11 دسمبر، 2016

نوحہ چترال : تعلیم و تہذیب میں سب سے آگے لیکن ترقی میں سب سے پیچھے : تحریر عبدالحسیب حیدر

 

نوحہ چترال : تعلیم و تہذیب میں سب سے آگے لیکن ترقی میں سب سے پیچھے

تحریر عبدالحسیب حیدر

پاکستان کا سوتیلا علاقہ ، مہمان نواز ، نرم خو خوبصورت اور شائستہ لوگوں کی وادی، تعلیم و تہذیب میں سب سے آگے ، ترقی میں سب سے پیچھے یہ ہے سنگلاخ پہاڑوں اور خوبصورت وادیوں کا دیس چترال ۔ 

باشندگان چترال پاکستان کے حق میں بلا کے محب وطن واقع ہوئے ہیں اور جتنے یہ محب وطن ہیں اتنا ہی ان کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا ہے ۔

وادی چترال کے ذیادہ تر باشندگان تعلیم ، روزگار یا علاج معالجے کیلیے ملک کے دوسرے شہروں پہ انحصار کرتے ہیں کیونکہ یہ تمام سہولتیں اور روزگار کے مواقع چترال میں بفضل سیاسی قیادت موجود نہیں ۔ اور ملک کے دوسرے علاقوں سے چترال کا رابطہ صرف ایک پرپیچ اور موڑ در موڑ پہاڑی سڑک لواری ٹاپ ہے ۔ مشرف دور میں اس پہ ایک سرنگ کا آغاز ہوا مشرف دور میں ہی اس سرنگ پہ 80 فیصد کام مکمل ہوگیا تھا بعد میں چترال کی قسمت کا یہ دروازہ روایتی سیاست اور فنڈ مافیا کا شکار ہوا اور آج آٹھ سال بعد بھی حالت یہ ہے کہ یہ سرنگ صرف برفباری کے سیزن میں تین مہینے کیلیے عام ٹریفک کیلیے کھلتا ہے وہ بھی مخص ہفتے میں 12 گھنٹے ۔ ایسے میں برفباری کے سیزن میں جب لواری ٹاپ پانچ سے چھ مہینے کیلیے بند ہوجاتی ہے چترال کے محصور باشندے قومی ائیر لائن کے رحم و کرم پہ ہوتے ہیں جو ہر سال کرایوں میں ظالمانہ اضافہ کر کے دنیا کے پرانے ترین و ناکارہ جہاز اس روٹ پہ چلاتے ہیں ۔ جب بھی پی آئی اے کے مختاران سے اس ظلم کے بابت احتجاج کیا جاتا ہے تو آگے سے فضائی سروس کے مہنگا ہونے اور چترال کو اس سروس کی فراھمی کا احسان یاد دلا کے حکومت وقت کی قصیدہ گوئی کا نادر مشورہ دیا جاتا ہے۔

7 دسمبر کے اندوہناک فضائی حادثہ کم از کم میرے لیے غیر متوقع ہرگز نہیں تھا اس روٹ کے فضائی سروس سے واقفان کو ایسے حادثے کا حدشہ ایک عرصے سے لاحق تھا میرے نزدیک تو یہ حادثہ نہیں بلکہ قتل کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ حادثہ غیر متوقع واقعے کانام ہے ۔ اوپر سے پی آئی اے کے چیئرمین کا زحموں پہ نمک چھڑکنے والا بیان کہ بدقسمت طیارے کو ایک انجن پہ اڑانے کا تجربہ کیا جارہا تھا صورتحال واضح کرنے کیلیے کافی ہے اس بیان کے بعد یہ ایک حادثہ نہیں رہ جاتا بلکہ ایک واضح جرم بن جاتا ہے 

اب ضرورت اس امر کی ہے اس واقعے کے زمہ داران کا تعین کر کے محکمانہ سزائیں دی جائیں ۔ چترال ، گلگت اور سکردو روٹ پہ چلنے والے طیاروں کو فیلڈ کر کے مناسب اور چھوٹے طیارے دئیے جائے اور سب سے بڑھ کے لواری ٹنل پراجیکٹ سے فنڈ مافیا کا خاتمہ کر کے لواری ٹنل پہ بقایا رہ جانے والے کام جلد از جلد نمٹا کر ٹنل کو کل وقتی کھول دیا جائے تاکہ اہلیان چترال کے سفری مسائل کا مستقل خاتمہ ہوں اور چترال میں سیاحت ، صنعت اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو سکے ۔ 

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget