اپریل 3, 2017

ریشن بجلی گھر : بیس اپریل تک کام کا آغاز نہ ہوا، تو عوام سڑکوں پر آئیں گے

 

چترال / ریشن (رپورٹ اویس خان : ٹائمز آف چترال) اپریل 2، 2017 بروز اتوار تحریک بحالی ریشن بجلی گھر جت تحت کا ایک پروزور اختجاجی جلسہ نادرجنگ کی زیرصدارت بجلی گھر چوک ریشن میں منعقد ہوا۔ جلسے  میں بونی، جنالیکوچ، کوراغ، زئیت ، لون اور دیگرمتاثرہ علاقوں کے عمائدین کی کثیرتعداد میں شرکت ہوئی ۔ تمام مقررین نے ایک بار پھر جلد سے جلد بجلی گھر پر کام شروع کرنے پر زور دیا بصورت دیگر  عوام اپنے گزشتہ مطالبات پر قائم ہیں۔ مردم شماری کا بائیکاٹ کا جائے گا۔ اور اگر 20 اپریل تک کام شروع نہ ہوا جس کا اعلان ممبر نیشنل اسمبلی سرادار حسین پشاور میں حکام سے ملاقات کے بعد کرچکے ہیں، اگلے اپنے سخت لائحہ عمل کا اعلان کردیا جائے گا۔ اگلے جلسے میں عوام سڑکوں پر ہونگے تب تک احتجاج کریں گے جب کہ تک حکومت بجلی گھر پر کام شروع نہ کردے۔ اب وعدوں پر سے اعتبار اٹھ چکا ہے۔

مقرررین نے کہا کہ جب تک ریشن پاؤرہاوس پر کام شروع  نہیں کیا جاتا احتجاج جاری رہے گا۔  احتجاج میں نقصاد اور بد نظمی کا ذمہ دار صوبائی حکومت ہوگی۔ 

مقریرین نے طویل عرصے بعد پاورہاوس کیلئے کنسلٹنٹ  کی تقرری پرانتہائی تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ ڈھائی سال بعد صرف کنسلٹنٹ مقررکرناعوام کوبے قوف بنانے کے مترادف ہے۔ ریشن پاور ہاوس کے صارفین حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاورہاوس میں جلدازجلد سول ورک کاآغازکیاجائے مزید تاخیر کی صورت میں یہ پرامن احتجاج کاسلسلہ اسطرح نہیں رہے گا ا س لئے صوبائی حکومت اورمتعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے کہ 20 اپریل 2017 سے پہلے ریشن پاورہاوس پرکام شروع کیا جائے بصورت دیگر امن احتجاج  پرتشدد شکل اختیارکرسکتا ہے۔ طلباء وطالبات ، مرد اور خواتین  سب سٹرکوں پرنکل آئیں گے کوئی بھی ناشگوارواقعہ پیش آنے کی صورت میں ذمہ داری صوبائی حکومت ، سیاسی نمائندگان، اور محکمہ پیڈو پرعائد ہوگی ۔




__________________________________________________

 ہمارے سوشل میدیا پیجز کو لائیک کرنا نہ بھولیں، ہمارا فیس بک پیج درج ذیل ہے facebook.com/timesofchitral

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget