مئی 23, 2017

ریشن بجلی گھر تین سالوں سے خراب ۔ ڈیزل جنریٹر لائے لیکن اس کیلئے تیل ندارد ۔ عوام شدید مشکلات کے شکار

 

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے بلائی علاقے ریشن کے مقام پر پن بجلی گھر سال 2015کے تباہ کن سیلاب کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہوا تھا جس کی وجہ سے سولہ ہزار صارفین بجلی سے محروم ہوگئے جس کیلئے علاقے کے عوام نے بارہا جلسہ جلوس اور احتجاج بھی کیا مگر حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ہوئی آحر کار امسال اس کا ٹنڈر تو ہوگیا مگر اب نہ جانے یہ بجلی گھر کب تیار ہوگا۔جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بھٹو دور حکومت میں جب نصرت بھٹو چترال سے منتحب ہوکر رکن قومی اسمبلی منتحب ہوئی تھی اس وقت انہوں نے لاکھوں روپے کی لاگت سے ڈیزل جنریٹر چترال لائے تھے حالانکہ یہاں پانی کی کافی بہتات ہے اور پانی سے مفت بجلی گھر بھی بن سکتے تھے۔ وہ ڈیزل جنریٹر گرم چشمہ، بونی، مستوج، بریف،شاہگرام، اور دیگر علاقوں میں پہنچائے گئے ان کیلئے زمین بھی حرید کر عمارت بنایا گیا مگر ڈیزل جنریٹر نصب نہیں ہوئے اور اس وقت سے لیکر آج تک وہ ڈیزل جنریٹر زمین پر پڑے پڑے زنگ آلود ہوکر ناکارہ بھی ہوئے۔ اور یوں حکومت کو کروڑوں روپے کا ٹکہ لگ گیا۔ 

بالائی علاقے سے منتحب رکن صوبائی اسمبلی سید سردار حسین کا کہنا ہے کہ جب ریشن کا پن بجلی گھر سیلاب کہ وجہ سے تباہ ہوا۔ لوگ بجلی سے محروم ہوئے تو میں نے سندھ حکومت سے سید خورشید شاہ کے ذریعے درخواست کی کہ ہمیں جنریٹر فراہم کی جائے جس پر سند ھ حکومت کی صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے 250 KV کے تین عدد ڈیزل جنریٹر عطیہ کے طور پر بھیج دئے مگر ڈیزل مہنگا ہونے کی وجہ سے اس کی بجلی عوام کو فی یونٹ 32 روپے کا پڑتا ہے جو بہت زیادہ مہنگا ہے۔ اب اس میں تیل حتم ہوچکا ہے تو یہ جنریٹر بھی حاموش ہیں اور پورا علاقہ بجلی سے محروم ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ رمضان کیلئے ان کو دس لاکھ روپے کا گرانٹ دے تاکہ اس مقدس مہینے میں یہ ڈیزل جنریٹر چلا کر عوام کو بجلی فراہم کی جاسکے۔

1995 میں سابق وزیر اعلےٰٗ خیبر پحتون خواہ آفتاب شیر پاؤ نے اس ڈیزل جنریٹر کا افتتاح بھی کیا تھا مگر بعد میں وہ بند ہوا تھا۔ 

بونی کے رہنے والے ایک طالبہ جو نویں جماعت میں پڑھتی ہے فیضہ احسان کا کہنا ہے کہ بجلی گھر کی تباہ ہونے کی وجہ سے ہم بجلی سے محروم ہیں اور ہماری پڑھای بری طرح متاثر ہورہی ہے۔

معیظ نے ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ ہم رات کو لالٹین کی روشنی میں سبق پڑھتے ہیں جس سے ہماری آنکھیں حراب ہوئی۔

عصمت پری جو ایک گھریلوں خاتون ہے اور سلائی کڑھائی کرکے اپنے پانچ بچوں کو پڑھاتی ہے ان کا کہنا ہے کہ بجلی نہ ہونے سے میرا لیکٹرک موٹر سے چلنے والی سلائی مشین بھی بند ہے اور میری مزدوری بہت حراب ہوئی ہے جس کی وجہ سے میں اپنے بچوں کو اب صحیح طریقے سے نہیں پڑھا سکتی ہوں۔ مقامی لوگ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ریشن بجلی گھر کو جلد سے جلد دوبارہ تعمیر کیا جائے اور تب تک حکومت ڈیزل جنریٹر کیلئے مفت تیل فراہم کرے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget