24 دسمبر، 2016

وزیراعظم کی بلاسود قرضہ اسکیم سے ڈھائی لاکھ افراد خود انحصاری کے راستے پر گامزن ہوگئے ہیں



اسلام آباد:  پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ (پی پی اے ایف) نے وزیراعظم آفس میں ڈھائی لاکھ افراد کو کامیابی کے ساتھ خود انحصاری کے راستے پر گامزن کرنے کی خوشی میں ایک تقریب کا انعقاد کیا ۔ یہ تقریب وزیراعظم کی سود سے پاک قرضوں کی اسکیم (وزیراعظم کی بلاسود قرضہ اسکیم )سے حاصل کی گئی اہم کامیابی کو اجاگر کرنے کے لئے منعقد ہوئی ۔ پی پی اے ایف کی بھرپور کاوشوں سے اس اسکیم کے تحت اب تک ڈھائی لاکھ افراد بلاسود قرضہ حاصل کرچکے ہیں ۔ 

تقریب میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار بطور مہمان خصوصی موجود تھے۔ انہوں نے کہا، حکومت پاکستان نے بلاسود قرضہ اسکیم متعارف کرائی جس کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی بےروزگاری اور غربت کے مسائل کا خاتمہ کرنا ہے ۔ اس اسکیم کے تحت وفاقی حکومت کے بجٹ سے 3.5 ارب روپے (3.1 ارب روپے قرضوں کیلئے) مختص کئے گئے تاکہ معاشرے کے غریب طبقات کو اپنا چھوٹا کاروبار قائم کرنے میں سہولت حاصل ہو۔ اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا کہ اس اسکیم کے تحت قومی سطح کے سب سے بڑے ادارے پی پی اے ایف کے ذریعے یہ فنڈز تقسیم کئے جائیں اور ان یونین کونسلز تک رسائی حاصل کی جائے جہاں روایتی مائیکروفنانس کا عمل دخل محدود یا بالکل نہیں ہے۔ وزیراعظم کی انٹرسٹ فری لون اسکیم کے ساتھ ہم پسماندہ طبقات بالخصوص دیہی علاقوں کی غریب خواتین تک رسائی کے قابل ہوگئے جن کے پاس کاروبار چلانے کی صلاحیت تو ہے لیکن وہ روایتی مائیکروفنانس تک رسائی کے معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ "

وزیراعظم یوتھ پروگرام کی چیئرپرسن لیلیٰ خان نے بتایا، "موجودہ حکومت پاکستان کے غریب عوام بالخصوص خواتین، نوجوانوں اور سہولیات سے محروم افراد کو بھرپور مواقع فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے تا کہ یہ افراد قومی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکیں۔ پی پی اے ایف کو حکومت پاکستان کی جانب سے چار سال (2014-2018) تک سود سے پاک قرضوں کی اسکیم (پی ایم آئی ایف ایل اسکیم )کا انتظام، عمل درآمد اور نگرانی کے لئے بااختیار بنایا گیا ہے۔ اس سفر کا آغاز جولائی 2014 میں ہوا جس کے لئے 3.5 ارب روپے مختص کئے گئے۔ ان میں سے 3.1 ارب روپے بطور قرض فراہم کئے گئے جبکہ فنڈز کی مو ¿ثر فراہمی اوراور 99 فیصد ریکوری کی شرح کے ساتھ اب تک 5.5 ارب روپے تقسیم کئے جاچکے ہیں ۔"

انہوں نے مزید کہا، "اس پروجیکٹ کی اہم کامیابی یہ ہے کہ 50 ہزار سے زائد قرض لینے والے افراد بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے رجسٹرڈ شدہ مستحق افراد تھے جو اب نقد امداد پر انحصار کرنے کے بجائے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔ "

تقریب میں پی ایم آئی ایف ایل کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر محمد امجد ثاقب نے بلاسود قرضہ اسکیم سے استفادہ کرنے والے پاکستان کے مختلف علاقوںتعلق رکھنے والے ان 26 غیرمعمولی افراد کی کامیابیوں پر مشتمل کتابچہ متعارف کرایا جو وہاں پر موجود تھے ۔ اس موقع پر ان غیر معمولی افراد کو مختلف کٹیگریوں میں ایوارڈز دیئے گئے۔ تقریب میں انہوں نے چار غیرمعمولی افراد کو متعارف بھی کرایا جنہوں نے بتایا کہ سود سے پاک قرضوں کی بدولت کس طرح سے وہ اپنے پاو ¿ں پر کھڑے ہوئے اور اپنے لئے پائیدار انداز سے روزگار کا سلسلہ شروع کیا۔ 

پی پی اے ایف کے چیف ایگزیکٹو قاضی عظمت عیسیٰ نے کہا، 
"یہ حکومت پاکستان کی جانب سے بہترین قدم ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ بینکوں کی سہولیات سے محروم افراد کو مالی سہولیات حاصل ہوں۔ پی ایم آئی ایف ایل اسکیم کے ذریعے ہم انتہائی دور دراز اور مشکل ترین علاقوں میں لوگوں کو قرضوں کی فراہمی کے لئے پہنچے جو صرف امداد کے ہی مستحق تھے۔ پی ایم آئی ایف ایل اسکیم سے مستفید ہونے والے انتہائی غریب افراد نے اپنے کاروبار شروع کئے ہیں اور پی پی اے ایف نے مالی اور تکنیکی وسائل کے ساتھ اہم سرمایہ کاری کی ہے۔ شراکت دار تنظیموں اور پی پی اے ایف نے ٹریننگ، مارکیٹوں میں بہتر روابط اور قرض لینے والوں کو 233 کاروباری رہنمائی مراکز کے ذریعے بہترین اضافی خدمات فراہم کیں ۔ اس کے نتیجے میں سود سے پاک قرضوں کی فراہمی کے مواقع ممکن ہوئے جس کی بدولت اب وہ افراد فائدہ اٹھانے اور اپنے کام کو آگے بڑھانے کے لئے تیار ہیں۔ "

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget