21 جولائی، 2017

بیالیس (42) برس بعد ہی سہی، لواری ٹنل آخرکار مکمل ہو گئی

 

بیالیس (42) برس بعد ہی سہی، لواری ٹنل آخرکار مکمل ہو گئی

کرٹیسی:
www.dw.com/ur

پاکستان کی تاریخ کا ’طویل ترین ترقیاتی منصوبہ‘ لواری ٹنل بلآخر بیالیس برس بعد مکمل ہوگیا۔ ستّر کی دہائی میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شروع ہونے والے منصوبے کا افتتاح وزیراعظم نواز شریف نے کیا۔
وزیراعظم نواز شریف نے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین کو حدف تنقید بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ سیالکوٹ کی طرح اپیر دیر میں بھی نواز شریف نے پانامہ لیکس پر سپریم کورٹ کی سماعت کے حوالے سے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانامہ لیکس کو جواز بناکر جوکچھ کیا جارہا ہے وہ احتساب نہیں، استحصال ہے اور اس احتساب کو ملک میں کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔

نواز شریف نے کہا کہ انہیں سب سے زیادہ اپنی عزت پیاری ہے اور ’ایسے بے ہودہ الزامات ناقابل برادشت ہیں، روز صبح صبح اٹھ کر استعفٰی کی بھیک مانگنا شروع کردیتے ہیں، کیا نواز شریف ان کے ووٹوں سے وزیر اعظم بنا ہے؟ یہ کھیل تماشے اور سرکس بہت ہوچکے بہت دھرنے دیئے جاچکے عوام نے انہیں 2002 میں ٹھکرایا، 2008 میں ٹھکرایا، پھر 2013 میں ٹھکرایا اور انشااللہ 2018 میں بھی ٹھکرائے جائیں گے‘۔

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ملکی وزیر اعظم کا کہنا تھا، ’’ہم نے مخالفین کو موقع دیا کہ کم ازکم نیا خیبر پختونخوا ہی بنالو، لیکن وہ بھی ہم ہی بنا رہے ہیں اور نیا پاکستان بھی نواز شریف ہی بنائے گا۔‘‘ اسٹیج پر بیٹھے چترال سے آل پاکستان مسلم لیگ کے واحد رکن قومی اسمبلی افتخار الدین کو مخاطب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے کہا، ’’آپ نے علاقے کے لیے جتنے ترقیاتی منصوبے مانگے ہیں، سب کی منظوری دیتا ہوں مگر یہ آپ کی مرضی ہے کہ آل پاکستان مسلم لیگ میں رہیں یا نواز لیگ میں شامل ہوں میری طرف سے کوئی زبردستی نہیں ہے۔‘‘

لواری ٹنل دو حصوں پرمشتمل ہے جس پر مجموعی طور پر 22 ارب روپے لاگت آئی ہے۔ پہلا حصہ تقریباﹰ 9 کلومیٹر اور دوسرا حصہ 3 کلو میٹر پر محیط ہے جو پشاور سے چترال دیر، ملاکنڈ، مردان اور اطراف کے علاقوں کو ملاتا ہے۔ پشاور سے چترال کی چودہ گھنٹے کی مسافت اب نصف وقت میں طے ہوسکے گی۔

خیبر پختونخوا کے دور افتادہ پہاڑی ضلعے، چترال کے عوام کے لیے موسم سرما میں لائف لائن کی حیثیت رکھنے والی ملک کی سب سے بڑی سرنگ پر کام کا آغاز 1975 میں ہوا تھا، تاہم ملک میں تیسرے مارشل لا کے نفاذ کے بعد جنرل ضیاالحق نے فنڈز کی عدم دستیابی کو جواز بنا کر کام روک دیا تھا۔ گیارہ سال قبل جنرل مشرف نے ٹنل کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع کیا، مگر ریل ٹنل کو روڈ ٹنل میں تبدیل کردیا گیا جس کے باعث بھی یہ منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہوا۔

ٹنل کی تعمیر سے چترال اور اطراف کے علاقوں میں آباد پانچ لاکھ سے زائد افراد کو ہر موسم میں سفر کی سہولت دستیاب ہوگی۔ ٹنل کے منصوبے میں چار پل اور دونوں جانب رابطہ سڑکیں بھی شامل ہیں جس سے تین گھنٹے کا سفر اب محض پندرہ منٹ میں طے کیا جاسکے گا۔ دوسری ٹنل کی تعمیر سے پہاڑی کا بیشتر حصہ ختم ہوگیا ہے اور اب گاڑیاں ایک ٹنل سے نکل کر ایک پل کو عبور کرتے ہوئے دوسری ٹنل میں داخل ہوجائیں گی۔

مبصرین کے مطابق لواری ٹنل کا منصوبہ ایسے وقت میں مکمل ہوا ہے جب نواز شریف سیاسی طور پر مشکل حالات کا سامنا کررہے ہیں لہذا عوامی خطابات کے ذریعے مخالفین خصوصاٰ عمران خان کو جواب دینے اور اپنے آپ کو اعصابی طور پر مضبوط ظاہر کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔

اصل اشاعت ڈی ڈبلیو ٹی وی

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget