اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

29 مئی، 2017

چترال کی حوبصورت وادی آیون سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

 



چترال(گل حماد فاروقی) چترال کو جنت کا تکڑا اور ایشیاء کا سویٹزرلینڈ بھی کہا جاتا ہے۔ ویسے تو پورا چترال نہایت حوبصورت ہے جہاں سرسبز پہاڑ، سفید اور میٹھے پانی کے قدرتی چشمے جہاں سے نہایت ٹھنڈا پانی نکلتا ہے، برف پوش پہاڑ اور بالائی علاقوں میں موسم گرما میں بھی گرم کپڑے اور رات کو کمبل اوڑھنا سیاحوں کیلئے معجزے سے کم نہیں۔

چترال آتے ہوئے راستے میں آیون کی حوبصورت وادی جو ماضی میں چترال کا دل سمجھا جاتا تھا جہاں ہر طرف ہلالی، حوبصورت اور سر سبز و شاداب لہلہاتے کھیت سیاحوں کو اپنے طرف کھینچ لاتے مگر بدقسمتی سے گاؤں کے نا عقبت اندیش لوگوں نے اس کی حوبصورتی کو نہایت متاثرکیا جہاں انہوں نے ان کھیتوں میں آبادی یعنی مکانات بنائے اور کچھ قدرتی طور پر سال 2015 سیلاب کی وجہ سے اس کی حوبصورتی بری طرح متاثر ہوئی جب سیلاب کا پانی دریا میں رک کر تالاب کا شکل بنایا جس نے آس پاس کھیت اور باغات کو اپنے لپیٹ میں لیکر ملبے تلے دبا دئے۔ 


تاہم اب بھی یہ وادی نہایت حوبصورت ہے یہ وادی کیلاش کی گیٹ وے ہے جہاں سے کیلاش جانے والے سیاح اس وادی سے گزرتے ہیں۔ یہ وادی تینوں طرف دریا جبکہ چوتھے جانب پہاڑی نے گھیرا ہوا ہے۔

وادی آیون میں دریا نے U (یو) شکل احتیار کی ہے دونوں جانب سبزہ اور بیچ میں دریا کی شورمچاتے ہوئے ٹھنڈا پانی جو دور سے سیاحوں کا دل مچاتی ہیں۔ اس وادی کے مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ سیاحت اس پر توجہ دے تو یہ سیاحت کا بہت بڑا مرکز بن سکتا ہے انہوں نے یہ بھی اعتراض کیا کہ ٹورزم کارپوریشن نے کیلاش قبیلے کے مذہبی رسم چیلم جوش کی تہوار منانے کیلئے صرف کاغذوں میں تقریباً بیس لاکھ روپے خرچ کئے جہاں غیر مقامی صحافیوں کو دو دن تک کوریج کیلئے NOC نہیں ملی اور اگر ملی بھی تو ان کے کیمرے حاموش لگتے ہیں کیونکہ اس تہوار کی کوئی حاص کوریج نہیں ہوئی۔ وادی کے لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ وادی آیون جو نہایت سیاحت افزا مقام ہے اور کیلاش کے تینوں وادیوں بمبوریت، رمبور اور بریر کی گیٹ وے ہے یہاں سے گزرکر ملکی اور غیر ملکی سیاح ان جنت نظیر وادیوں میں سیاحت کیلئے جاتے ہیں اگر یہاں سیاحوں کیلئے انفارمیشن ڈیسک اور ان کی قیام کیلئے کوئی عمارت تعمیر کی جائے تو اس سے سیاحت کو مزید فروغ ملے گا کیونکہ وادی آیون کے دریا میں ٹراؤٹ مچھلی بھی پائے جاتے ہیں اور قانونی طور پر ان کی شکار کیلئے ادایگی پر شکار کا پرمٹ بھی جاری کیا جاسکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں