23 دسمبر، 2016

آو چترال چلیں : تحریرعبدالحسیب حیدر

 

کیا آپ پاکستان کے سب سے کمترین کرائم ریٹ کا حامل شہر دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ ارضی بہشت کی اصطلاح کا آنکھوں دیکھا مفہوم جاننا چاہتے ہیں ؟ آپ قدرت کے تمام رنگوں کو اکٹھا ایک کینوس پہ بکھرا دیکھنا چاہتے ہیں ؟ 



اگر " ہاں " تو انتظار کس بات کا ، رخت سفر باندھئیے گرم کپڑے اور مظبوط جوتے پہنئے اور ہمارے ہمسفر بنئیے ۔ 

آئیے آپ کو لے چلتے ہے الف لیلوی نگر چترال ۔

چترال کے فضائی سفر کو تو خیر سے آپ بھی خودکشی سمجھتے ہونگے تو بائی روڈ ہی نکلتے ہیں مردان سے چکدرہ پھر بائیں جانب تیمرگرہ سے آگے دیر کی مبہوت کن وادیوں سے ہوتے ہوئے آگے پہاڑی سلسلے پہنچئے ، وہ سامنے جو برف پوش پہاڑ نظر آرہا ہے یہ ہے " لواری" ایک دیو کے مانند چترال کے مرکزی دروازے پہ ایستادہ ، چترال پہنچنے کیلیے اس دیو کو پار کرنا پڑیگا ویسے یہ دیو کوئی نمائشی نہیں کافی خونخوار ہے ہر سال درجنوں جانوں کا خراج لیتا ہے 

لیکن ڈرئیے مت یہ جتنا خطرناک ہے اس سے ذیادہ دلچسپ بھی ،یہاں آپکو سرسبز و برفیلے قدرتی مناظر بھی ملینگے اور دل دہلا دینے والے موڑ بھی ۔ 

لواری سے اترتے ہی آپ قدرت کے حسیں نظاروں میں کھو جائینگے جنجریت ،عشریت کی سرسبز پہاڑیاں آپکا استقبال کرینگے یہیں دائیں جانب سابقہ ریاست " نگر " کا شاہی مہمان خانہ اور شاہی باغ ہے جو اب بھی اپنے پورے آب و تاب کیساتھ موجود ہیں ۔ شاہی باغ خوبصورت پھولوں ، نایاب و بلند درختوں اور عقب میں دریائے چترال کا منظر لیے شاہی خاندان کی اعلی ذوق کا عملی نمونہ ہے ۔ آگے بڑھئے اور چترال کےنسبتاً گنجان اور پسماندہ علاقے دروش کا نظارہ کیجئے 

یہاں سے کچھ آگے دائیں جانب ایک سرسبز و شاداب وادی آپکو دعوت نظارہ دی رہی ہے دریا کے کنارے واقع یہ سحر انگیز وادی " ایون " اپنے مسحور کن اور دلآویز حسن کے باعث اپکی یاد کا مستقل حصہ بننے کو ہے ، خوبصورت پہاڑوں ، ندیوں اور بلند درختوں کی یہ سر سبز و شاداب وادی قدرت کا حسین تحفہ ہے یہاں پہ مسجد کالان آپکی ذوق نفیس کی داد پانے کا منتظر ہے دیار کی لکڑی کا بنا فن کاریگری کا اعلی نمونہ یہ مسجد اپنے کاریگروں کی محنت و نفاست پہ نازاں ہے ۔ ایون دیکھو اور " سہن " نہ دیکھو تو کیا دیکھا آبشار ، چشموں اور حسین قدرتی مناظر سے بھرپور یہ سحرانگیز علاقہ آپکو دنیا میں جنت کا احساس دلادیگا ۔ سہن کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہ ارضی بہشت جنم بھومی ہے ملک گیر شہرت یافتہ اور مقناطیسی آواز کے مالک کھوار کے لیجنڈ گلوکار میرزا علی جان کی ۔ عمر رسیدہ مرزا صاحب آج بھی ترنگ میں آکر اپنے آواز کا جادو جگاتا رہتا ہے اگر سہن کے مبہوت کن مناظر میں میرزا کی آواز کا جادو بھی میسر آجائیے تو کیا کہنے ، خیر یہ بہت نصیبوں کی بات ہے آگے بڑھتے ہے 

یہی وادی راستہ ہے شہرہ آفاق قبیلے " کیلاش " کےمسکن کا ، جسکو مقامی لوگ " کافرستان " کہتے ہیں ۔ کافرستان کا علاقہ تین چھوٹے وادیوں سے تشکیل پاتا ہے جس میں بمبوریت ، رنبور اور بریر شامل ہیں ۔ یہ تینوں علاقے ایک دوسرے سے متعصل اور حسین قدرتی مناظر سے بھر پور ہے یہاں آپکو وسیع آبشار ، چشمے ، دریا ، سرسبز پہاڑ و وادی اور خطرناک راستے ملینگے ۔ کیلاش کی وجہ شہرت اسکا ہزاروں برس پرانے رسم و رواج ہے کیلاش کا رقص و لباس بھی چارداہنگ عالم مشہور ہے جبکہ ان کا مزھب بھی ایک معمہ ہی ہے ۔

یہاں سے واپس آئیے بڑی سڑک پہ چڑھئیے اور آگے بڑھئیے کچھ آگے " ہر دم پر دم " کا سلوگن لیئے چترال سکاوٹ کا خوش مزاج دستہ آپکے استقبال کیلئے موجود ہے ۔ تعارف کروائیے ، مقصد آمد بتائیے اور آگے بڑھئیے ، یہیں سے شہر چترال کا آغاز ہوتا ہے ایک خوبصورت ، خوش مزاج اور خوش اخلاق شہر میں خوش آمدید

شہر چترال میں آپکو ہر رنگ نظر آئیگا جدت کے حوشنما رنگ بھی اور قدامت کے پکے رنگ بھی یہاں آپکو کوہ قاف کی کہانیاں بھی ملیگی اور کچھ اصلی ، چلتے پھرتے " جن " بھی ، جو یہاں کے وسائل کو بغیر ڈکار لئے ہڑپ کر گئے عرف عام میں انکو سیاسی قائدین کہتے ہیں یہ جن یہاں صرف الیکشن کے دنوں میں نظر آتے ہیں بعد میں اپنے کوہ قاف اسلام آباد منتقل ہو جاتے ہیں اگلے الیکشن تک کیلیے ۔ شہر چترال میں آپکو بہترین ہوٹلز اور درمیانے درجے کے ریستوران ملینگے اس چھوٹے شہر میں آپکو قدرت کے سارے رنگ بھی ملینگے بےقرار دریا بھی اور پرسکون پہاڑ بھی خوشنما سبزہ بھی اور گرد اڑاتی کچے راستے بھی ۔ شہر کے درمیان میں قدیم شاہی مسجد آج بھی اپنے پورے آب وتاب کیساتھ موجود اور شاہی خاندان کی مذھب سے لگاو و فن تعمیر سے دلچسپی پہ داستان گو ہے ۔ شاہی مسجد کے عقب میں شاہی قلعہ اور شاہی محل موجود ہے سابق حکمرانوں کے جاہ و جلال کی یہ نشانیاں اب بھی پورے آب وتاب سے قائم ہے اور اپنے اندر صدیوں کے راز لئے ہوئے ہیں گو کہ اس کو اندر سے دیکھنے کی عام اجازت نہیں لیکن کسی شہزادے کی داڑھی پاوں پکڑ کے اندر پہنچا جاسکتا ہے اور اندر ایک داستان در داستان کا سمندر آپکا منتظر ہوگا ۔ 

یہیں شاہی محل و قلعے کے وسط میں آپکو بلند و دیوہیکل درختوں کے گھیرے میں ایک وسیع سرسبز میدان دکھائی دیگا مقامی نوجوان و طلباء یہاں فٹبال کے کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہیں ، یہ گراونڈ چترال کے تاریخ کے بیشمار یادگار تقریبات کا میزبان بھی رہ چکا یے ۔

یہیں سے شہر کا الٹا سفر شروع کرے تو چترال میوزیم آپکے قدم روکے گا زمانہ قبل مسیح اور بعد کے وقت کے نوادرات آپکو تاریخ چترال کے بارے میں بہت کچھ بتائیگی ، آگے بڑھئے اور چترال کے بازاروں کا ایک آوارگردانہ تجزیہ کیجیے یہاں آپکو قدیم و جدید مارکیٹوں سے واسطہ پڑیگا آگے چترال کا مشہور پولو گروانڈ ہے جواں مردوں کا کھیل پولو چترال کا مرعوب و مقبول کھیل ہے 

یہیں سے واپس ہوتے ہے چیو پل کی جانب ، کہ اب ہمارا سفر پر خطر بلند و بالا پہاڑوں اور جنت نظیر وادیوں کی جانب شروع ہوتا ہے ہمارے ساتھ رہئیے 

(بقیہ علاقوں کی رواداد انشاءاللہ اگلے کالم میں )

مصنف کا فیس بک پروفائل 

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget