27 جولائی، 2017

چترال، کریم آباد سے تعلق رکھنے والے 24 افراد پر سنگین دفعات لگا کر گرفتار کر لیا گیا

چترال (رپورٹ کریم اللہ : ٹائمز آف چترال) چترال پولیس کی جانب سے کریم آباد لوٹکوہ سے تعلق رکھنے والے چوبیس افراد کو شوغورکے رہائشی شہزادہ حیدر الملک کی درخواست پر سنگین دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرکے گرفتار کیا گیا ہے۔ جن میں سابق ضلعی نائب ناظم سلطان شاہ، ممبر ضلع کونسل یعقوب خان، پاکستان تحریک انصاف چترال کے سابق ضلعی جنرل سیکرٹری اور آئیندہ عام انتخابات کے متوقع امیدوار اسرار صبور سمیت چوبیس افرادشامل ہیں۔ ان افراد کے خلاف اشتعال پھیلانے، مسلح بلوہ کرنے جیسے الزامات ہیں۔

چونکہ کریم آباد کے آخری گاوں سوسوم میں شہزادہ حیدر الملک کی زمین اور گھر بار موجود ہے۔ تاریخی طورپر شہزادہ موصوف سینکڑوں کی تعداد میں بکریاں سوسوم کے گرمائی چراگاہ میں لے جاتے تھے، لیکن چترال چونکہ موسمی تعیرات سے بری طرح متاثر ہوچکے ہیں، وقت بے وقت بارشوں کے سبب سیلابوں کی وجہ سے چترال کے کئی سرسبز وشاداب گاؤں برباد ہوکر رہ گئے ہیں۔ انہی عوامل کی بنا پر علاقہ کریم آباد کے لوگوں نے بکریاں پالنے پر مکمل پابندی عائد کررکھی ہیں۔ جس پر گزشتہ دس برسوں سے زائد عرصے سے عمل درآمد جاری ہے۔ اچانک سال روان میں شہزادہ حیدر الملک نے اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیس سو پچاس سے زائد بکریاں اس گرمائی چراگاہ تک پہنچا دیں۔ سوسوم کلسٹر کے عوام متفق ہو کران مویشیوں کو کسی قسم کا نقصان پہنچائے بنا شوغور تھانے میں لاکر پولیس کے حوالے کردیا۔ اس کے بعد شہزادہ حیدر الملک نے اپنی اثر ورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے کریم آباد کے تقریبا سارے نامی گرامی افراد کے خلاف سنگین مقدمات درج کیا۔ ان میں سے بعض ایسے افراد پر بھی مقدمات عائد کردئیے ہیں جن کا اس سارے جھگڑے سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ ان میں اسرار صبور جیسے لوگ بھی شامل ہے جن کا سوسوم کلسٹر سے کوئی تعلق نہیں صرف شک کی بنا پر ان کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق کریم آباد کے رہائشیوں پرایک سو سینتالیس، ایک سو اڑتالیس اور ایک سو انچاس کے جو دفعات لگے ہیں اس کا اطلاق انتشار پھیلانے اورہجوم کی صورت میں مسلح بلوے کے مرتکب افراد پر عائد ہوتی ہیں۔ جس کی کم از کم سزا تین سال ہوسکتی ہے۔ جبکہ دیگر دفعات میں جانوروں کو دانستہ طورپر نقصان پہنچانے اور مارنے کے مقدمات درج کردئیے گئے ہیں ۔ اس پر بھی تین سال سے زائد قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ حالانکہ حکومت نے علاقے کے لوگوں کی درخواست پر عوامی ملکیتی چراگاہ پر دفعہ ایک سو پینتالیس لگا دیا تھا، جس کے مطابق اس علاقے میں کسی بھی قسم کی مال مویشیاں لانے پر پابندی تھیں۔ شہزادہ حیدر المک نے اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چوری چھپکے راتوں رات بکریوں کا ریوڑ سوسوم پہنچادیا تھا۔

علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ شہزادہ حیدر الملک آج بھی ریاستی دور کے جبر وستم کو دوبارہ بحال کرنے کے خواہاں ہے اور اس کے پیچھے طاقتور سیاسی اور انتظامی ہاتھ ہے۔جس کی وجہ سے وہ علاقے کے شریف شہریوں کو اپنے اثر ورسوخ استعمال کرکے ہراسان کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ مذاحمت پر قانون کو خرید کر شہریوں کو ذدوکوب کررہے ہیں۔ حالیہ عمل اس سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ عوام کو ڈرا کر اپنے مالی و سیاسی مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔

سن دوہزار پندرہ کے تباہ کن سیلاب میں شعور کے ساتھ واقع گاوں آوی مکمل طورپر تباہ ہوچکے تھے، کیونکہ شہزادہ موصوف نے آوی کے اوپر واقع گرمائی چراگاہ میں ہزاروں کی تعداد میں بکریاں پال رکھے تھے جس کی وجہ سے زمین مٹی کے گرد وغبار میں تبدیل ہوچکی تھیں۔ بارشوں کے شروع ہوتے ہی آوی کے برساتی نالے میں تباہ کن سیلاب آیا جس کی وجہ سے سینکڑوں گھرتباہ ہوگئے ان میں سے ایک شہزادہ حیدر الملک کا قدیم تاریخی قلعہ بھی شامل تھا۔ جو کہ اب ملبے کے نیچے دب کر ختم ہوچکے۔

یاد رہے لوٹکوہ کے یوسی کریم آباد، یوسی شعور اور آرکاری میں شہزادہ فیملی کے مضبوط ووٹ بینک موجود تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget