24 فروری، 2017

قبائلی علاقہ جات کا مسئلہ : کریم اللہ

قبائلی علاقہ جات کا مسئلہ 

تحریر: کریم اللہ

قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخواہ میں ضم کرنے کے حوالے سے بحث ومباحثوں کا بازار گرم ہے ۔وفاقی حکومت کی جانب جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخواہ میں ضم کرنے کی تجویزدی ہے۔ جس پر تقریبا سارے بڑے سیاسی جماعتین متفق ہیں ان میں جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی، قومی وطن پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف شامل ہے۔البتہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اورپختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اس فیصلے کی مسلسل خلاف ورزی کررہے ہیں ان کا موقف ہے کہ قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخواہ میں ضم کرنے کی صورت میں قبائلیوں کا شناخت مسخ ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قبائلوں یا اپنے حالت پر چھوڑا جائے ی پھر الگ صوبے کی حیثیت دی جائے جبکہ یہ مطالبہ بھی ہورہاہے کہ قبائل کے عوام سے ریفرنڈم کروایاجائے۔اس دوران قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے منتخب عوامی نمائندے جلد ازجلد ان علاقوں کو پختونخواہ میں ضم کرکے وہاں سے ایف سی آر جیسے کالے قانون کے خاتمے کے لئے بھی جدوجہد کررہے ہیں،تاکہ فاٹا کے لوگوں کو بھی قومی دھارے میں لانے اور وہاں انسانی حقوق کی جو سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہے ان کا خاتمہ کیاجائے۔ 

جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے فاٹا کو پختونخواہ میں ضم کرنے کی مخالفت سمجھ سے بالاتر ہے البتہ ایک تاثر یہ ہےکہ قبائلی عوام گوکہ سخت مزاج ہے۔ لیکن سیاسی لحاظ سے سیکولر خاصیت کے مالک ہے شائد مولانا صاحب کا خیال یہ ہے کہ اگلے انتخابات میں وہ مسلم لیگ (ن) سے اتحاد کرتے ہوئے صوباَئی حکومت پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہونگے لیکن فاٹا کے خیبرپختونخواہ میں انضمام کی صورت میں سیاسی مظہر کے تبدیل ہونے کے امکانات ہے کیونکہ اس خطے میں قوم پرستوں کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کا مضبوط ووٹ بینک موجود ہے ساتھ ہی پاکستان تحریک انصاف بھی وہاں اپنی پوزیشن مستحکم بنانے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ اسی خوف کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن فاٹا کو کے پی میں ضم کرنے کی مخالفت کررہے ہیں۔ 

ایک اور تاثر یہ ہے کہ شائد وفاقی حکومت فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے میں مخلص نہیں کیونکہ اس صورت میں صوبے کا رقبہ نہ صرف بڑھ جائے گابلکہ آبادی میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوگا جو اگر پنجا ب کی برابر ی نہ بھی کریں تب بھی پنجاب پر اثر انداز ہوسکتاہے یوں مسلم لیگ (ن) اور میاں برادران کو لینے کے دینے پڑجائیں گے۔ یہی وہ خوف ہے جس کی وجہ سے وفاقی حکومت اپنے دو اتحادیوں یعنی جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پختونوں کے حقوق کے خود ساختہ علم بردار محمود خان اچکزئی کو بھاری رقم دے کر میدان میں اتارا ہے تاکہ غیر مرئی انداز سے پختونوں کے ذریعے ہی پختونوں کے پاؤں میں کلہاڑا مارا کر ہمیشہ کے لئے لنگڑا کیاجائے، یہی وجہ ہے کہ دونوں سیست دان مختلف حیلے بہانوں سے قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخواہ میں انضمام کی راہ میں روڑے اٹکارہےہیں۔

ایف سی آر کیا ہے ؟

جب انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو مختلف علاقوں کے لوگوں کی مزاج کو بھانپتے ہوئے ان کو اپنے زیر کنٹرول رکھنے کے لئے مختلف قوانین کا اجرا کیا ان میں سے ایک ایف سی آر نامی قانون کا نفاذ بھی تھا جو کہ اس دور کے شمال مغربی سرحدی صوبہ 

( خیبرپختونخواہ)، قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان پر نافذ العمل تھا۔ ایف سی آر یعنی فرنٹیر کرائمر ریگولیشن کا نفاذ انگریزوں نے انیس سو ایک عیسوی میں کیا جو کہ بنیادی طورپر بلوچستان، موجودہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقہ جات (فاٹا) پر مسلط تھا۔ فاٹا یعنی وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے سات ایجنسیوں یعنی اضلاع پر مشتمل ہے جن میں سے باجوڑ، مہمند، اورکزئی ایجنسی، خیبر، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان شامل ہے۔ فاٹا کے جنوب مشرق میں خیبرپختونخواہ کاعلاقہ اور شمال مغرب میں افغانستان واقع ہے۔

ایف سی آر کے بنیادی نکات:

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات انتظامی وسیاسی لحاظ سے خیبرپختونخواہ کے گورنر کے زیر کنٹرول ہے پورے فاٹا پر ایف سی آر نامی قانون لاگو ہے۔ ایف سی آر کی موجودگی میں فاٹا کے عوام مندرجہ ذیل بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے۔

۱: اپیل، وکیل اور دلیل:

فاٹا کی ہر ایجنسی میں اختیارات کااصل منبع پولیٹیکل اور اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ ہوتا ہے جن کے پاس عدلیہ اور انتظامیہ کے لامحدود اختیارات ہوتے ہیں۔اگر فاٹا کے کسی فرد پر پولیٹیکل ایجنٹ کوئی فرد جرم عائد کریں تو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق نہیں ہوتا نہ ہی ملزم پر الزام ثابت ہونے سے قبل وکیل کرنے اور مکمل ٹرائیل کے بعد فیصلے کا موقع دیا جاتاہے۔ یعنی فاٹا کے رہائیشی اپیل ، وکیل اور دلیل کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہوتے ہیں۔

۲: ایف سی آر کلازنمبر ۲۱، مشترکہ سزاکاتصور:

اگر کسی گاؤں، محلہ ، مخصوص علاقہ یا قومیت سے تعلق رکھنے والا فرد کوئی جرم کریں تو اس جرم کی پاداش میں سارے گاؤں، محلہ، یا قومیت کو اجتمامی سزا دی جاتی ہے سزاؤں میں جائیداد سے بے دخلی، املاک کو ضبط کرنا او رگھر بار جلانا شامل ہے۔

۳: ایف سی آر کی رو سے پولیٹیکل ایجنٹ اوراسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ لامحدود انتظامی اورعدالتی اختیارات کے مالک ہوتے ہیں جس کی وجہ سے قانون کی نفاذ میں شفافیت کا عنصر عموما مشتبہ ہوتاہے کیونکہ سارے انتظامی وعدالتی اختیارات ایک بیوروکریٹ کے سپرد کرتے ہوئے اختیارات کے ناجائز استعمال کوروکنا ممکن نہیں۔یہی وجہ ہے کہ فاٹا میں بنیادی انسانی حقوق کی ورزیاں روز مرہ کا معمول ہیں۔ پولیٹیکل اور اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ بے انتہا کرپشن اور خرد برد میں ملو ث پائے گئے ہیں۔

۴: ایف سی آر کے مطابق کسی بھی ملزم کے خلاف قبائلی جرگے کے ذریعے فیصلہ سنایا جاتاہے۔جرگہ /کونسل متعلقہ شخص کے خلاف فیصلہ پولیٹیکل ایجنٹ کے سپرد کرتے ہیں۔ پولیٹیکل ایجنٹ اس فیصلہ پر عمل درآمد کا پابند نہیں ہوتااور پولیٹیکل ایجنٹ کے فیصلے کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیاجاسکتا۔

۵: ایف سی آر، سیکشن ۲۳ کے مطابق اگر کسی گاؤں میں قتل ہوجائے تو سارے گاؤں کو اجتماعی طورپر اس قتل کا ذمہ دارٹہرایاجاتاہے سیکشن ۲۳،۲۲ کے مطابق ایک فرد کے جرم پر ساری برادری پر جرمانہ عائد کیاجاتا ہے۔

۶: سیکشن ۵۶ کے مطابق اگر برادری وہ جرمانہ ادا نہ کریں تو ان کی جائیداد ضبط کردی جاتی ہیں۔

یہی وہ کالے قوانین ہے جو گزشتہ ایک سو پندرہ برسوں سے قبائلی عوام پر مسلط ہے۔لیکن آج جب پاکستان کی ساری سیاسی جماعتیں متفق ہو کراسی کالے قانون کے خاتمے کا اعادہ کررہے ہیں تو اسی دوران مولانافضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کو قبائلیوں کی شناخت یاد آگئی۔ ان کے نزدیک ایف سی آر جیسا کالا قانون ہی قبائلیوں کی شناخت ہے۔ یعنی اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے بے آسرا قبائلیوں کو بنیادی انسانی حقوق سے اب بھی محروم رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ 

سن دوہزار ایک عیسوی کے سروے کے مطابق فاٹا کی کل آبادی چوالیس لاکھ باون ہزار نوسو تیرہ افراد پر مشتمل ہیں جو کہ ملکی آبادی کا دو سے دواعشاریہ چار فیصد بنتا ہے۔ فاٹا میں شرح خواندگی کل ملا کر بائیس فیصدہے ان میں سے پینتیس فی صد مرد اور عورتوں کا تناسب صرف سات اعشاریہ پانچ فیصد ہے۔ 

۱۹۴۷ء کے بٹورے اور قیام پاکستان کے بعد جب ۱۹۵۶کا آئین بنا تو موجودہ خیبرپختونخواہ (صوبہ سرحد) سے ایف سی آر کاخاتمہ کردیا گیا ۱۹۷۳ کے آئین کے نفاذ کے بعد بلوچستان، ملاکنڈاوردیر سے بھی ایف سی آر کا خاتمہ کرکے براہ راست ملکی آئین کے زیر انتظام لایا۔ 

اب وقت آگیا ہے کہ قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کرکے ڈیورنڈ لائین کے مسئلے کو ہمیشہ کے لئے خاتمہ کرنے کے ساتھ ان علاقوں کے باسیوں کو بنیادی انسانی حقوق سے مستفید ہونے کاموقع فراہم کیاجائے۔ کیونکہ قبائلی بھی ہماری طرح ہی کے انسان ہے ان کے ساتھ جانوروں سے بھی بدترین سلوک اکیسویں صدی میں قابل قبول نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت بالخصوص میاں نواز شریف اپنی ذاتی مفادات کے لئے ملاؤں اورنام نہاد قوم پرستوں کے لئے تجوریاں کھول کر قبائلیوں کے زخموں پر نمک پاشی کی بجائے فاٹا کو خیبرپختونخواہ میں ضم کرکے ان کے ستر سالہ زخموں پرمرحم رکھنے کابندوبست کریں بصورت دیگر قبائل میں احساس محرومی مزید گہری ہوگی جس کا نتیجہ پھر شدت پسندی کی صورت میں برآمد ہوسکتاہے۔ 

_________________________

کریم اللہ

ان کا تعلوق چترال سے ہے۔ کریم اللہ نے پشاور یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں گرایجویش کیا ہے۔ صحافی‘ کالم نگار اور بلاگر ہیں اور مختلف موضوعات سیاست‘ سماجی مسائل اور ثقافتی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget