اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

2 فروری، 2017

بالائی چترال کی وادی بروغل میں شدید برفباری سے نظام زندگی شدید متاثر، فوری مدد کی اپیل، ساڑے 3فٹ برف پڑچکی ہے۔

 

چترال / بروغل (رپورٹ ابوالحسنین 2 فروری) چترال کے بالائی علاقے ان دنوں برفباری سے شدید متاثر ہوئے ہیں ان میں سے ایک وادی بروغل بھی ہے۔ بروغل چترال کا دور دراز وادی ہے۔ یہاں ان دنوں ساڑھے 3 سے لیکر 4 فٹ برف پڑی ہے جس سے لوگوں کی زندگیاں شدید متاثر ہوئیں ہیں، علاقوں میں جانے کے تمام راستے بند ہوجانے سے علاقے میں دوا، غذا اور دیگر ضروریات زندگی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ بوقت ضرورت سفر کرنے والوں کو 80 کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑ رہا ہے۔ ناظمین اور کونسلر نے حکومت سے ہنگامی مدد کی اپیل کی ہے حکومت ہیلی کاپٹروں کے ذریعے مذکورہ علاقے میں اشیاء ضرور پہنچائے اور مریضوں کو لوئر چترال کے ہسپتالوں میں لے جانے میں مدد دے۔

ویلیج ناظم بروغل امین جان تاجک اور یارخون لشٹ کے کونسلر نادر خان نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں، نیشنل ڈیزاسٹر منجمنٹ کے چیرمین اور پی ڈی ایم اے حکام سے اپیل کی ہے کہ چترال کے وادی بروغل کے 4 فٹ برف میں پھنسے ہوئے لوگوں کی مدد کریں۔ لوگ انتہائی مشکل حالات سے گز رہے ہیں، سردی اور غذائی قلت سے بچانے کے لئے فوری اقدامت کریں۔ شدید سردی کی وجہ سے لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں اسلئے ضروری ادویات یہاں پہنچائیں جائیں۔ بروغل کے ناظم نے بتایا کہ وہ بروغل سے 4 دن پیدل چل کر چترال شہر آیا ہے۔ تاکہ عوام کی آواز حکام بالا اور میڈیا تک پہنچا سکے۔ 

انہوں نے بتایا کہ علاقے میں نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہے اور 4 فٹ برف پڑنے کی وجہ سے لوگ گھروں میں محصور ہوگئے ہیں۔ بیماریوں کی وجہ سے دو ہفتوں میں 3 افراد جان بحق ہوئے ہیں۔ ڈسپنسریاں خالی پڑی ہیں ادویات ختم ہوگئی ہیں۔ آمدورفت نہ ہونے کے باعث غذائی اشیاء بھی ختم ہوگئی ہیں۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے بر وقت مدد نہ کی تو لوگ بھوک اور بیماریوں سے مر جائیں گے۔ 

انہوں نے مزید بتایا کہ بروغل جانے والا راستہ دوبار گر، رواک، شوشت اور ویدین کھوت کے مقامات پر برفانی تودے گرنے کی وجہ سے بند ہے۔ روڈ کی بندش کی وجہ سے لوگوں کو 80 کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑتا ہے۔ وہ بھی شدید سردی اور ساڑھے 3 فٹ برف پر۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ حکومت فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے علاقے میں امدادی سامان، خوراک اور ادویات پہنچانے کا انتظام کرے۔ 

فوٹو کرٹیسی واصف شکیل

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں