24 فروری، 2017

’’ غیبت زنا سے بدتر ‘‘ : اس مضمون کو ضرور پڑھیں اور شیئر کریں



’’ غیبت زنا سے بدتر ‘‘

علامہ شیخ الحدیث عبد المصطفیٰ اعظمی

حدیث : عن ابی سعید و جابر قالا قال رسول اللہ ﷺ الغیبۃ اشد من الزنا قالو رسول اللہ وکیف الغیبۃ اشد من الزنا قال ان الرجل لیزنی فیتوب فیتوب اللہ علیہ وفی روایۃ فیتوب فیثفر اللہ لہ وان صاحب الغیبۃ لا یغفرلہ حتی یغفرھا لہ صاحبہ (مشکوٰۃ باب حفظ اللسان ) 

ترجمہ: 
حضرت ابوسعید و حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غیبت زنا سے زیادہ سخت (گناہ) ہے ۔ تو صحابہ نے کہا یارسول اللہﷺ! غیبت زنا سے زیادہ سخت (گناہ) کس طرح ہے؟ تو حضورؐ نے فرمایا آدمی زنا کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماکر اس کو بخش دیتا ہے لیکن غیبت کرنے والے کو خدا وند تعالیٰ اس وقت تک نہیں بخشے گا جب تک اسکو وہ شخص نہ معاف کردے جسکی اس نے غیبت کی ہے۔ 

حضرت جابر رضی اللہ عنہ : حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری ؓ بہت ہی مشہور صحابی ہیں۔ ان سے بکثرت احادیث مروی ہیں۔ اُنکی کنیت ابو عبد اللہ ہے ۔ جنگ بدر اور اسکے بعد کی اٹھارہ لڑائیوں میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ شریکِ جہاد رہے ، شام اور مصر بھی تشریف لے گئے، ان کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ مدینہ منورہ میں ۷۴؁ھ کے سال ۹۴ برس کی عمر پاکر وصال فرمایا۔ سب سے آخری صحابی جن کا مدینہ منورہ میں وصال ہوا وہ یہی جابر بن عبد اللہ انصاری ہیں (رضی اللہ عنہ) (کمال) 

فوائد و مسائل: غیبت ان گناہوں میں سے ہے جو سب سے زیادہ کثیر الوقوع ہے اور باوجود یہ کہ انتہائی سخت گناہ کبیرہ ہے، یہاں تک کہ زنا سے بھی بد تر ہے مگر اس زمانے میں بہت ہی کم لوگ ہیں جو اس گناہ سے محفوظ ہیں۔ عوام تو عوام، جہال تو جہال، بڑے بڑے علماء اور مشائخ اور عابد و زاہد لوگوں کا دامن اس گناہ سے آلودہ نظر آتا ہے غضب یہ ہے کہ لوگ اس طرح غیبت کے عادی ہوگئے ہیں کہ گویا غیبت انکے نزدیک کوئی گناہ کی بات نہیں ہے۔ شاید ہی کوئی مجلس ایسی ہوگی جو اس گناہ کی نحوست سے خالی ہو۔ 

غیبت کیا ہے؟ : کسی کو غائبانہ بُرا کہنا، یا پیٹھ پیچھے اس کا کوئی عیب بیان کرنا ہی (غیبت) ہے۔ چنانچہ مشکوٰۃ شریف میں ایک حدیث ہے کہ خود حضور اکرم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ ’’کیا تم لوگ جانتے ہو کہ غیبت کیا چیز ہے؟ صحابہ نے کہا کہ اللہ اور اُسکے رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ’’اپنے (دینی) بھائی کی ان باتوں کوبیان کرنا جن کو وہ ناپسند سمجھتا ہے (یہی غیبت ہے) ۔ صحابہ نے کہا کہ یہ بتائیے کہ اگر میرے (دینی) بھائی میںواقعی وہ باتیں موجود ہوں (تو کیا ان باتوں کا کہنا بھی غیبت ہوگی؟) تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس کے اندر وہ باتیں ہوںگی جبھی تو تم اس کی غیبت کرنے والے کہلائوگے ، اور اگراس میں وہ باتیں نہ ہوں جب تو تم اس پر بہتان لگانے والے ہوجائوگے (جو ایک دوسرا گناہ کبیرہ ہے) (مشکوٰۃ باب حفظ اللسان ) 

اور اگر کوئی شخص کا کوئی عیب اس کو ذلیل کرنے کی نیت سے اس کے منہ پر کہہ دیا جائے تو یہ ایذا رسانی ہے۔ اور غیبت و بہتان کی طرح یہ ’’ایذا رسانی‘‘ بھی گناہ کبیرہ ہے۔ ہاں اگر اصلاح کی نیت سے کسی کا کوئی عیب اس کے سامنے نصیحت کرتے ہوئے بیان کیا جائے تو یہ نہ غیبت ہے نہ بہتان، نہ ایذا رسانی، بلکہ یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یعنی نیکیوں کا حکم دینا اور برائیوں سے روکنا ہے اور یہ بہت ہی بڑا ثواب کا کام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ 

کن کن لوگوں کی غیبت جائز ہے؟ حضرت علامہ ابوزکریا محی الدین بن شرف نوی متوفی ۶۷۶؁ھ نے مسلم شریف کی شرح میں تحریر فرمایا ہے کہ شرعی اغراض و مقاصد کے لئے کسی کی غیبت کرنا جائز اور مباح ہے اور اس کی چھ صورتیں ہیں۔

اول : مظلوم کا حاکم کے سامنے کسی ظالم کے ظالمانہ عیوب کو بیان کرنا۔ تاکہ اس کی دادرسی ہوسکے۔

دوم : کسی شخص کو برائی سے روکنے کے لئے کسی صاحب اقتدار کے سامنے اسکی برائیوں کا ذکر کرنا تاکہ وہ صاحب اقتدار اپنے رعب داب سے اسکو برائیوں سے روک دے۔ 

سوم : مفتی کے سامنے فتویٰ طلب کرنے کے لئے کسی کے عیوب کو پیش کرنا۔ 

چہارم : مسلمانوں کو شر و فساد اور نقصان سے بچانے کے لئے کسی کے عیوب کو بیان کردینا۔ مثلاً جھوٹے راویوں، جھوٹے گواہوں، بد مذہب مصنفوں اور واعظوں کے جھوٹ اور بد مذہبی کو لوگوں سے بیان کردینا تاکہ لوگ گمراہی کے نقصان سے محفوظ رہیں یا شادی بیاہ کے بارے میں مشورہ کرنے والے سے فریق ثانی کے عیوب کو بتادینا یا خریدار کو نقصان سے بچانے کے لئے سامان یا سودا بیچنے والے کے عیوب سے باخبر کردینا۔ 

پنجم : جو شخص علی الاعلان فسق و فجور اور بدعات و معاصیات کا مرتکب ہو اسکے عیوب کا بیان کرنا۔

ششم : کسی شخص کی شناخت اور پہچان کرانے کے لئے اس کے کسی مشہور عیب کو اس کے نام کے ساتھ ذکر دینا۔ جیسے محدثین کا طریقہ ہے کہ ایک ہی نام کے چند راویوں میں امتیاز اور ان کی شناخت کے لئے اعمش (چُندھا) اعرج (لنگڑا) اعمیٰ (اندھا ) طویل (لمبا)وغیرہ عیوب کو ان کے ناموں کے ساتھ ذکر کردیتے ہیں۔ جس کا مقصد ہرگز ہرگز نہ توہین و تنقیص ہے، نہ ایذارسانی، بلکہ صرف راویوں کی شناخت اور ان کے تعارف کے لئے ایسا کیا جاتاہے۔ (نوی علی المسلم) 
__________________________________
(یہ مضمون اصلاح معاشرہ کی نیت سے کاپی کرکے شائع کردی گئی) 

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget