11 اگست، 2017

پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ اور جرمن ترقیاتی بینک کے درمیان معاہدہ، دور دراز علاقوں میں بہتری کے لئے 10کروڑ یورو کی فراہمی



پی پی اے ایف اور جرمن ترقیاتی بینک کے درمیان معاہدہ:  جرمن ترقیاتی بینک کے ایف ڈبلیو (KfW)کی جانب سے دس کروڑ یورو سرمائے کی فراہمی

پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے انفراسٹرکچر فراہم اور لوگوں کی آمدن میں اضافہ ہوگا

اسلام آباد:۔ پاکستان اور جرمنی کے درمیان ترقیاتی تعاون پر مشاورت کا آغاز ستمبر 2015 میں ہوا۔ اس ضمن میں چھوٹے طبقے کی آمدن میں تعاون اور اسکے فروغ کے پروگرام (ایل اے سی آئی پی) کے دوسرے مرحلے میں ایک کروڑ یورو فراہم کئے گئے ہیں۔ اس منصوبے کو تین سال میں مکمل کیا جائے گا جس کی بدولت تحصیل اور کونسل کی سطح پر دیہات کے لوگوں کو آمدن میں بہتری اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لئے بڑے پیمانے پر فیصلہ سازی میں مدد ملے گی۔ خیبرپختونخوا کے منتخب اضلاع میں اس پروگرام کو اس طرح تیار کیا گیا ہے جس سے مقامی سطح پر اصلاحات لانے میں مدد ملے گی۔ ایل اے سی آئی پی پروگرام کے پہلے مرحلے میں 31.5 ملین یورو فراہم کئے گئے اور یہ پروگرام دسمبر 2017 تک مکمل ہو جائیگا ۔ 

پاکستان پاورٹی ایلیوئیشن فنڈ (پی پی اے ایف) نے ایل اے سی آئی پی پروجیکٹ کے لئے جرمن ترقیاتی بینک کے ایف ڈبلیو (KfW) کے ساتھ معاہدہ کیا ہے ، اس پروجیکٹ کے لئے کے ایف ڈبلیو نے سرمایہ فراہم کیا ہے۔ جرمن ترقیاتی بینک میں گورننس اینڈ پیس ڈیویژن کے حکام میں شامل ایلکے میٹزن نے حال ہی میں اسلام آباد کا دورہ کیا اور اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کے لئے دس ملین یورو کی مالیت کا نیا معاہدہ کیا ہے۔ 

ایلکے میٹزن نے اسلام آباد میں اپنے قیام کے دوران پی پی اے ایف کے شراکتی اداروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔ ایل اے سی آئی پی پروگرام کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کرانے کے لئے پی پی اے ایف کا کردار شامل ہوگا۔ اس ضمن میں پی پی اے ایف کی جانب سے پروگرام کے ڈیزائن، طریقہ کار اور عمل درآمد کی حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔ایلکے میٹزن نے شانگلہ اور بونیر اضلاع کی مقامی حکومتوں کے نمائندوں کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں اور اس پروگرام کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں جبکہ مختلف مسائل اور ان سے متعلق ممکنہ سہولیات پر بھی گفتگو ہوئی ۔

اس پروگرام کے ذریعے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی شمولیت سمیت انفراسٹرکچر کے مختلف منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔ ماحولیات سے مطابقت کو بحال کیا جائے گا، اسے بہتر بنایا جائیگا اور بقدر ضرورت ازسرنو شکل دی جائے گی۔ اسی طرح آمدن میں بہتری لانے، مہارتوں کے لئے تربیت اور متعلقہ اثاثہ جات کی منتقلی پر بھی عمل درآمد کیا جائے گا۔ 

اس پروگرام سے مستفید ہونے والوں کو فعال بنا کر مختلف گروپوں میں منظم کیا جائے گا اور مقامی حکومت کے اشتراک سے گاو ¿ں کی جامع ترقی پر توجہ کے ساتھ ادارہ جاتی بنیادوں پر ترقی لائی جائے گی۔ 

اس پروگرام کے دوسرے مرحلے کا کام خیبرپختونخوا کے اضلاع شانگلہ، بونیر اور لکی مروت کے منتخب علاقوں میں کیا جائے گا جہاں پی پی اے ایف کے شراکتی ادارے گاو ¿ں یا کونسل کے قریبی علاقے میں مستفید ہونے والوں کے ساتھ باہمی مشاورت کے ذریعے شراکتی طریقہ اختیار کرکے مختلف ترقیاتی منصوبے تیار کریں گے اور خصوصی اقدامات کی نشاندہی کے ساتھ انہیں ترجیح دی جائے گی۔ 

اس دورے کے دوران ایلکے میٹزن نے کے ایف ڈبلیو کی جانب سے فراہم کردہ سرمائے سے ایل اے سی آئی پی پروگرام کی پیش رفت اور عوام پر انکے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے شانگلہ اور بونیر اضلاع کا دورہ کیا۔ پی پی اے ایف نے نیشنل رورل سپورٹ پروگرام اور سرحد رورل سپورٹ پروگرام کے ذریعے اس پروگرام پر عمل درآمد کیا۔ 

ایلکے میٹزن نے ان علاقوں میں شراکتی اداروں کے ذریعے پی پی اے ایف کے ترقیاتی کام کو سراہا۔ انہوں نے کہا، 'اس دورے کے دوران میں نے مقامی لوگوں سے بات چیت کی اور اپنے علاقوں کی بہتری کے لئے بھرپور محنت جاری رکھنے پر ان کی حوصلہ افزائی کی تاکہ وہ ہمارے ساتھ مل کر موجودہ اور نئے پروجیکٹس پر بھی کام کریں۔ ہم ان ترقیاتی کاموں پر عمل درآمد اور صوبے کے دوردراز علاقوں میں جامع ترقی کے منصوبوں میں مقامی حکومت کے اشتراک کو سراہتے ہیں۔ ' 

ڈپٹی کمشنر ڈسٹرکٹ بونیر ظریف المانی نے بتایا، 'اس پروگرام میں انتہائی پسماندہ دیہات کی نشاندہی اور ترقیاتی منصوبوں پر کامیابی سے عمل درآمد کی نگرانی کے لئے ہماری جانب سے مکمل تعاون ہے۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ان ترقیاتی کاموں کے اثرات سے پہاڑی علاقوں اور سہولیات سے محروم دور دراز مقامات کے غریب افراد کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔ ہم نے بونیر میں پی پی اے ایف اور اسکے شراکتی اداروں کے موجودہ ترقیاتی کام کو سراہا ہے ، ہم ان ترقیاتی منصوبوں پر مل کر عمل درآمد کریں گے اور موثر انداز سے فنڈز استعمال کریں گے۔ ' 

پی پی اے ایف کی سینئر گروپ ہیڈ گرانٹس آپریشنز سیمی کمال نے بتایا، 'ان علاقوں میں ترقی کے لئے مقامی افراد کی بھرپور شرکت اور دیگر اداروں سے فعال رابطوں کو دیکھنا باعث مسرت ہے۔ اس پروجیکٹ کا مثبت اثر یہ ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں خواتین حقیقی طور پر شریک ہیں جبکہ فیصلہ سازی میں مزید خواتین شامل ہیں۔' 

اس دورے کے دوران جرمن ترقیاتی بینک کے ایف ڈبلیو اور پی پی اے ایف کے حکام نے حکومتی نمائندوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں جن میں ضلع بونیر کے ناظم ڈاکٹر عبیداللہ خان، نائب ناظم یوسف علی خان، ضلع شانگلہ کے ناظم نیاز احمد خان اور اسسٹنٹ کمشنر شانگلہ طارق محمود شامل تھے۔ 


کوئی تبصرے نہیں:
Write comments

خبروں اور ویڈیوز کے لئے ہماری ویب سائیٹ وزیٹ کیجئے: پوسٹ پر تبصرہ کرنے کے لئے شکریہ۔ آپ کا تبصرہ جائزے کے بعد جلد پیج پر نمودار ہوجائے گا۔ شکریہ

تازہ ترین

مشہور اشاعتیں

تازہ ترین خبریں

Recent Posts Widget