اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

21 اپریل، 2017

چترال کے دور دراز علاقے کھوت پائین اور کھوت بالا کا آپس میں رابطہ منقطع: کھلا خط

 

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عوامی نمائندوں کے نوٹس میں لانے کے باوجود کسی نے اس سنگین مسئلے کی طرف توجہ نہیں دی عوامی نمائندوں کی غفلت اور بے حسی کی وجہ سے آج وادی کھوت کے مقام گیسو گول میں روڈ پانی کے بہاؤ میں اضافے کے باعث مکمل طور پر بند ہوگیا ہے جس کی وجہ سے کھوت بالا اور کھوت پائین کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

کھوت میں موجود سرکاری و نجی تمام تعلیمی ادارے اور طبی مراکز کھوت کے دونوں حصوں میں واقع ہیں جس کی وجہ سے کھوت پائین کےلوگوں اور طلبا کے لئےکھوت بالا میں واقع اداروں تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں اور  کھوت بالا کے لوگوں کے لئے کھوت پائین میں واقع اداروں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ آئیے دیکھتے ہیں کونسے ادارے کہاں واقع ہیں 

گورنمنٹ بوائز اینڈ گرلز ہائی سکولز ۔۔۔۔ کھوت بالا
سالک پبلک سکول اینڈ کالجز ۔۔۔۔۔ کھوت بالا
طبی مرکز اے کے ایج ایس پی ۔۔۔۔ کھوت بالا

گورنمنٹ مڈل سکول ۔۔۔۔۔۔ کھوت پائین
کھوت کالج آف سائنس ۔۔ کھوت پائین
بی ایج یو ہسپتال ۔۔۔. کھوت پائین 
جامع مسجد ۔۔۔۔۔. کھوت پائین 
مرکزی دارالعلوم ۔۔۔ کھوت پائین 
  
اب علاقے کے لوگوں کے لئے اور خصوصاً طلبا کے لئے سکولوں میں پہنچنا اور مریضوں کو ہسپتال لے جانا کسی مصیبت سے کم نہیں صرف یہی نہیں بلکہ آگر روڈ کو فوری طور پر بحال نہیں کیا گیا تو کھوت بالا میں اشیائے خوردونوش​ کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے 
ڈسٹرکٹ ناظم ایم این چترال ایم پی اے اپر چترال اور تحصیل ناظم سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس سنگین مسئلے کی طرف توجہ دیکر علاقے کو کسی بھی ہنگامی صورت حال سے بچانے کی کوشش کی جائے۔

طاہر الدین شادان


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں