21 جولائی، 2017

شکریہ نواز شریف: تحریر طاہرالدین شادان

آج ہم تاریخ کے ایک نئے موڑ میں داخل ہوچکے ہیں جہاں سے ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہو چکا ہے یقینا لواری کے سنگلاخ پہاڑ ہمارے لئے موت کی وادی سے کم نہ تھے ہمارے کتنے عزیز و اقارب کو ان خونخوار پہاڑیوں نے نگل لئے 1972 میں موت کی اس وادی سے چترالیوں کو بچانے کے لئے اتالیق جعفر علی شاہ نے سوچا اس کے سامنے وادی موت سے چترالیوں کو بچا کر نکالنے کا ایک ہی راستہ تھا کہ یہاں کے سنگلاخ اور آسمان سے باتیں کرتی ہوئی پہاڑیوں کا سینہ چیر کر اس کے اندر سے راستہ بنایا جائے لیکن اس وقت اتنے وسائل کا انتظام کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا اس کے باوجود ہمارے محسن اتالیق جعفر علی شاہ مرحوم نے ہمت نہیں ہاری بلکہ اس کام کے لئے منصوبہ بندی کی انسان اگر ہمت نہ ہارے تو پہاڑوں کا سینہ چیرنا اس کے لئے معمولی بات ہے اتالیق جعفر علی شاہ مرحوم اس سوچ کو لے کر آگے بڑھے اور اس کے لئے موثر قدم اٹھایا آواز بلند کی جس کی گونج ایوان اقتدار میں بھی سنائی دی اس وقت کے غریب پرور وزیر اعظم مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے چترالیوں کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے جعفر علی شاہ مرحوم کے مطالبے کو نہ صرف منظور کیا بلکہ پروجیکٹ پر 1975 میں کام کا آغاز بھی ہوگیا بد قسمتی سے ایک سال بعد بھٹو مرحوم کی حکومت ختم کی گئی اور لواری ٹنل کا خواب حقیقت کا روپ دھارنے میں کامیاب نہ ہوسکا اس کے بعد یہ پروجیکٹ تیس سال تک بند رہا تیس سال بعد محسن چترال ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے چترالیوں کے ساتھ دلی محبت اور خلوص کی بنا پر اس ٹنل میں کام کا دوبارہ آغاز کر دیا اور ان کی دور حکومت کے خاتمے تک ٹنل کی کھدائی کا کام مکمل ہوگیا بعد میں پی پی پی کی حکومت آئی تو پی پی پی کے اس دور کے رہنماؤں نے بھٹو مرحوم کے اس یاد گار منصوبے پر کام میں رکاوٹ ڈال دئیے اگرچہ اس دور میں بھی کچھ فنڈ ریلیز ضرور ہوئے تاہم تین سال تک کام بند رہا جس کی وجہ سے پروجیکٹ کے تین قیمتی سال ضائع ہوگئے الیکشن 2013 میں مسلم لیگ نون کی حکومت بنی اور ٹنل میں دوبارہ کام شروع ہوگیا جو کہ بلا تعطل آج بھی جاری ہے چونکہ ذاتی طور میں پرویز مشرف اور نواز شریف کا مخالف ہوں لیکن مجھے لواری ٹاپ سے دو بار موسم سرما میں پیدل گزرنے کا اتفاق ہوا ہے اور جو تکالیف میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی وہ ناقابل بیان ہیں حالانکہ دونوں مرتبہ جب میں وہاں سے گزر رہا تھا موسم بالکل صاف تھا اس کے باجود میرے وجود کے تمام اعضا جواب دے چکے تھے ایک لمحے کے لئے میں نے شدید برف باری تیز ہوا اور بارش میں وہاں سے گزرنے والوں کے بارے میں سوچا تو مجھے احساس ہوا کہ پرویز مشرف سچ مچ محسن چترال ہیں اور نوازشریف سچ مچ ہمدرد چترال ہیں آج کا دن یقینا ہمارے لئے ایک یادگار دن ہے اس دن میں تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو محسن چترال پرویز مشرف اور ہمدرد چترال میاں نواز شریف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں لواری ٹنل پروجیکٹ کی تکمیل کی صورت میں نواز شریف نے چترالی قوم سے کیا گیا ایک وعدہ بھی احسن طریقے سے نبھایا ہے جبکہ مجھے اپنے چند دوستوں کے وہ الفاظ آج بھی یاد ہیں جب نواز شریف کی حکومت بنی تو انہوں نے کہا تھا کہ اب لواری ٹنل پر مزید پانج سال کام بند رہے گا کیونکہ نوازشریف چترالیوں کا دشمن ہے میری اپنی بھی یہی رائے تھی لیکن نوازشریف نے ہمارے موقف کو غلط ثابت کردیا اور خلاف توقع ٹنل پر نہ صرف کام کو جاری رکھا بلکہ ذاتی طور پر دلچسپی لے کر اس اہم ترین پروجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ۔

اب رہی یہ بات کہ کیا اس شاندار کارکردگی کے مقامی سیاست پر کچھ اثرات مرتب ہوں گے ؟

میری ذاتی رائے یہ ہے کہ پروجیکٹ کی تکمیل سے مسلم لیگ کے ووٹ بنک میں پندرہ سے بیس فیصد اضافہ ضرور ہوگا تاہم اگر مسلم لیگ نون چترال میں اپنا قابل ذکر ووٹ بنک بنانا چاہے تو کم از کم اعلان کردہ دو پروجیکٹس یعنی چترال یونیورسٹی اور چترال ہسپتال کا سنگ بنیاد الیکشن سے پہلے پہلے رکھنا ہوگا کیونکہ یہ وہ پروجیکٹ ہوں گے جن کا کریڈٹ براہ راست وفاقی حکومت کو جائے گا ہم پر امید ہیں کہ وزیراعظم شندور کے موقع پر بھی تشریف لائیں گے اور ان دو منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ کر چترال کو ترقی کی راہ پر گامزن کر کے مخالفین کو بھرپور عملی جواب دیں گے

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget