نومبر 24, 2016

اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام کے ڈائریکٹر اور ناروے سفارت حانے کے سیکرٹری نے چترال کا تین روزہ دورہ کیا۔

چترال(گل حماد فاروقی 24 نومبر 2016) اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام یعنی UNDP کے ملکی (کنٹری) ڈائریکٹر Ignacio Artaza اور ناروے سفارت حانہ کے فرسٹ سیکرٹریTom Jorgen اور ان کے ٹیم نے چترال کا تین روزہ دورہ کیا۔ان کی آمد پر ہاشو فاؤنڈیشن کے دفتر میں ریجنل پروگرام منیجر سلمان عابدین اور منیجر شمس الدین نے ان کو چترال کا روایتی تحفہ یعنی چترالی ٹوپی پیش کئے۔ ان کو چترال کے حوالے سے بریفنگ دی گئی کہ ہاشو فاونڈیشن چترال کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ہوٹل ویٹر، استقبالیہ اور ڈیزاسٹر ریسک منیجمنٹ یعنی حطرات سے نمٹنے اور متاثرہ لوگوں کو ملبے سے نکالنے کے حوالے سے تربیت دیتی ہے۔ اس کے علاوہ جن علاقوں میں سیلاب یا زلزلے کی وجہ سے تباہی مچی تھی ان علاقوں کو بحال کاری اور مزید تباہی سے بچانے کیلئے سیلابی نالوں اور دریا کے کنارے حفاظتی پُشت اور دیواریں تعمیر کرتے ہیں جو UNDP کے مالی تعاون سے ہورہے ہیں تاکہ ان علاقوں کو مزید تباہی سے بچایا جاسکے۔

غیر ملکی ڈونر ٹیم نے چترال کے محتلف متاثرہ علاقوں اوچوشت ، زرگراندہ، مغلاندہ، بلچ، مولدہ وغیرہ کا دورہ کیاجہاں لوگوں نے ناروے کے عوام اور حکومت کے ساتھ ساتھ یو۔ این۔ڈی۔ پی اور ہاشو فاؤنڈیشن کا بھی شکریہ ادا کیا جو ان کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ ان کو مزید تباہی سے بچانے کیلئے حفاظتی بند تعمیر کراتے ہیں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام کررہی ہیں سیلاب کی تباہ کاری اور شدت کو کم کرنے کیلئے چیک ڈیم تعمیر کرارہے ہیں تاکہ پانی کی رفتار کو کم کیا جائے ۔

متاثرہ لوگوں نے غیر ملکی ٹیم اور ہاشو فاؤنڈیشن کے شکریہ کے ساتھ ساتھ مطالبہ کیا کہ ان کو مزید تربیت دی جائے اور ان کے ساتھ مالی تعاون کی جائے تاکہ ان کے نوجوان رضاکارانہ کام میں حصہ لینے کے ساتھ رزق حلال کمانے کے قابل بن سکے اور ساتھ ہی ان کا علاقہ قدرتی آفات سے بچایا جاسکے۔

پیر گلی میں غیر ملکی ٹیم کو چترال کے نوجوانوں پر مشتمل رضاکار گروپ نے حطرات سے نمٹنے اور لوگوں کو زلزلے کے صورت میں ملبے سے نکالنے یا کسی بھی قدرتی آفت یا حادثے کی صورت میں زحمیوں اور متاثرہ لوگوں کو ابتدائی طبعی امداد دینے اور ان کو زیادہ نقصان سے بچانے کا عملی مظاہر ہ بھی کیا جسے گوروں نے بہت پسند کیا۔

ہمارے نمائندے سے حصوصی باتیں کرتے ہوئے اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام کے Country Director نے اس سوال پر خوشی کا اظہار کیا جب اس سے پوچھا گیا کہ چترال میں قدرتی گیس اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ مجبوراً جنگل کی لکڑی کاٹنے پر مجبور ہیں کھانا پکانے اور خود کو گرم رکھنے کیلئے ان لکڑیوں کو جلایا جاتا ہے جس کی وجہ سے چترال میں جنگلات کی کمی پیدا ہوکر سیلاب کا باعث بنتا ہے اگر اقوام متحدہ ان کیلئے متبادل ایندھن کا بندوبست کرے تو جنگل کی حفاظت سے سیلاب کی شدت میں کمی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی تنظیموں اور لوگوں سے مشاورت کے بعد UNDP اس مسئلے کی حل کیلئے ضرور سوچے گا۔

رائل ناروے سفارت حانے کے فرسٹ سیکرٹری نے چترال کے عوام کی مہمان دوستی اور مثالی امن پر نہایت خوشی کا اظہار کیا اور دنیا بھر کے سیاحوں کو دعوت دی کہ وہ ضرورت چترال آئے اور یہاں کے پر امن ماحول سے لطف اندوز ہوجائے۔

غیر ملکی وفد تین روزہ دورہ کرنے کے بعد دوبارہ ہاشو فاؤنڈیشن کے دفتر گئے جہاں انہوں نے اپنے تاثران کا ظہار کرتے ہوئے ان کے مالی معاونت سے جاری کام میں مزید بہتری لانے پر ہاشو فاؤنڈیشن کے ذمہ داران سے صلاح مشورہ کرکے اسلام آباد روانہ ہوئے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget