اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

12 جنوری، 2017

چترال، گرم چشمہ کے واحد سکول میں سائنس کی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء پر تعلیم کے دروازے بند

 

چترال (ٹی و سی نیوز ڈیسک) چترال کے دور دراز علاقے گرم چشمہ میں واحد گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول امسال سائنس کے طلباء کو داخلے دینے سے انکار کیا جارہا ہے جس کی وجہ انتظامیہ فنڈ کی عدم دستیابی بتارہی ہے۔ مذکورہ سکول میں سال 2007 میں فنون کی کلاسز کا آغاز کردیا گیا تھا جس کے لئے 5 مضامین پر بیک وقت عبور رکھنے والے استاذ کاتقرر کیا گیا تھا، علاقے کے طلباء کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے 2014 میں ڈائریکٹر ایجوکیشن نے سکول انتظامیہ کے مشورے سے سائنسز کی کلاسز کا آغاز کروایا، جس کے لئے طے پایا تھا کہ سائنس کی کلاسوں کو پڑھانے کے لئے سائنس ٹیچر کی تعیناتی اور دیگر لیب وغیرہ کے اخراجات پوری کرنے کے لئے کچھ پیسے طلباء سے حاصل کئے جائیں اور کچھ سکول فنڈز سے ملاکر کلاسز کا انتظام کیا جائے، اس ترکیب سے سکول میں کلاسز کا آغاز ہوگیا تھا لیکن 2016 میں سکول فنڈ ختم ہونے سے سکول اپنے حصے کا فنڈ دینے سے قاصر ہے، اس مسئلے کے پیش نظر سائنس کی کلاسوں میں داخلے سے معذرت کی گئی ہے۔


سکول انتظامیہ کے فیصلے سے علاقے کی عوام سراپا احتجاج ہیں اور طلباء شدیدی پریشان۔ صحت اور تعلیم میں تبدیلی کے خیبر پختونخواہ حکومت کے دعوے کہاں گئے کیوں نہ ان کو عملی جامہ پہنایا جارہا ہے۔ صوبائی حکومت، وفاق اور وزیرتعلیم سمیت ضلعی انتظامیہ سے اس مسئلے کی جانب توجہ کی درخواست کرتے ہیں۔ مذکورہ سکول کی جانب توجہ دیکر علاقے کے طلباء کے مسائل جلد از جلد حل کئے جائیں۔



فوٹی کرٹیسی فیس بک فرینڈ

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں