18 جنوری، 2017

غیروں میں شادی کا ایک اور بھیانک انجام، چترالی لڑکی سوات میں شوہر کے ہاتھوں قتل



چترال (وقائع نگار خاص ٹائمز آف چترال) ایک اور چترالی لڑکی ماں باپ کے غلط فیصلے کی بھینٹ چڑھ گئی۔ 12 سال کی عمر میں سوات میں بیاہی جانے والی لڑکی کو گزشتہ دنوں شوہر نے قتل کردیا۔ جس وقت لڑکی کی شادی کرادی گئی تھی اس وقت لڑکی کی عمر 12 سال اور چھٹی جماعت کی طالبہ تھی۔ لڑکی کا تعلق چترال کے اورغوچ گاون اور والد کا نام مفتاح الدین بتایا جاتاہے۔ نہ جانے کس لالچ میں بچی کی شادی کم عمری میں سوات کے رہائشی امیرزادہ سے کرادی گئی، متوفی کے 3 بچے ہیں۔ معمولی گھریلو تنازع پر امیرزادہ اپنی جلاد ماں کے ساتھ مل کر چھریوں سے وار کرکے لڑکی کو قتل کردیا۔ سوات پولیس مجرم کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

یہ واقعہ پہلا نہیں اور نہ ہی آخری ہے۔ یہاں اس امر کی اشد ضرورت ہے ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے قانون سازی کی جائے۔ علماء اور مقامی رہنماوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔ تاکہ ایسے معاملات میں مداخلت کرکے ایسے والدین کو مشاورت فراہم کرسکیں۔ اور ایک انسان ہونے کے ناطے یہ ہم پر فرض ہے کہ اگر ہمارے علاقے میں ایسا کوئی واقعہ پیش ہونے جارہا ہو ہم اس کی رپورٹ کریں اور ان والدین کو اس کام سے باز رکھنے کی کوشش کریں اور جہاں تک ہوسکے ان کی کونسلنگ کریں۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget