21 جولائی، 2017

افتتاح کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ لواری ٹنل کا ایک اور افتتاح انجام پایا، اس پہلے اسکا تین دفعہ افتتاح اور دو مرتبہ سنگ بنیاد رکھا جاچکا

 

افتتاح کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ لواری ٹنل کا ایک اور افتتاح انجام پایا، اس پہلے اسکا تین دفعہ افتتاح اور دو مرتبہ سنگ بنیاد رکھا جاچکا

بلاگ: تحریر عبدالحسیب حیدر

اہل چترال کیلیے اس منصوبے کی اہمیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں , یہ بلاشبہ چترال کیلیے ایک انقلابی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، لواری ٹنل کی عام ٹریفک کیلیے مستقل کھلنے پر چترال میں اشیاء کے نرخوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئیگی، دوسرا ٹرانسپورٹ اور سپلائی لائن بحال ہونے پر سرکاری محکموں کی کارکردگی اور بنیادی سہولیات کی فراھمی میں بھی واضح بہتری دیکھنے میں آئیگی۔



لواری ٹنل کی تعمیر کا کریڈٹ بلاشبہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے سر ہے انہی کے دور میں پراجیکٹ کا 60 سے 70 فیصد کام تیز ترین رفتار سے مکمل ہوا اور پراجیکٹ کی مکمل تکمیل 2009 میں ہونا قرار پائی بظاہر لگ بھی ایسا ہی رہا تھا کہ مقررہ مدت میں یہ پراجیکٹ پایہ تکمیل کو پہنچ جائیگا لیکن قدرت کو ابھی اہلیان  چترال کا مزید امتحان لینا مقصود تھا، جنرل پرویز مشرف کا اقتدار سے فارغ ہونے اور پیپلز پارٹی کا اقتدار میں آنے کے بعد لواری پراجیکٹ " عجب کرپشن کی غضب کہانی " بن گیا، لواری ٹنل کی تعمیری پراجیکٹ کا حصہ ہونے کے ناطے یہ بات وثوق سے کہتا ہوں کہ اس بڑے پراجیکٹ میں ہونے والی کرپشن پہ 10 والیوم کی رپورٹ شائع کی جاسکتی ہے , جس میں سب بڑا حصہ ن لیگ کی حکومت کے دوران کا ہے , تعمیراتی کمپنی " سامبو " نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ ہی نہیں دھوئے بلکہ سر تا پیر اشنان کیا , پاک فوج کے کالے بھیڑوں نے بھی اپنا حصہ بقدر حبثہ وصول کیا، امیر مقام ن لیگ کیطرف سے اس کرپٹ کہانی کے ایک کردار کے طور پر اپنا رول ادا کرتے رہے ، ن لیگ کے اعلان کردہ 28 ارب میں ن لیگی حصہ 5 سے 7 ارب کے درمیان رہا، اب یہ کس کس کے جیب میں گیا , کتنا کتنا گیا یہ امیر مقام ہی بہتر طور پہ بتا سکتے ہیں۔ پراجیکٹ کا آٹھ سال تک تاخیر کا شکار ہونے کے پیچھے بھی یہی کرپٹ مافیا ہی ہے۔

اہل چترال کیلیے اس خوشی کے موقع پر ایک بری خبر یہ کہ پراجیکٹ ابھی مکمل طور پہ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا، اور یہ افتتاح بھی پچھلے افتتاحوں کیطرح محص سیاسی ہی ہے , کیونکہ ٹنل سے ملحقہ روڈز , پل اور آبی گزرگاہیں ابھی تعمیر ہونا باقی ہیں، جسکے بغیر ٹنل کی افادیت نہ ہونے کے برابر ہے اور ٹرانسپورٹر طبقہ ہنوز ٹاپ کو ٹنل پہ ترجیح دے رہے ہیں، شنید ہے کہ اس ضمن میں ایک اور افتتاح پہ تالیاں بجانے کا موقع میسر آئے۔


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget