اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

14 مارچ، 2017

انتظام بہتر طور پر چلانے اور عوامی مسائل کے حل کے لئے چترال میں ایک اور ضلع بنایا جائے: عوامی مطالبہ

 

(ٹائمز آف چترال رپورٹ ) رقبے کے لحاظ سے چترال خیبر پختونخواہ کا سب سے بڑا ضلع ہے۔ 14850 کلومیٹر تک پھیلا ہوا دور دراز اور کم مراغات یافتہ اور پسماندہ ضلع ہے۔ مشرق میں گلگت بلستان اور شمال، مغرب میں افغانستان سے ملا ہوا ہونے کی وجہ سے یہ جغرافیائی لحاظ سے ملک کا اہم ترین ضلع ہے۔ یہ ضلع ملک کو تاجکستان سے بھی ملا لیتا ہے۔ 

اہمیت کے اعتبار سے اس علاقے کو ترقی نہیں دی گئی۔ پاکستان کا حصہ بننے کے بعد سے لیکر آج تک اس خطے کو اپنے واجب الادا حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ لوری ٹنل کی تعمیر میں تاخیر سے لیکر توانائی کے مسائل تک۔ نظام مواصلات سے لیکر انفارمیشن ٹیکنالوجی تک۔ اس خطے کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھاگیا ہے۔ 

گزشتہ روز چترال سے قومی اسمبلی کے رکن شہزادہ افتخار الدین نے خیبرپختونخوہ حکومت سے سوال اور مطالبہ کیا ہے کہ اگر کوہستان میں تین ضلعے بنائے جاسکتے ہیں تو چترال میں کیوں نہیں۔ چترال صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہے ، بہتر انتظام کے لئے چترال میں ایک ضلع بنایا جائے۔ ایم این اے نے کہا ہے کہ موجودہ وقت خطے کی بڑھتی ہوئی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے نیا ضلع بنانا ناگزیر ہے، پاکستان چین اکنامک کوریڈور نے اس خطے کی اہیمت کو بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیا ضلع بنانا چترال کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس سے قبل کہ لوگ اپنے حق کے لئے سڑکوں پر نکل آئیں وزیر اعلیٰ خیبرپختوںخواہ اس جانب توجہ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں ہائیڈرو پاور جنریشن کی پے پناہ گنجائش موجود ہے۔ اس کے علاوہ بہترین اور پر امن سیاحتی مقام بھی ہے۔ اس ضلع پر توجہ مرکوز کرکے اسے صوبے کے لئے اہم ذرائع آمدن بنایا جاسکتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ اگر اس ضلعے کے مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو لوگوں میں احساس محرومی بڑھی گی۔ ایم این اے نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ بونی بوزند روڈ کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے دیئے کئے گئے فنڈز فوراً جاری کردیں۔ اگر صوبائی حکومت نے فنڈز جاری نہیں کئے تو تورکہو اور موڑ کہو کے مختلف علاقوں میں تباہ شدہ پل تعمیر نہیں کئے جاسکیں گے۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ برف پگھلنے کا عمل شروع ہونے سے پہلے فنڈز دے دیئے جائیں تاکہ دریاؤں میں پانی کی کمی کے وقت یہ پل تعمیر کیے جاسکیں۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں