جون 21, 2017

پاک افغان سرحدی علاقے وادی ارسون میں ایک ہی حاندان کے سولہ افراد ہیضے کی وباء میں مبتلاء۔ سات مریضوں کو دروش ہسپتال پہنچائے گئے۔

 

چترال(گل حماد فاروقی) پاک افغان سرحدی علاقے وادی ارسون میں گزشتہ رات ایک ہی خاندان کے سولہ افراد ہیضے کی بیماری میں مبتلا ء ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق سید رحیم اور نعمت رحیم جو دونوں سگے بھائی ہیں ان کے گھر میں سولہ افراد کے اس وقت پیچس اور الٹیاں لگی جب انہوں نے ایک حربوزہ کھایا۔ سید رحیم کے مطابق وہ حربوزہ جسے مقامی زبان میں خٹکے کہتے ہیں اسے ہم نے کھالیا جو زحمی تھا اور کچھ داغ لگے تھے اس کے کھانے کے بعد خواتین اور بچوں سمیت سولہ افراد کو ہیضہ لگ گیا۔


اس کے مطابق رات پاک فوج کے کرنل نے میڈیکل ٹیم بھجوایا اور دوائی بھی پہنچائے۔ تاہم ان کو کوئی حاص افاقہ نہیں ہوا۔ 
ان میں سے دو خواتین اور ایک بچی سمیت سات افراد کو تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال پہنچائے گئے۔ ہسپتال کا میڈیکل افیسر انچارج ڈاکٹر یعقوب سے فون پر بات ہوئی وہ کسی کام سے چترال بازار جارہا تھا تاہم ڈاکٹر فضل ربانی اور دیگر عملہ نے ان کی فوری علاج کیلئے اقدامات کئے۔ ہمارے نمائندے یہ خبر سن کر فوری طور پر ارسون روانہ ہوا تاہم معلوم ہونے پر وہ دروش ہسپتال گئے اور اس نے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کو بھی اطلاع دی۔ اے سی چترال عبد الاکرم نے یقین دہانی کرائی کہ ان کا ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر دروش سے ہسپتال جائے گا اور مریضوں کو تمام ادویات بھی مفت فراہم کریں گے۔ 

ہسپتال میں بجلی نہیں تھی اور سخت گرمی کی وجہ سے مریضوں کو نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا جبکہ ہسپتال کا جنریٹر بھی حراب تھا اور اس کی تیل کیلئے فنڈ بھی موجود نہیں تھا۔

اسی دوران اے اے سی دروش محمد یوسف اور تحصیلدار حاجی عبد السلام بھی دروش ہسپتال پہنچ گئے جنہوں نے مریضوں کا تیمارداری کی اور ہسپتال کے عملہ کو ہدایت جاری کی کہ ان کو مفت ادویات فراہم کرے۔

چونکہ ہسپتال کا انچارج (ایم ایس ) ڈاکٹر یعقوب تو موجود نہیں تھے تاہم سینئر میڈیکل افیسر ڈاکٹرفضل ربانی بتایا کہ ان مریضوں کو وہ مفت دوائی دیں گے تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ بجلی بھی نہیں ہے اور جنریٹر کیلئے تیل بھی موجود نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ہم جنریٹر چلانے کیلئے مریضوں سے تیل کا پیسے لیتے ہیں۔ 

ارسون کے لوگوں نے مطالبہ کیا کہ اس علاقے میں صحت کی تمام سہولیات فراہم کی جائے اور میڈیکل ٹیم روانہ کیا جائے ۔ واضح رہے کہ ارسون کا علاقہ پچھلے سال رمضان میں تباہ کن سیلاب کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہوا تھا جہاں 32 لوگ بھی جاں بحق ہوئے تھے اور وادی کی راستے او ر سڑکیں ابھی تک تباہ پڑی ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget