مارچ 22, 2017

بحالی ریشن پاور ہاؤس جلسہ: بجلی گھر بحال کرنے کا مطالبہ پورا نہ کرنے کی صورت میں مردم شماری کا بائیکاٹ کیا جائے گا، اور اگلہ جلسہ ہر گز پر امن نہیں ہوگا

 

بحالی ریشن پاور ہاؤس جلسہ: بجلی گھر بحال کرنے کا مطالبہ پورا نہ کرنے کی صورت میں مردم شماری کا بائیکاٹ کیا جائے گا، اور اگلہ جلسہ ہر گز پر امن نہیں ہوگا



چترال ، ریشن ( افسر خان ) اپر چترال کے 50 فیصد سے زائد حصے کو بجلی فراہم کرنے والا واحد ہائیڈل پاور ہاؤس ریشن بجلی گھر کو ایک چھوٹا سا حصہ جولائی 2015 کے سیلاب میں جزوی طور پر تباہ ہوگیا تھا۔ جس کے بعد چترال کا یہ حصہ اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ عوام کئی بار بجلی گھر کی بحالی کے لئے سڑکوں پر آئے مگر صوبائی حکومت ، پیڈو اور شیڈو کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگی۔ چترالی عوام اپنی روایتی شرافت کا مظاہر کرکے پر امن احتجاج کرتے ہیں جس میں کوئی نہ کوئی حکومتی نمائندہ آکر دلاسہ دے کر چلا جاتا ہے اور مظاہرین یقین کرکے گھر چلے جاتے ہیں ۔ چترالی عوام کو یہ سمجھ کیوں نہیں آتی کہ جب سیدھی انگلی سے گھی نہ نکلے تو انگلی ٹیڑھی کرنی پڑتی ہے۔ 

ریشن بجلی گھر کو بند ہوئے 3 سا ل کاعرصہ گزر گیا، لیکن صوبائی اور وفاقی حکومت نہ تو کوئی متبادل بجلی کا انتظام کیا اور نہ بجلی گھر پر کام شروع کرایا۔ بجلی گھر 20 ہزار سے زائد گھرانوں ، کمرشل اداروں، دکانوں اور لکڑی کا کام کرنے والے کارپینٹرز کے چھوٹے کارخانوں کو بجلی فراہم کرتا تھا۔ جس سے لوگوں کا ذریعہ معاش وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول پر بھی اچھا اثر پڑا تھا۔ چترال میں جلانے کی لکڑی کے لئے درختوں کا بے دریغ کٹاؤہوتا ہے، بجلی گھر سے اس میں کافی حد تک کمی آئی تھی۔ لیکن تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کوان سے کیا لینا دینا۔ چترالیوں نے ووٹ جو نہیں دیا ہے۔ 

دوسری جانب تحریک انصاف کی حکومت بلین ٹری سونامی جیسے دعوے کرتی ہے، چترال میں درخت لگانے اور جنگلات کو دوبارہ آباد کرنے کی بات کرتی ہے لیکن جنگلات کے کٹاؤ کی وجہ بننے والے اصل مسئلے کی جانب کوئی توجہ نہیں۔ چترال پانی کے وسائل سے مالامال خطہ ہے لیکن بد نصیبی سے یہاں کئی جگہوں پر پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں، اس کی بڑی مثال ریشن ہے جو پانی کے وسائل کے لئے چترال کا جانا مانا گاؤں ہے لیکن پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔ بوسیدہ رسائی آب کا ضیاء دور کا نظام ٹوٹ پھوٹ چکا ہے ۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت پانی کا بندو بست کرتے ہیں لیکن یہ پانی بھی پینے لائق نہیں ہے مگر کیا کریں پانی کے بغیر زندہ بھی تو نہیں رہ سکتے ۔ 

آئیے دوبارہ بجلی گھر کے مسئلے کی جانب: ریشن بجلی گھر کی بحالی کے لئے ہونے والا اختجاجی جلسہ 19 مارچ 2017 دوبارہ منقعد کیا گیا جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ جس میں ریشن اور دیگر علاقوں سے آئے ہوئے نام گرامی سیاسی، سماجی شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جلسے میں فیصلہ ہوا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر پاور ہاؤس کی بحالی کا کام شروع نہ کیا تو مردم شماری کا بائیکاٹ کیا جائے گا، اور اگلا مظاہرہ پر امن نہیں ہوگا۔
جلسے 2 اپریل 2017 کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے برخاسٹ کیا گیا کہ اگر دی گئی تاریخ تک کام شروع نہ کیا گیا تو حکومت یہ توقع نہ کرے کہ اگلا اختجاجی جلسہ پر امن ہوگا، مقررین نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگلا جلسہ پر تشدد اور غیر محدود مدت کے لئے ہوگا۔ 19 مارچ کے جلسے کی صدارت ریشن کے حاجی بلبل امان نے کی۔ ولیج ناظم شہزادہ منیر، ابولیس، محمد اسلم، انیس الرحمٰن، اعجاز احمد، شاہ عالم، شیر مراد خان، افسر علی شاہ، حاجی گل، شاہ گنج، سردارحسین، عارف اللہ، نادر جنگ، خیر بیگ اور دیگر اکابرین نے خطاب کیا۔ 

مقررین نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی سرد مہری کو شرمناک قرار دیا خاص طور پر چترال کی جانب ۔ مقررین نے کہا کہ ریشن پاور ہاؤس کی پیداوری گنجائش 4.2 میگاواٹ ہے اور اس سے 20 ہزار سے زائد گھرانے مستفید ہورہے تھے۔ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے عمائدین نے کہا کہ اسلام آباد دھرنے میں وقت اور پیسہ ضائع کرنے، اور پاناما لیکس کے پیچھے لگنے کے بجائے حکومت کو اپنے صوبے پر توجہ دینی چاہئے تھی۔ صوبائی حکومت تحصیل مستوج کے اس اہم اور بڑے بجلی گھر کو کیوں ابھی تک بحال نہیں کیا ہے، آخر اس میں رکاوٹ کیا ہے۔ نئے نئے بجلی گھروں کی تعمیر کے دعوے تو کرتی ہے لیکن ایک تیار بجلی گھر کو جس کا مکمل یعنی 70انفراسٹرکچر موجود ہے ۔ صرف مشینوں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا تھا جس سے مشینیں خراب ہوئیں ہیں ، کیوں ان مشینوں کو صحیح کر کے بجلی بحال کرتی ہے؟ 

مقررین نے کہ کہ پیڈو کے کرپٹ اور بدعنوان افسران اپنے منافع اور کمیشن کی خاطر بجلی گھر کو مکمل تباہ پیش کرتے ہیں حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ بجلی گھر کا 70 فیصد انفراسٹرکچر موجود ہے معمولی خرچے اور کام سے بجلی گھر دوبارہ اصلی حالت میں بحال ہوسکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget