اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

8 جولائی، 2017

صدی پرانا جھولا پل کسی بھی وقت حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔ ماضی میں کسی بھی حکومت نے اس کی مرمت یا تعمیر کے بارے میں کچھ نہیں کیا۔

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے تاریحی قصبے دروش میں اوسیک کے مقام پر صدی پرانا جھولا پل جو لکڑی سے بنا ہوا ہے نہایت حطرناک ہے۔ اس پل کی بولٹ اور نٹ بھی کسی نے کھولے ہیں ۔ اس پل پر ایک وقت میں صرف ایک چھوٹا گاڑی جاسکتا ہے۔ 

یونین کونسل دروش کے سابق ناظم حیدر عباس کا کہناہے کہ یہ پل برطانیہ سرکار نے بنایا تھا کیونکہ اس وقت اوسیک میں ہوائی اڈہ تھا اس کے بعد حکومت پاکستان نے اس کی 1982 میں مرمت کی مگر اس کے بعد کسی نے اس کی دوبارہ تعمیر یا مرمت پر کوئی توجہ نہیں دی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پل کی وجہ سے یہاں کئی حادثے پیش آچکے ہیں اور کئی قیمتی جانیں ضائیع ہوئی ہیں۔ بلکہ چند سال قبل سکول کے دو طالبات بھی اسی مقام پر دریا میں گر کی جاں بحق ہوئی تھی۔
تاجر یونین دورش کے صدر حاجی شاد محمد کا کہنا ہے کہ دروش کی نصف آبادی اس پل کے اس پار آباد ہیں جبکہ پل کی حالت نہایت کمزور اور حراب ہے جس کی وجہ سے تاجر پیشہ لوگ اپنا بھار ی سامان بھی اس پل کے اوپر سے نہیں گزار سکتے ہیں اور اکثر یہاں آکر گاڑی سے سامان نیچے اتارنا پڑتا ہے۔

مقامی لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس پل کو فوری طور پر مسمار کرکے اس کی جگہہ سیمنٹ کی RCC پُل تعمیر کی جائے اور ساتھ ہی اس پل تک جو سڑک ہے وہ بھی نہایت حطرناک ہے اس سڑک کے کنارے دریا کی جانب حفاظتی دیوار تعمیر کی جائے تاکہ ایک بار پھر کسی بڑے حادثے کا باعث نہ بنے۔

کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

نوٹ: ٹائمزآف چترال کی انتظامیہ اور اداراتی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ آپ کا نقطہ نظر پاکستان اور دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچے توآپ بھی قلم اٹھائیے اور 400 سے 700 الفاظ پر مشتمل اپنی تحریر تصویر، مکمل نام، فون نمبر، سوشل میڈیا آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعار ف کے ساتھ ہمیں ای میل کریں ای میل ایڈریس timesofchitral@outlook.com آپ اپنے بلاگ کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لنک بھی بھیج سکتے ہیں۔

اپنے فیس بک آئی ڈی سے بھی آپ ویب سائیٹ پر کسی نیوز
یا بلاگ پر کومنٹ کرسکتے ہیں۔

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

loading...

تازہ ترین خبریں