالوں سے کوئی قانون نہیں نکلے گا‘ آپ کو قانون کے لیے بہرحال پارلیمنٹ میں جانا ہو گا اور عمران خان پارلیمنٹ کے بجائے یہ قانون فیض آباد‘ زیرو پوائنٹ اور ڈی چوک میں تلاش کر رہے ہیں‘ یہ کیسے ممکن ہے؟

آپ اس لاک ڈاؤن کے ذریعے میاں نواز شریف کو چند ماہ کے لیے سسٹم سے باہر ضرور رکھ سکتے ہیں لیکن آپ ملک کو احتساب کا شفاف سسٹم نہیں دے سکتے چنانچہ آپ خدا کے لیے ملک پر رحم کریں‘ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ جائیں‘ قانون بنائیں اور ملک کے تمام بدمعاشوں کو پکڑ لیں‘ عوام کو بے وقوف نہ بنائیں‘ یہ بے چارے بے وقوف بن بن کر تھک چکے ہیں‘ یہ دو نومبر کا مقصد جان گئے ہیں‘ یہ سمجھ گئے ہیں دو نومبر سے دو ہزار محتاج باپ بن سکتے ہیں لیکن اس سے احتساب کی گود ہری نہیں ہو سکتی‘یہ جان گئے ہیں پانامہ درمیان میں رہ جائے گا اور پائجامہ آگے آ جائے گا‘ ملک پیچھے چلا جائے گا اور نئے لٹیرے آگے آ جائیں گے‘ کیا عمران خان یہ چاہتے ہیں!

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget