25 مارچ، 2017

صوبے کے 27اضلاع : ایک نیا ضلع بننے کا مطلب ہے۔۔۔۔۔ ڈاکٹر عنایت للہ فیضیؔ

صوبے کے 27اضلاع :  ڈاکٹر عنایت للہ فیضیؔ

کو ہستان میں دو نئے ضلعے بننے کے بعد خیبر پختونخوا کے اضلاع کی تعداد 27 ہوگئی ہے پاکستان ائیر بک کے مطابق 1969 میں خیبر پختونخوا کے اضلاع کی تعداد 3تھی ملا کنڈ کا نیا ڈویژن صوبے میں ضم ہوا تو اس ڈویژن میں چا ر
اضلاع تھے سوات ایک ضلع تھا دیر ایک ضلع تھا چترال کے دو ضلعے تھے انضمام کے وقت چترال کے ایک ضلع کو توڑ دیا گیا تین اضلاع بنا کر ملاکنڈ ڈویژن کو ضم کر دیا گیا اس طرح اضلاع کی کل تعداد 6ہوگئی آپ پاکستان ائیر بکس اٹھا کر ملا حظہ کرینگے تو پتہ لگیگا کہ 16دسمبر 1971ء کو بنگلہ دیش بنتے وقت ہزارہ ایک ضلع تھا بنوں ایک ضلع تھا پشاور ایک ضلع تھا ہزارہ ایک ضلع تھا مر دان ،ڈی آئی خان،مانسہر ہ کے اضلاع نئے بنائے گئے پھر چارسدہ ، نو شہرہ ،کو ہاٹ ،ہری پور ، صوابی ،لکی مروت اور کرک کے اضلاع بنائے گئے ملاکنڈ ڈویژن میں سوات کے 3اور دیر کے 3اضلاع بن گئے ہزارہ ڈویژن میں ہری پور بٹگرام ،کو ہستان اور تورغر کے نئے اضلاع بن گئے بونیر ،شانگلہ ،ملاکنڈ ،دیر لوئر ،دیر اپر ، چترال اور کوہستان کے دو نئے اضلاع کو ملا کر خیبر پختونخوا میں اضلاع کی کل تعداد 27 ہوگئی۔

ایک نیا ضلع بننے کا مطلب کیا ہے؟ 

یہ خالی اعلان نہیں ہوتا ہر نئے ضلع میں 8 ہزار نئی ملازمتیں دی جاتی ہیں ایک ضلع کو سالا نہ ترقیاتی پروگرام میں کم از کم 3 ارب روپے کا ترقیاتی فنڈ دیا جاتا ہے کم از کم ڈیڑھ ارب روپے کاانتظامی بجٹ دیا جاتا ہے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جاتی ہے صوبائی کیڈر کے سر کاری ملازمتوں میں زونل کوٹہ دیا جاتا ہے اضلا ع کو بنیا د بنا کر نئے ڈویژن بنائے جاتے ہیں ایک ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کو کم از کم ڈیڑھ ارب روپے کا بجٹ ملتا ہے پشاور اور جنوبی اضلاع میں دو ڈویژن بن چکے ہیں ہزارہ میں اب دو ڈویژن بن جائینگے ملاکنڈ کو بھی دو ڈویژنوں میں تقسیم کیا جائیگا یہ اقدامات انتظامی سہولت کیلئے اٹھائے جاتے ہیں نیا ضلع بناتے وقت تین امور کو مدنظر رکھا جاتا ہے سب سے پہلے رقبے کو دیکھا جاتا ہے اس کے بعد آبادی کو دیکھا جاتا ہے اس کے بعد امن وامان کی صورت حال کو دیکھا جاتا ہے یہ تین عوامل بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ان عوامل کو سامنے رکھے بغیر نیا ضلع نہیں بنتاکسی تحصیل یا سب ڈویژن کو ضلع بناتے وقت ایک رپورٹ تیا ر کی جاتی ہے یہ رپورٹ اوپر تک جاتی ہے رپورٹ کا ہر لحاظ سے جائزہ لیا جاتا ہے نیا ضلع بنا نے کا جو از ڈھونڈ لیا جاتا ہے تورغر کو ضلع کا درجہ دیتے وقت جو رپورٹ تیا ر کی گئی وہ کئی حوالوں سے بیحد اہم تھی اس میں جواز یہ پیش کیا گیا کہ تورغر 600مر بع کلومیٹر پر پھیلا ہوا وسیع علاقہ ہے اس کی ابادی 95ہزارنفوس پر مشتمل ہے ما نشہرہ ضلع کا ڈپٹی کمشنر انتظامی لحاظ سے اتنے بڑے علاقے کا کنٹرول نہیں سنبھال سکتا اس لئے امن و امان کی صورت حال ہمیشہ خراب رہتی ہے تورغر کو الگ ضلع بنائے بغیر امن وامان کا مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا چنانچہ تورغر ضلع بن گیا ۔ 

اس طرح جنرل فضل حق کے زمانے میں کوہستان کو بٹ گرام سے الگ کر کے ضلع بنا یا جا رہا تھا تو نئے ضلع کا ایسا ہی جو از پیش کیا گیا پالس کی دوسب تحصیلوں کو نیا ضلع بنانے کے لئے جو سمری بھیجی گئی اس میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو پہلا نمبر دیا گیا دیامر بھا شا ڈیم اور داسو ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹوں کا ذکر کیا گیا سی پیک کی شاہراہ کے حوالے سے کو ہستان میں ممکنہ بدامنی کا حوالہ دیا گیا اس کے بعد لکھا گیا کہ 480مر بع کلو میٹر رقبے پر محیط وسیع وعریض علا قے کی 80ہزار آبادی کو اگر نیا ضلع نہیں بنا یا گیا تو نہ دا سوڈیم بنے گا نہ سی بیک کی نئی شا ہراہ تعمیر ہو گی اس لئے ہنگامی طور پر کو ہستا ن میں دو نئے ا ضلا ع کا بننا ملکی مفاد میں ہے چنا نچہ ملکی مفاد میں دو نئے اضلا ع بنا ئے گئے یہ ا لگ با ت ہے کہ جے یو آئی (ف)کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ایم پی اے شیخ الحد یث حضرت مولا نا عصمت اللہ نے اپنی نشست سے مستعفی ہو کر پی ٹی آئی میں شا مل ہونے اور عمران خا ن کے دست حق پر ست پربیعت کرنے کا زور دار ا علا ن کیا یہ سیاسی مصلحت تھی اور شیخ سعدیؓ نے کہا ہے’’دروغ مصلحت انگیزبہ ازراستی قننہ انگیز ‘‘اورخواجہ حا فظ شیرازی ؒ نے فر ما یا تھا ’’بہ دوستاں تلطُف بہ دشمنان مدارا‘‘یہ بھی الگ با ت ہے کہ2011میں تورعز کو ضلع بنانے کے بعد صوبائی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ چھٹی مردم شما ری سے پہلے کوئی نیا ضلع نہیں بن سکتا یہ قا نونی اور آئینی رکا وٹ ہے عدالت عظمیٰ نے پا بندی لگائی تھی اس پر بھی غور ہو نا چاہیے کہ چھٹی مردم شماری شروع ہونے سے ایک ہفتہ پہلے آئینی رکا وٹ کیوں ختم کی گئی ؟انتظا می امور کے ما ہرین اور محفقین کی توجہ کے لئے وہ رپورٹ بھی لائق تحسین ہے جو مئی 1969میں چترال کے اندر ضلع مستوج کو توڑنے کے جواز میں اُس وقت کے پولیٹکل ایجنٹ افتخار الدین خٹک نے حکومت کو بھیجی تھی رپورٹ میں لکھا گیا تھا کہ مستوج کا ضلع آٹھ ہزار نو سو (8900) مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے اس کی آبادی 67 ہزار ہے افغانستان کے ساتھ اس کی 370 کلومیٹر سرحد لگی ہے علاقے میں تین (3) پولیس اسٹیشن قائم ہیں ان میں قتل ،اقدام قتل ،اغوا ،ڈکیتی وغیرہ کی ایک بھی ایف آئی آر نہیں ہے اس ضلع پر سالانہ بجٹ خر چ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اس کو توڑ کر ملازمین کو فارغ کیا جائے اور علاقے کو چترال ضلع میں شامل کیا جائے مئی 1969اور مارچ 2017 ء کے درمیان جو عرصہ گذرا ماہ و سال کے حساب سے 48سال بیت گئے رقبہ وہی ہے البتہ آبادی 67ہزار سے بڑھ کر دو لاکھ 73ہزار ہوگئی افغان مہاجر ین کے آنے کے بعد قتل ،اقدام قتل ،اغوا ، ڈکیتی وغیرہ کی وارداتیں بھی ’’حسب منشا‘‘ہونے لگیں مگر کوہستان آخر کو ہستا ن ہے چترال اس طرح کی وارداتوں میں کوہستان کا مقابلہ نہیں کر سکتا 48 سال پہلے ملاکنڈ ڈویژن میں ضم ہوتے وقت چترال کے دو ضلعے تھے اور خیبر پختونخوا ہ کے3 ضلعے تھے۔ اب خیبر پختونخوا کے ضلعوں کی تعداد 27ہوگئی ہے چترال کا پرانا ضلع بحال نہیں ہوا چترال کے چا ر اضلاع ہونے کے بجائے ایک ہی ضلع رہ گیا ہے اور یہ بھی غنیمت ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget