مئی 4, 2017

لواری ٹنل اس سال جون میں آپریشنل ہو گا، چترال، پشاور سفر12 سے کم ہوکر 7 گھنٹے کا ہوجائے گا

 

اسلام آباد (ٹائمز آف چترال : مانیٹرنگ ڈیسک)  لواری ٹنل اس سال جون میں پبلک کے لئے کھول دیا جائے۔ ٹنل کو 2008 میں مکمل ہونا تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔  نیشنل ہائی وے کے آفیشل کے مطابق منصوبے میں تاخیر کی وجہ ریل ٹنل سے روڈ تنل تبدیلی بنی۔ 2009 میں حکومت نے اسے ریل ٹنل کے بجائے روڈ ٹنل میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مکمل طور پر آپریشنل ہونے کے بعد ٹنل چترال سے پشاور   یا   پشاور سے چترال کے 14 گھنٹے کے سفر کو کم کرکے 7 گھنٹے کردے گا۔ کیونکہ ٹنل نہ ہونے کی وجہ سے مسافروں کو لواری ٹاپ سے گزرنا پڑتا تھا اور لواری ٹاپ بند ہونے کی وجہ سے مسافروں کو افغانستان کے راستے چترال جانا اور آنا پڑتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موسم سرما میں چترال ناقابل رسائی ہوجاتا ہے اب ٹنل کھلنے کے بعد چترال چاروں موسم کھلا رہے گا۔


لواری ٹنل کا کریڈٹ چاہے جو بھی لے لے لیکن اصل مصور جعفر علی شاہ ہیں جنہوں 1970 میں پاکستان کے نیشنل اسمبلی میں  لواری ٹنل منصوبے کا خیال پیش کیا تھا۔ بھٹو کے دور حکومت میں سن 1975 میں اس پر پہلی بار کام کا آغاز ہوا لیکن حکومت کی تبدیلی کے بعد 1977 میں کام بند ہوا۔ اس کے بعد ضیاء کے 10 سالہ دور میں کوئی غلطی سے بھی اس جانب نہ دیکھا۔ 

سن 2005 میں میں پرویز مشرف کے دور میں دوبارہ کام کا آغاز ہوا۔ لیکن 2018 میں مشرف کا دور ختم ہوگیا۔ اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے اسے پھر سے نظر انداز کیا۔ فنڈ کی کمی، حکومتوں کی سرد مہری کی وجہ سے یہ منصوبے اپنے دیئے ہوئے وقت یعنی 2008 میں مکمل نہ ہوسکا۔ پیپلز پارٹی کے 5 سالہ دور میں اسے کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ جس کی وجہ سے منصوبہ تعطل کا شکار ہوا۔ ن لیگ کی حکومت میں کام میں تیزی آئی۔ اور ریل ٹنل سے  روڈ ٹنل میں کنورٹ کردیا گیا۔ جس کی وجہ سے ٹنل میں مزید کھدائی کرنی پڑی۔ اب یہ انشا اللہ جون 2017 میں آپریشنل ہوجائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget