24 فروری، 2017

چترال: میں یوٹیلیٹی اسٹورز پرفروخت ہونے والے گھی کی جانچ پڑتال نہ ہوسکی، سپریم کورٹ کا نوٹس

 

چترال (نمائندہ ٹی او سی)  چترال کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر غیر معیاری اور مضر صحت گھی فروخت ہورہاہے، برف باری کے سبب جن کے سیمپل جائزے کے لئے نہیں لئے جاسکے۔ 
گزشتہ ہفتے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے روبرو یوٹیلٹی اسٹووز پر غیر معیاری گھی کی فروخت پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی جس میں وکیل نے بتایا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر فروخت ہونے والے گھی کے 51 نمونے لئے گئے تھے جن میں سے 45 قابل استعمال پائے گئے تھے غیر معیاری اور ناقابل استعال گھی اسٹورز سے واپس کردیا جائے گا۔


وکیل نے بتایا کہ چترال میں برفباری کے باعث چترال کے یوٹیلٹی اسٹورز پر فروخت ہونے والے گھی کی جانچ پڑتال نہ ہوسکی، فوڈ چینز استعمال شدہ گھی فروخت کردیتے ہیں جسے پہلے ہی پکوڑوں، سموسوں اور مچھلی وغیرہ پکانے میں استعمال کیا جاچکا ہوتا ہے۔ وکیل نے استفسار کیا کہ عدالت اس کا بھی نوٹس لے۔ جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ غیر معیاری گھی یوٹیلٹی اسٹورز اور دکانوں پر فروخت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ استعمال شدہ گھی کی فروخت کو روکنا حکومت کا کام ہے۔ اس پر حکام بالا کو بلایا جاسکتاہے۔ عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ ٹیٹرا پیک دودھ، پلاسٹک بوتل پانی اور چائینہ نمک کا بھی جائزہ لیں گے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر چترال کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر فروخت ہونے والے گھی سے متعلق رپورٹ طلب کی ہوئی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget