2 نومبر، 2016

سر سلطان محمد شاہ آغا خان III ایک عظیم مسلم رہنما : سالگرہ مبارک ہو!


تحریر نجمہ بی بی

آپ 2 نومبر 1877 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ کراچی اس وقت برٹش انڈیا کے صوبہ سندھ کا دارالخلافہ ہوا کرتا تھا اور آج یہ پاکستان کے صوبہ سندھ کا دارالخلافہ اور پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور تجارتی مرکز ہے۔ 

سرسلطان محمد شاہ آغاخان III آل انڈیا مسلم لیگ کے پہلے بانی صدر تھے۔ آپ مسلمانوں کے شیر دل، بہادر اور ویژنیری رہنما تھے۔ اپنی خاص قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت آپ نے مسلمانوں کی ولولہ انگیز قیادت کی، آپ کی ہی قیادت تھی کہ جس کی وجہ سے آل انڈیا مسلم لیگ بنی جو آگے چل کر ایک مضبوط قوت کی حامل مسلمانوں کی متحد تنظیم بن کر سامنے آئی۔ 

آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کا مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے مقاصد کا حصول و پیش ناموں کو آگے لے کرجانا اور برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ تھا۔ جس کا قیام 30 دسمبر 1906 کو برٹش انڈیا کے ڈھاکہ شہر جو آجکل بنگلہ دیش کا دارالخلافہ ہے میں عمل میں آیا۔ جس کے بانی رہنمائوں میں سر سلطان محمد شاہ آغا خان III، خواجہ سلیم اللہ، وقار الملوک، سید عامر علی اور سید نبی اللہ شامل تھے۔ جو آج مسلم لیگ کی شکل میں پاکستان میں 4 مختلف دھڑوں میں موجود ہے۔ لکھنئو میں ہیڈکوارٹر کے قیام کے بعد سرسلطان محمد شاہ آغا خان کو آل انڈیا مسلم لیگ کا پہلا صدر مقرر کیا گیا، جن کے 7 نائپ صدور بھی مقرر ہوئے تھے۔ پارٹی کا آئین قائد اعظم نے لکھا تھا۔ مسلم لیگ کے قیام کا اصل مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے تحفظ اور مسلمانوں کے لئے ایک آزاد مملکت کا قیام تھا۔ 

سرسلطان محمد شاہ آغاخان نے آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام میں رہنما کردار ادا کیا۔ ان کا عظیم مقصد برصغیر کے مسلمانوں کے مقاصد و پیش ناموں کو آگے لے کر جانا برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ، مسلمانوں کو ایک الگ قوم کی صورت میں تسلیم کروانا تھا۔ آپ آل انڈیا مسلم لیگ کے 7 سال تک صدر رہے اور بعد ازاں بھی قائد اعظم محمد علی جناح کو اپنے قمیتی مشوروں سے نوازتے رہے۔ آپ نے مسلمانوں کو اعلیٰ و جدید تعلیم کے حصول کے ذریعے سماجی طور پر مضبوط کیا۔ آپ نے انگریز سامراج کو بہادرانہ پیغام دیا کہ مسلمانوں کو انڈیا کے اندر ایک الگ قوم کی صورت میں دیکھا اور تسلیم کیا جائے۔ آپ کی بے شمار گرانقدر خدمات ہیں۔ آپ نے علی گڑھ یونیوسٹی کے لئے فنڈ ریزنگ کا ذمہ اٹھایا اور 1912 تک ریکارڈ 75 لاکھ روپے جمع کئے۔ آپ نے کئی اہم میٹنگوں میں متعدد بار مسلم لیڈرز کے وفد کی قیادت کی۔ برطانوی حکومت کی جانب سے بلائے گئے 3 گول میز کانفرنسز میں شریک ہوئے اور آزاد مسلم فیڈریشن کا تصور پیش کیا۔ آپ نے نہ صرف علمی و عقلی طور پر سرگرم رہے بلکہ اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ قیام پاکستان کے لئے وقف کردیا۔ 

1912 میں آل انڈیا مسلم لیگ کی صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد بھی آپ نے مسلمانوں کے لئے اپنی خدمات جاری رکھی۔ 1932 میں انہیں لیگ آف نیشنز کی نمائند گی کے لئے نامزد کیا گیا۔ اور ایک سال تک لیگ آف نیشنز کے صدر رہے۔

یہ عظیم مسلم رہنما 11 جولائی 1957 کو خالق حقیقی سے جاملے۔ آج 2 نومبر 2016 کو آپ کی 139 ویں سالگرہ ہے۔ 

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget