22 اپریل، 2017

چترال میں پاگل شخص کی جانب سے نبوت کے دعویٰ کے بعد حالات کشیدہ، جشن قاقلشٹ بند، ڈی سی آفس میں اہم اجلاس میں بڑے فیصلے

 



چترال (وقائع نگار: ٹائمز آف چترال)  رشید نامی یہ شخص قطر میں ملازمت کرتا تھا، وہاں اس کی دماغی حالت خراب ہوجانے کی وجہ سے دوستوں نے چندہ کرکے اُسے پاکستان واپس بھیج دیا تھا۔ رشید کا تعلق تورکہو کے علاقے تریچھ سے ہے۔ آج جمعہ کی نماز کے بعد رشید نامی اس شخص نے شاہی مسجد چترال میں نبوت کا دعویٰ کردیا۔ جس کے بعد عوام مشتعل ہوگئے اور رشید کو مارنے کی کوشش کی جس کے بعد مسجد کے خطیب نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے پولیس بلوائی اور مذکورہ شخص کو پولیس کے حوالے کردیا۔ پولیس نے رشید کو لاک اپ میں بند کردیا اور عوام کو یقین دلایا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون کے مطابق گستاخِ شان  رسولﷺ کرنے والے اور بنوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے کو سزا دی جائیگی۔

پولیس نے مشتعل عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کرتی رہی مگر مشتعل عوام کا اصرار تھا کہ مجرم کو ان کے حوالے کردیا جائے تاکہ وہ اسے سزا دیں۔ مظاہرین نہ مانے اور اپنا احتجاج جاری رکھا جس کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے اور پولیس کو مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس، اور ربڑ کے گولے پھینکنے پڑے۔ شیلنگ سے تین افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مظاہرین نے پولیس اسٹیشن پر توڑ پھوڑ کی اور رپورٹنگ روم پر پتھر برسائے جسے کمرے کے شیشے ٹوٹ گئے۔ مجبوراً قانون کی عملداری برقرار رکھنے کے لئے پولیس کو شیلنگ کرنی پڑی۔

ہنگامی صورتحال کے پیش نظر چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ جش قاقلشث میں ڈیوٹی پر مامور پولیس کی بھاری نفری بھی واپس بلالی گئی۔ اور جش قاقلشٹ کو بند کردیا گیا۔ کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس، ضلع ناظم چترال، ڈپٹی کمشنر چترال اور دیگر عمائدین نے عوام کو پر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا کہ مذکورہ شخص کو پاکستان کے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ لیکن مظاہرین اس بات کو نہیں مان رہے تھے ان کا مطالبہ تھا کہ ملزم کو ان کے حوالے کردیا جائے تاکہ وہ انہیں سزا دیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر آج اسے چھوڑ دیا تو کل کوئی اور ایسا دعوا کریگا۔

ادھر ڈی سی آفس میں اہم اور ہنگامی اجلاس بلاکر کشدہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور سیکیوریٹی یقینی بنانے کے لئے اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس کے بعد عوام سے اپیل کی گئی کہ چترال کے امن کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے عوام صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں۔ واقعے کی ہر پہلو سے تفتیش کی جائے گی۔ اجلاس میں علماء، سیاسی جماعتوں کے رہنما اور دیگر معززین علاقہ شریک ہوئے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ گستاخ شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانون پاکستان کے مطابق فوری کاروائی کی جائے۔ یہ بھی فیصلہ ہوا کہ جلد سے جلد واقعے کی تحقیقات شروع ہونگی۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ چترال کے بڑے علماء چترال ٹاؤن کی مساجدوں میں جائیں گے اور عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کریں گے۔ چترال کے امن کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کرکے چترال میں بھائی چارگی، باہمی ہم آہنگی کی فضاء کو خراب کرنے والوں کو اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget