13 جولائی، 2017

ڈائمنڈ جوبلی سے ڈائمنڈ جوبلی تک: (فکر فردا) کریم اللہ

 

ڈائمنڈ جوبلی سے ڈائمنڈ جوبلی تک: (فکر فردا) کریم اللہ

آج سے اکہتر برس قبل سن انیس سو چھیالیس عیسوی میں نزاری اسماعیلی برادری کے آڑتالیسوین امام ہزہائی نس سر سلطان محمد شاہ آغاخان سوئم کا ڈائمنڈ جوبلی منایا گیا۔ اس موقع پر جمع ہونے والی رقم کو ہزہائی نس سرآغاخان نے حیدر آباد، سندھ، کراچی، ممبئی، ہنزہ، گلگت، غذر، چترال اور بدخشان جیسے پسماندہ علاقوں کی جماعتوں اور دوسری برادری کے تعلیم پر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی ڈائمنڈ
جوبلی کی مناسبت سے ڈے جے یعنی ڈائمنڈ جوبلی سکولوں کا قیام وجود میں آیا۔ اس سلسلے میں حیدر آباد، ممبئی، کراچی، ہنزہ، گلگت اور غذر میں ڈے جے سکول قائم ہوئے۔ گلگت بلتستان بالخصوص ہنزہ میں جو علمی انقلاب اور مادی ترقی آئی اس کے پیچھے انہی سکولوں کا بنیادی کردار ہیں۔ بدقسمتی سے چونکہ اس دور میں چترال پر ایسے سخت گیر حکمران مسلط تھے جو علم و تعلیم اور رعایا کی ذہنی ترقی کو اپنی حکومت کے لئے بدشگون خیال کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ چترال میں ان اداروں کے قیام کی اجازت نہیں دی گئیں۔ اور نہ خود ریاست چترال کے پاس اتنے وسائل اور ویژن تھے کہ وہ اپنے رعایا کے لئے تعلیم وتعلم کا بندوبست کرتے۔ اسی وجہ سے اس دور کے مہتر چترال ہزہائی نس محمد مظفر الملک نے چترال میں ڈائمنڈ جوبلی سکولوں کے قیام کی اجازت نہیں دیں۔

اس کے پیچھے کئی ایک تاریخی عوامل کافرما تھے، جن میں آج سے ٹھیک ایک سو برس قبل یعنی انیس سو سترہ کو مستوج سے پیر بلبل شاہ کی قیادت میں جنم لینے والی اس تحریک کا بھی کردار تھا جس میں مستوج کے عوام پر مسلط کی جانے والی ناجائز ٹیکسوں یعنی عشر کے خلاف عوام بغاوت پر اتر آئے تھے، اور ریاست کو ٹیکس یعنی عشر ادا کرنے سے انکار کیا تھا۔ اس نافرمانی کو بھولنا ریاستی حکمرانوں کے لئے ممکن نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی کے ابتدائی پانچ عشرے تو چترال کے اسماعیلیوں کے لئے انتہائی تکلیف دہ ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ اس دوران دو مرتبہ مہتران چترال کی جانب سے اسماعیلیوں کو زبردستی مذہب تبدیل کروانے اور انکار پر تشدد، سماجی بائیکاٹ، جائیدادوں سے بے دخلی اور ریاست بدر تک کی سزائیں دی گئیں۔ انیس سو چوبیس عیسوی میں شاہ شجاع الملک حج سے واپسی کے بعد چترال میں سینکڑوں برسوں سے مقیم اسماعیلیوں کو بزورطاقت مذہب تبدیل کروانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اگر کسی نے انکار کیا تو ان کو ہر طرف سے ذدو کوب کیا گیا، ان کی جائیدادین ضبط کی گئیں اور انہیں گھروں سے بے دخل کردیا گیا۔ جو بالآخر حکومت برطانوی ہند کی مداخلت کے باعث اختتام پزیر ہوا۔ اس کے بعد انیس سو چھتیس عیسوی میں مہتر محمد ناصرالملک نے ایک مرتبہ پھر اپنے اسماعیلی رعایا کے گرد گھیرا تنگ کیا۔ اس مرتبہ ریاست نے سارے حدود پھلانگ دئیے۔ سنی العقیدہ مورخ اور استاد پروفیسر رحمت کریم بیگ کے مطابق''

A second attempt to impose Sunni Islam on the Ismailis was made in 1936 by Mohammad Nasirul  Mulk soon after he was installed as
Mehtar. This time round, the Mehtar threatened to confiscate  property and withdraw privileges, while at the same time offering land, money, clothing and horses as bait to those who converted.
There were some who could not resist the temptation but the majority of Ismailis refused to compromise and instead fled their homes, taking refuge outside Chitral. Many went to Bombay,
which was by that time the seat of their spiritual leader, Sir Sultan Mahomed Shah, Aga Khan III. Others travelled to Kashghar in eastern Turkistan and to Zebak in the Badakhshan province of
Afghanistan. Following this exodus, in Chitral itself a large-scale boycott of Ismailis was organised. For several months, members of the community were denied access to critical resources and facilities such as roads and water channels.
(Chitral A Study in Statecraft pg 88)

یہی وہ تاریخی عوامل تھیں جس کی بنا پر حکمرانان چترال یہاں پر کسی بھی قسم کی تعلیمی سرگرمیوں کی اجازت دینے کو تیار نہیں تھیں۔ اور جب آغاخان سوئم نے علاقے کی تعمیر وترقی کے لئے یہاں ڈائمنڈ جوبلی سکول قائم کرنے کا فیصلہ کیا تو مہتر چترال نے ان سکولوں کے قیام کی اجازت نہیں دی۔ دیکھا جائے توچترالی قوم کو پسماندہ رکھنے میں ہمارے ریاستی حکمرانوں نے ایک سے بڑھ کر ایک کردار ادا کرتے رہے۔

لیکن چترال سے کٹورشاہی خاندان کے پرآشوب تاریک دور کو بھی گزرے عشرے بیت گئے۔ اسی دوران آج سے ساٹھ برس قبل آغاخان سوئم کی انقلابی قیادت کے بعد پرنس کریم کی صورت میں ایک اور ولولہ انگیز رہنما کی قیادت اسماعیلیوں کو نصیب ہوئی۔ حالات میں دھیرے دھیرے بہتر ہوتی چلی گئیں۔ لیکن چترال کے اسماعیلی قیادت اور اے کے ڈی این کے اہلکاروں نے پرنس کریم کے وژن کو آگے بڑھانے میں کوئی انقلابی کردار ادا نہیں کیا۔ بس معاشرہ جس سمت میں چل رہا ہے اس سے صرف چند ہی قدم آگے ہم بھی محو سفر ہیں۔ آغاخان ایجوکیشن سروس تقریبا انیس سو پچاسی سے چترال میں کام شروع کیا۔ لیکن دو ہزار دس تک آغاخان سکولوں میں بھی وہی روایتی انداز سے تعلیم دی جاتی رہیں۔ گرچہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے میں حوصلہ افزائی ضرور ہوئی لیکن معیار نہ ہونے کی وجہ سے آغاخان سکولوں کے طالبات ماسوائے نرس بننے کے اور کسی اعلی پوسٹوں پر نظر نہیں آتے۔ اب بھی یہی سلسلہ جاری ہے۔ دنیا کس سمت میں روان ہے اور ہماری ترجیحات کیا ہے؟ اس پر آج ہی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget