12 نومبر، 2016

چترال، وادی کھوت کے بڑے منصوبے واٹر سپلائی اسکیم میں بدترین کرپشن کا انکشاف

چترال (طاہر شادان) 2009 میں وادی کھوت میں شروع ہونے والا واٹر سپلائی
اسکیم تاحال نامکمل ہے بتایا جارہا ہے کہ اس منصوبے کے لئے دو کروڑ کے لگ بھگ فنڈ مہیا کئے گئے تھے اور بعد ازاں پروجیکٹ کی تکمیل سے پہلے ہی ٹھیکیدار نے مرمت کے نام مزید 56 لاکھ روپے لیکر غائب ہیں اس پروجیکٹ کو اگر احسن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جاتا تو وادی کھوت کی 80 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی کی سہولت سے مستفید ہوسکتی تھی لیکن بدقسمتی سے ٹھیکدار عوامی فنڈ کو مال غنیمت سمجھ کر ہتھیا گئے اور مزے کی بات ہے کہ کسی ادارے کے فرد کو توفیق نہیں ملی کہ سات سال تک چلنے والے اس پروجیکٹ کا ایک بار معائنہ کرتا ۔ پائپ لائن کے لئے وادی کھوت میں عام طور پر دو سے ڈھائی فٹ کھدائی کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اس پائپ لائن کے لئے بمشکل چھ انچ کھدائی کی گئی تھی اور لائن بھی میں روڈ پر بچھائی گئی ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں موٹر سائیکلوں اور پیدل چلنے والے افراد کے لئے شدید مشکلات پیش آرہی ہیں پائپوں کے اوپر سے مٹی نکل چکی ہے اور پائپ سڑک کی سطح سے بھی اوپر پڑے ہوئے ہیں ۔وی سی ناظم کھوت عبدالحمید نے اس کے خلاف احتجاج درج کرایا ہے کہ اس پروجیکٹ میں ہونے والے کرپشن کی انکوائری کی جائے اور منصوبے کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ہم اہلیان کھوت ناظم صاحب کے ساتھ ہیں اور متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ سرکاری خزانے کو جس بے دردی سے لوٹا گیا ہے اس کا حساب ذمہ داروں سے لیا جائے ڈھائی کروڑ میں سے ٹھیکدار نے بیس لاکھ بھی اس پروجیکٹ پر خرچ نہیں کیا ہے میں نے بھی اس سلسلے میں کچھ ذمہ دار افراد سے رابطہ کیا ہے انہوں نے انکوائری کی یقین دہانی تو کرائی ہے لیکن تاحال وہ سب خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں صوبائی حکومت سرکاری فنڈ کے درست استعمال پر توجہ نہیں دے رہی جس کا فائدہ کرپٹ عناصر اٹھا رہے ہیں آپ تمام دوستوں سے گزارش کہ علاقے کی وسیع تر مفاد مد نظر رکھتے ہوئے ناظم صاحب کی آواز پر لبیک کہ کر بھرپور احتجاج کے لئے تیار رہے اور اس آواز کو صوبائی حکومت متعلقہ افراد اور اداروں پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget