29 جولائی، 2017

دو سالوں سے تاریکی میں ڈوبا ہوا بالائی چترال

 

دو سالوں سے تاریکی میں ڈوبا ہوا بالائی چترال 

فکر فردا کریم اللہ
سترہ جولائی سن دوہزار پندرہ عیسوی کی رات چترال میں پہلی مرتبہ موسم سون کی ہوائیں داخل ہونے کے ساتھ بارشوں کا آغاز ہوا۔ اسی روز چترال کے بڑے حصے بالخصوس سب ڈویژن مستوج کو بجلی فراہم کرنے والے چار اعشاریہ دو میگا واٹ کے ریشن پاور ہاوس نے جواب دینا شروع کیا۔ ایک ہفتہ بعد چوبیس جولائی کو ریشن کے آبی نالے یعنی ریشن گول تباہ کن سیلابی ریلے کی زد میں آیا جس کے نتیجے میں  ریشن پاور ہاوس کے ساتھ ساتھ اس حسین گاوں کا بڑا حصہ بھی سیلاب برد ہوگیا۔ دن ہفتوں، ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں میں تبدیل ہوگئے لیکن حکومت وقت اور عوامی نمائندگان کو اس بجلی گھر کی دوبارہ بحالی یا عارضی طورپر اس کا متبادل تلاش کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔ آج اس بجلی گھر کو تباہ ہوئے اور علاقے کو تاریکی میں ڈوبے دو برس مکمل ہوچکے ہیں۔ ان دو برسوں میں حکومت کو عوامی مشکلات کے آزالے اور بجلی گھر کی دوبارہ بحالی کا خیال نہیں آیا۔ ریشن پاور ہاوس کے ایک اعلی عہدے دار کے مطابق چار اعشاریہ دو میگاواٹ کے اس بجلی گھر سے سولہ ہزار گھرانے مستفید ہورہے تھے، اور آخری وقت تک ریشن پاور ہاوس سے فی ماہ چالیس سے پینتالیس لاکھ روپے کا ریونیو حاصل ہورہا تھا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ریشن پاور ہاوس کی تباہی سے لے کر آج تک یعنی گزشتہ دو برسوں میں حکومت کو گیارہ کروڑ پچیس لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ لیکن نااہل حکومت کو اس نقصان کا ذرا بھی ادراک نہیں۔
بجلی گھر کو سیلابی ریلے سے نقصان پہنچنے کی وجہ بھی انتظامی بے حسی تھی۔ اگر بروقت آبی نالے میں موجود بڑے بڑے پتھروں کو بلاسٹ کرکے سیلابی ریلے کے لئے راستہ صاف کیاجاتا اور حفاظتی پشتوں کی بروقت تعمیر کی جاتی تو شائد سیلابی ریلے سے بجلی گھر کو کوئی نقصان نہ پہنچتا، لیکن آفسوس اس بات کی ہے کہ محکمہ پیڈو کے کرپٹ عہدے داروں کو اس کی توفیق نہ ہوئی اور نہ ہی حکومت کو اس بجلی گھر کو لاحق خطرات کا ادراک ہوا، جس کا نتیجہ میں حکومت سونے کے انڈے دینے والی چڑیا سے محروم ہوگئیں۔ گزشتہ دو برسوں سے سولہ ہزار صارفین بجلی کی نعمت سے محروم ہیں۔ علاقے میں کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہوکر رہ گئی ہے۔ کمرشل علاقوں اور بازاروں میں دو روپے کی فوٹو اسٹیٹ کے لئے پچاس روپے وصول کئے جارہے ہیں۔ 
ایک برس قبل دسمبر دو ہزار سولہ میں خیبر پختونخواہ حکومت نے ریشن بجلی گھر کی بحالی کے بجائے ستائس سو سولر سبسیڈی ریٹ پہ دینے کا فیصلہ کیا۔ جس پر اربوں روپے خرچ ہوئے لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچا۔
جون سن دوہزار سولہ میں حالات سے مجبور ہوکر صارفین نے ریشن کے مقام پر احتجاجی بھوک ہڑتال کا فیصلہ کیا جو کہ کم و بیش بیس دن سے زائد عرصے تک جاری رہنے کے بعد بالآخر ایم پی اے مستوج سید سردار حسین کے وزیر اعلی کے پی پرویز خٹک سے ملاقات کرکے چوراسی کروڑ روپے جاری کرنے کے اعلان کے بعد اختتام پزیر ہوا۔ اور وزیر اعلی پرویز خٹک نے وعدہ کیاتھا کہ اگست دوہزار سولہ میں اس بجلی گھر کی بحالی پر باقاعدہ کام شروع ہوگا۔ لیکن آج ایک برس اور بیت جانے کے باوجود وزیراعلی کا وعدہ ایفا نہ ہوسکا،اور ابھی تک اس پر کام شروع نہ ہوسکا، شائد اس سال بھی کام کے شروع ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
تبدیلی کے دعوے داروں کو دھرنوں اور پنجاب پر قبضہ جمانے کی کوششوں سے فرصت نہیں ملتی اور عوام پر کیا بیت رہی ہے اس کا کچھ علم حکومت وقت کو نہیں۔ محض خالی خولی بیانات اور اشتہار بازی ہی موجودہ صوبائی حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ چند ہفتے قبل چیرمین پی ٹی آئی عمران خان، درجن بھر کابینہ اور وزیر اعلی کے ہمراہ کئی دنوں تک چترال میں مقیم رہنے کے بعد چلے گئے لیکن اس دوران موصوف یا اس کے صوبائی وزیر اعلی کو عوامی مشکلات کا تدارک کرنے کا خیال نہ آیا۔ بلکہ سارے افراد ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر چترال کا ہوائی وزٹ کرنے، چترال کے ایک ہوٹل میں گپ شپ میں مصروف رہنے اور مستوج قلعہ تشریف لا کر شہزادہ سکندر المک کو پارٹی میں شامل کرنے کے اور کوئی ڈھنگ کا کام نہیں کیا۔ درحقیقت موجودہ حکومت کے پاس نہ کوئی پلان ہے اور نہ ہی وژن۔ یہی اس قوم کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget