جون 21, 2017

چترال کے تاریحی قصبہ دروش کے عوام گو نا گوں مشکلات سے دوچار، سیلاب سے تباہ حال سڑکیں تاحال جون کی توں ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں

 


چترال کے تاریحی قصبہ دروش کے عوام گو نا گوں مشکلات سے دوچار۔ دو سال قبل سیلاب کی وجہ سے تباہ شدہ سڑکیں اب بھی کھنڈرات کا منظر پیش کرتا ہے۔ کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔



چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے تاریحی قصبے دروش کے مضافاتی گاؤں ڈوم شغور جو دریائے چترال کے اُس پار واقع ہے۔ 2015 کے تباہ کن سیلاب نے اس گاؤں کا سڑک تباہ کیا تھا جسے بعد میں محکمہ مواصلات یعنی کمیونیکیشن اینڈ ورکس نے ٹھیکدار کے ذریعے بنوایا مگر ٹھیکدار نے سڑک کا کام ادھورا چھوڑ کر رفو چکر ہوا۔

علاقے کے معروف سماجی کارکن اکمل بھٹو نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ ٹھیکدار نے دریا کی جانب حفاظتی دیوار تو بنایا ہے مگر سڑک کی بھرائی نہیں کی اور سڑک کا سطح دریا سے نیچے ہونے کی وجہ سے جب پانی کا سطح بلند ہوجاتا ہے تو یہ پانی اس دیوار کے نیچے سے نکل سڑک پر آتا ہے جس سے راہگیروں بالحصوص سکول جانے والے بچوں اور بچیوں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جب پانی بہت زیادہ ہوتا ہے تو لوگ مجبوراً اس حفاظتی دیوار کے اوپر چڑھ کر سفر کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں جو انتہائی حطرناک ہے اور کسی بھی وقت بڑے حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اکمل بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی کا سیکرٹری اطلاعات بھی رہ چکے ہیں اور سابقہ صوبائی وزیر اور موجودہ رکن صوبائی اسمبلی سلیم خان کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے مگر انہوں نے بھی پانچ سالہ وزارت اور چار سالہ رکن صوبائی اسمبلی کی حیثیت سے ان کیلئے کچھ نہیں کیا اور سڑک کا حالت نہایت ابتر ہے۔ 

محمد افضل اس علاقے کا ایک باشند ہے اس کا کہنا ہے کہ اس سڑک کے ادھورے کام کی وجہ سے دو سو گھرانوں کو آنے جانے میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہوں نے کہا کہ ٹھیکدار نے کام ادھورا چھوڑا ہے اور انصاف کے دعویدار حکومت نے ان کے ساتھ کوئی انصاف نہیں کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کا جائز مسئلہ حل نہیں ہوا تو و ہ اپنے خواتین کو بھی لیکر احتجاج کا راستہ اپنائیں گے۔ 

زوہیب جو آٹھویں جماعت کا طالب علم ہے اس کا کہنا ہے کہ جب وہ گرمیوں کے موسم میں سکول جاتا ہے تو اس سڑک پر پانی کھڑا ہوتا ہے اور اس کے جوتے اور کپڑے بھی نہایت گندہ ہوتا ہے اس نے مزید بتایا کہ وہ سکول جاتے ہوئے نہایت ڈرتا ہے کہ کہیں دریا میں نہ گرے۔

اس سلسلے میں جب محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ایگزیکٹیو انجنئیر مقبول اعظم سے پوچھا گیا تو اس نے تسلیم کیا کہ ان کے پاس فنڈ کی کمی ہے اور جونہی صوبائی حکومت ان کو فنڈ فراہم کرے گا تو وہ اس سڑک کی بھرائی کرکے اسے ہموار کروائے گا تاکہ اس پر پانی کھڑا نہ ہو تاہم اس نے تردید کی کہ ٹھیکدار کو کوئی ادائگی نہیں ہوئی ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکدار نے جتنا کام کیا تھا اس کا م کا اسے پوری ادایگی ہوئی ہے تاہم تھوڑا سا رقم دینا باقی ہے ۔

ڈھوم شغور کے لوگوں نے انصاف کے دعویدار حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دو سو گھرانوں پر مشتمل اس گاؤں کی سڑک کو فوری طور پر تعمیر کرے اور اس گاؤں میں کم از کم ایک پرائمری سکول کھولے تاکہ یہاں کے سینکڑوں بچے اور بچیاں کئی کلومیٹر دور پر حطر راستوں پر جاکر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور نہ ہو بلکہ ان کو اپنے ہی گاؤں میں تعلیم کی سہولت میسر ہو۔

1 تبصرہ:
Write comments
  1. agar MPA Sahab apne he worker ke liye pichly 9 saal se kuch nehi kar saky to District Chitral or khususan Drosh ke liye unse ky tawaqo rakhen.

    جواب دیںحذف کریں

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget