فروری 8, 2017

یوفون ایک اور غیرمعمولی پاکستانی کو سامنے لے آیا ، جس نے ملک کا نام روشن کیا

 




پاکستان کے صف اول کے ٹیلی کام آپریٹر یوفون نے ہمیشہ صارفین کو اہمیت دی ہے۔ اسی وجہ سے وہ عام شہریوں مختلف مواقع فراہم کرتی ہے کہ وہ غیرمعمولی کام سرانجام دیں۔ اپنی اس مہم کے سلسلے میں منعقد ہونے والی حالیہ تقریب میں یوفون کے دیرینہ کسٹمر کو اپنی زندگی کی کہانی لوگوں کے ساتھ شیئر کرنے کے لئے مدعو کیا گیا۔ 

یہ غیرمعمولی افراد ہمارے درمیان رہتے ہیں لیکن ان کی زندگی کی کہانی لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ انسان کا جذبہ اس کے پس منظر کی پروا نہیں کرتا بلکہ وہ جذبے کے ساتھ اپنا راستہ بناتا ہے۔ ایک بار آپ کو احساس ہوجائے کہ اگر یہ افراد رکاوٹوں پر قابو پاکر اپنے جذبے سے زندگی گزار سکتے ہیں تو پھر کوئی بھی شخص اپنے شوق کی لگن کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے۔ ان سرگرمیوں کے سلسلے کے ساتھ یوفون اپنے غیرمعمولی صارفین اور ان کی کامیابیوں کو بڑے پیمانے پر عوام کے سامنے لارہا ہے۔ اس مہم کا ایک حصہ پہلے ہی سرگرم ہے جہاں اس سے قبل ایک ابھرتے ہوئے فٹ بالر فضل محمد کے اندر کھیل کے جذبے کو لوگوں کے سامنے لایا گیاجبکہ خاتون سرجن ڈاکٹر غینا شمسی بھی اس مہم کا حصہ ہیں۔ 

یوفون ترجمان نے بتایا، "ایک ذمہ دار کمپنی ہونے کے ناطے ہمارا عزم یہ ہے کہ ان افراد کو اجاگر کیا جائے جو مضبوط اور بااثر پس منظر کے حامل نہ ہوں بلکہ اپنے جذبے اور استقامت کی بدولت ایک طویل سفر طے کرکے آئے ہوں۔ مستقبل میں بھی ہم معاشرے میں ایسے افراد کا انتخاب کریں گے جو معاشرے میں ہم سب کے لئے ایک مثال بن سکے۔ "

اس حوالے سے لاہور شہر میں حال ہی میں بلاگرز اکھٹے ہوئے جس میں یوفون نے اپنے قابل احترام کسٹمر اور نئے برانڈ ایمبسڈر حیات اچکزئی کو پرعزم کھلاڑی کے طور پر گفتگو کی دعوت دی جنہوں نے باکسنگ کے شعبے میں اپنے جذبے سے ملک کا نام روشن کیا۔ انہوں نے اپنے کھیل کے شوق اور جذبے کے بارے میں لاہور کے بلاگرز کو تفصیل سے آگاہ کیا ۔ 

حیات اچکزئی کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے باکسر ہیں۔ انہوں نے 11 سال کی عمر سے ہی باکسنگ کا آغاز کیا اور آل پاکستان انڈر 14 میں پہلی بار سلور میڈل حاصل کیا۔ اس کے بعد انہیں اپنی سالوں کی محنت اور لگن کا بدلہ کچھ یوں ملا کہ انہوں نے 2003 اور 2006 میں واپڈا کی ٹیم سے کھیلتے ہوئے گولڈ میڈل حاصل کئے۔ سال 2004 میں انہوں نے نیشنل گیمز میں بھی گولڈ میڈل حاصل کیا۔ جلد ہی قومی منظرنامے میں ان کی خواہش کی تسکین نہ رہی کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ وہ بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کرکے پاکستان کا نام روشن کریں۔ 2005 میں انہوں نے انڈونیشیا کے شہر جکارتا میں منعقد ہونے والے پریذیڈنٹ کپ میں بھی گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اسی طرح انہوں نے کامن ویلتھ چیمپین شپ میں بھی شرکت کی۔ 

حیات اچکزئی کی عمر 33 سال ہے۔ وہ چار بچوں کے والد ہیں اور ان کی اپنی ایک دکان ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنے پسندیدہ کھیل میں حصہ ڈالتے ہیں اور اسی واپڈا ٹیم میں کوچنگ کرتے ہیں جس کے لئے وہ پہلے کھیل چکے ہیں۔ انہوں نے پنے خاندان اور اپنے جذبے کو جواں رکھنے کے لئے بہترین توازن قائم کیا ہے۔ 
ایسے لوگوں سے سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے کیونکہ وہ جو کچھ دیتے ہیں اس سے ہمیں امید ملتی ہے۔ ان کی جدوجہد سے ہم سب کی سوچ کی نمائندگی ہوتی ہے اور یوفون کو ایسے مثالی کسٹمر کو فروغ دینے پر فخر ہے۔ 

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget