8 مارچ، 2017

''کچھ" مدارس - تحریر طاہر الدین شادان

 

''کچھ" مدارس -  تحریر طاہر الدین شادان

کچھ مدارس کا اصطلاح سب سے پہلے سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے نکالا تھا آج سے غالبا بارہ تیرہ برس قبل انہوں نے کچھ مدارس کا لفظ استعمال کیا جوکہ آج تک
کبھی شدو مد کے ساتھ تو کبھی ہلکے پھلکے انداز میں تواتر کے ساتھ مستعمل ہے پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت پرویز مشرف کے بعد آئی تھی اور پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں سب سے زیادہ رحمان ملک نے اس لفظ پر زور دیا ۔

''کچھ'' مدارس درحقیقت دینی مدارس کو ہدف تنقید بنانے اور ان کے خلاف اپریشن شروع کروانے کے لئے ایک بہانہ ہے جب یہ لوگ مدارس کے خلاف کوئی ایکشن لینے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہمیشہ ''کچھ'' مدارس کا حوالہ دیتے ہیں اور حیرت کی بات ہے کہ چودہ سالوں میں ہمارے حکمران تمام تر وسائل استعمال کرتے ہوئے بھی ان ''کچھ"مدارس کو ختم نہیں کرسکے اب تو یوں لگتا ہے کہ یہ ''کچھ'' مدارس ان کے اپنے قائم کردہ ہیں جن کو دینی مدارس کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے آپ کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ جب پرویز مشرف نے ''کچھ'' مدارس کی آڑ میں دینی مدارس کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کیا تھا تب اس نے اسلام آباد کے لال مسجد کو "کچھ'' میں شامل کرکے وہاں پر اپریشن کیاتھا اس وقت سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف ملک میں خانہ جنگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہےتھے اس کو معلوم تھا کہ اگر ایک مدرسے کے خلاف فوجی کاروائی کی جائے گی تو باقی ماندہ مدارس کے علماء و طلبا اور دینی ذہنیت کے لوگ سڑکوں پر آئیں گے فوج سے لڑیں گے اور یوں ملک میں خانہ جنگی کی ابتدا ہوگی لیکن اس وقت ملک کے جید علمائے کرام نے وقت کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے جذبات کے بجائے ہوش و حواس سے کام لیا اور طلباء و عوام کو مشتعل کرکے فوج کےخلاف بغاوت پر اکسانے کے بجائے پرامن رہنے کی تلقین کی اور ملک کو بہت بڑی خانہ جنگی سے بچالیا وفاق المدارس نے جامعہ حفصہ کی رکنیت ختم کردی اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کیا اس کےبعد بھی کچھ مدارس کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ مدارس کے خلاف زہر اگلنے کے لئے ابھی تک ان کو باقی رکھا گیا ہے ۔وفاق المدارس نے کئی بار حکمرانوں اور سیکیورٹی اداروں سے درخواست بھی کی کہ جن کچھ مدارس کی آپ بات کر رہے ہیں ہمیں ان کےبارے میں معلومات فراہم کرے تاکہ ہم ان کے بارے میں تحقیقات کریں گے اور اگر وہ کسی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نکلے تو ہم خود بھی ان کے خلاف کارروائی کریں گے اور قانوں نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھی مکمل تعاون کریں گے لیکن آج تک وفاق المدارس کو ''کچھ'' مدارس کے بارے میں اگاہ نہیں کیا گیا اور تواتر کے ساتھ مدارس کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی کوشش جاری ہے میری اس لمبی چوڑی تحریر کا مقصد ان ''کچھ'' مدارس کی حمایت ہرگز نہیں بلکہ میری خواہش ہے کہ ملکی سلامتی کے لئے خطرہ بننے والے ان ''کچھ'' مدارس کی کہانی اب ختم ہونی چاہئے ''کچھ'' کو ختم کرکے مدارس کو چھوڑ دینا چاہیے نہ کہ ''کچھ'' کو باقی رکھ کر اس کی آڑ میں دینی مدارس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے ویسے بھی یہ کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی مشرف جیسے ڈکٹیٹر مدارس کا کچھ نہیں بگاڑ سکا خود دنیا کےسامنے تماشہ بن گیا تو یہ سوچ کسی بھی حکمران کی ناکامی اور ذلت کےلئے کافی ہے اب بھی وقت ہے کہ ''کچھ'' کی آڑ لیکر دینی مدارس کے خلاف زہر اگلنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اور اگر واقعی ''کچھ'' مدارس کا کوئی وجود ہے تو وفاق المدارس کے ساتھ مل کر ان ''کچھ'' کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہیے ۔ لیکن ''کچھ'' کی آڑ میں مدارس کے خلاف بیان بازی یقینا غیر منصفانہ عمل ہے۔

فائل فوٹو
_______________________________________

مضمون میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget