اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

27 فروری، 2017

"چترال یونیورسٹی اور پی ٹی آئی حکومت کی قلابازیاں"۔ لیٹر ٹو ایڈیٹر

"چترال یونیورسٹی اور پی ٹی آئی حکومت کی قلابازیاں"۔ لیٹر ٹو ایڈیٹر

سیکٹری پاکستان مسلم لیگ (ن) دروش چترال۔

 7 ستمبر 2016 کو وزیراعظم جناب میاں محمد نواز شریف صاحب چترال میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دو کلیدی منصوبہ جات 
1-چترال یونیورسٹی کا قیام، .
2- 250 بڈ پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر اور
3- مقامی حکومت کو 20 کروڑ روپے امداد دینے کا اعلان کیا تھا۔ مزکورہ منصوبہ جات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آئینِ پاکستان اور رائج الوقت قانون و ضوابط کے مطابق صوبائی حکومت پر یہ امر لازم تھا کہ وہ آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل 246/247 کی رُو سے، Land Acquisition Act 1894 کے تحت اراضی لے کر مرکزی حکومت کو اس کی proposal ارسال کرتی۔ تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے اس نسبت کوئی پیش رفت آج تک سامنے نہیں آئی۔ اور صوبائی حکومت کے نمائندہ گان، اُن میں سے ایک ہماری چترال کی بیٹی محترمہ MP Bibi Fouzia صاحبہ بھی ہیں، جو چترال سے مخصوص نشست پر پی۔ٹی۔آئی حکومت کی نمائندہ ہیں، اپنے فرائض کی انجام دہی کے بجائے آئے روز عوامِ چترال کو چترال یونیورسٹی اور ہسپتال کی بابت مختلف غیرحقیقی قصّے کہانیاں سنا کرگمراہ کرنے پر تُلی ہوئی ہیں۔ 

صوبائی حکومت کو چاہئے کہ وہ فی الفور مزکورہ اہم منصوبہ جات کے لیے اراضی کا تعین کرکے مرکزی حکومت کو proposal ارسال کرے۔ میں بحیثیت کارکن پاکستان مسلم لیگ(ن) صوبائی حکومت سے گزارش کرتا ہوں کہ خدارا! بس کیجئے، ہمیں آزمائش میں مت ڈالیں، قوم کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے سے باز رہیں، ہمیں "شیخ چلی" کی کہانیاں سنانے کی بجائے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے "چترال یونیورسٹی" اور "ہسپتال" کے لیے اراضی کا انتخاب کرکے مرکزی حکومت کو آگاہ کریں۔ یہاں میں عوام چترال کی تسلّی کے یے یہ بات بھی عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اراضیات فراہم کرنے بعد اگر مرکزی حکومت کی جانب سے کوئی تاخیر یا صوبائی حکومت کے مقابلے میں دوگُنا فنڈ اِن منصوبہ جات کے لیے مہیا نہ کروایا گیا تو نہ صرف میں، بلکہ میری پوری پارٹی اس کی ذمہ داری قبول کرے گی۔ "پھر نہ کہنا کہ ہمیں خبر نہ ہوئی" خیر اندیش نویدالرحمٰن چغتائی جنرل 



کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں