18 نومبر، 2016

پاکستان پاورٹی ایلیو یشن فنڈ نے اپنے 55 مائیکرو ہائیڈرو پلانٹس کے لئے انرجی انسٹیٹیوٹ ایوارڈ 2016 حاصل کیا

 



اسلام آباد:  پاکستان پاورٹی ایلیو یشن فنڈ (پی پی اے ایف) نے مقامی افراد کے تعاون سے چلائے جانے والے ہائیڈرو پاور پلانٹس کے منصوبے پر عالمی ایوارڈ حاصل کرلیا ہے۔ یہ ایوارڈ یافتہ منصوبہ ان 55 مائیکرو ہائیڈرو پلانٹس سے منسلک ہے جن کو سال 2004 سے 2015کے درمیان عالمی بینک اور امریکی محکمہ زراعت(USBA )کی مالی معاونت سے شمالی علاقہ جات میں تعمیر کیا گیا ہے ۔ برطانیہ کے معروف ادارے انرجی انسٹی ٹیوٹ (Energy Institute) نے پی پی اے ایف کے ان منصوبوں کو کمیونٹی اینی شیٹو (Community Initiative) ایوارڈ کی 2016کی کٹیگری کے لئے منتخب کیا ہے ۔ ماحول دوست توانائی فراہم کرنے کے علاوہ یہ منصوبہ 12 ہزار گھرانوں کو بجلی کی فراہمی کے ساتھ معاشی مواقع بھی فراہم کررہا ہے ۔ 

پی پی اے ایف جدید، کم قیمت ، قابل بھروسہ اور توانائی کے پائیدار وسائل فراہم کرنے کے لئے نمایاں کردار ادا کررہا ہے ۔ پی پی اے ایف نے سال 2003 میں متبادل توانائی کے پروگرام کا آغاز کیا اور عالمی بینک، امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) اور جرمن وزارت برائے معاشی تعاون و ترقی (بی ایم زیڈ) نے جرمن ترقیاتی بینک کی گرانٹس اور مائیکرو کریڈٹ فنڈز کے ذریعے مختلف نوعیت کے 3900 سے زائد پروجیکٹس مکمل کئے ہیں ۔ ان منصوبوں میں منی ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس، سے شمسی توانائی کی تیاری اور اس سے مقامی کمیونٹی کو بجلی کی فراہمی کے نظام، ہوا سے توانائی کے منصوبوں، شمسی و ہوائی ہائیبرڈ کے مختلف نظام ، شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر پمپنگ پروجیکٹس اور بائیوگیس پلانٹس شامل ہیں۔

جرمن ترقیاتی بینک (کے ایف ڈبلیو) کی فنڈنگ کے ذریعے پی پی اے ایف ہائیڈرو پاور اور متبادل توانائی کے مختلف منصوبوں پر کام کررہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پی پی اے ایف شراکتی اداروں کے ذریعے خیبرپختونخوا کے اضلاع بالائی دیر، بونیر اور چترال میں 36 کلو واٹ سے 306 کلو واٹ تک مختلف اقسام کے پانچ مائیکرو اور منی ہائیڈرو پاور پروجیکٹس پر کام کررہا ہے جبکہ منصوبے کے سولر لائٹنگ سسٹم (ایس ایل ایس) سے حاصل بجلی 96 منی گرڈ سسٹمز تک پہنچ رہی ہے جس سے مجموعی طور پر 500 کلو واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے جو خیبرپختونخوا کے اضلاع لکی مروت، کرک اور صوابی کو روشن کررہی ہے۔ 

پی پی اے ایف اور اسکے شراکتی ادارے ایک مشترکہ سوچ رکھتے ہیں جس کے مطابق متبادل توانائی تک رسائی معاشرے کے پسماندہ طبقات کے سماجی و معاشی حالات میں مثبت تبدیلی لاسکتی ہے ۔ توانائی کا بحران آج پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ متبادل توانائی بشمول ہوا، سورج اور پانی کے بھرپور وسائل رکھنے کے باوجود ملک کو گزشتہ 10 سال سے بجلی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ 

پی پی اے ایف کے سی ای او قاضی عظمت عیسیٰ نے بتایا، "پی پی اے ایف پاکستان بھر میں غربت کے خاتمے اور پسماندہ طبقات پر ماحولیاتی تبدیلی سے مرتب ہونے والے اثرات کو کم کرنے کے لئے اقدامات کررہی ہے ۔ ایسے بہت سے طبقات بجلی سے محروم ہیں اورپاکستان میں جاری توانائی بحران کے ساتھ یہ پہلو بھی اہم ہے کہ ہم ان کی پائیدار، کم قیمت ، جدید اور دیرپا توانائی تک رسائی میں اضافہ کریں۔ ای آئی ایوارڈ کا حصول توانائی کی فراہمی کے لئے کی جانے والی ہماری کاوشوں کا نمایاں اعتراف ہے ۔ "

انرجی انسٹی ٹیوٹ کا ای آئی ایوارڈ ایک سالانہ ایوارڈ ہے جو توانائی کے شعبے میں شاندار کارکردگی پیش کرنے والے افراد اور اداروں کو سراہتا ہے ۔ ای آئی ایوارڈز اس انڈسٹری میں ان کی خدمات کا اعتراف کرتا ہے جنہوں نے اپنے روزمرہ کام کے دوران بہترین کارکردگی اور جدت کا مظاہرہ کیا اور یوں توانائی کے مستقبل کو ڈھالنے کے لئے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ رواں سال ای آئی ایوارڈز کے لئے 140 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں جس میں بھارت، پاکستان، نائیجیریا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ملائیشیا، ہانگ کانگ، آسٹریلیا، امریکہ، کینیڈا اور دیگر بہت سے یورپی ممالک شامل ہیں۔ 

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget